نئی دہلی:گزشتہ روز پارلیمنٹ میں مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے سرکار سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ سرکار یہ قانون بنائے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو اگر کوئی پاکستانی کہتا ہے تو اسے تین سال جیل کی سزا دی جائے۔اویسی کے اس مطالبہ پر تبصرہ کرتے ہوئے بی جے پی کے لیڈر ونئے کٹیار نے انتہائی متنازعہ بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے ،جب زمین تقسیم کرکے ان کو دے دی گئی تو پھر ہندوستان میں مسلمانوں کو نہیں رہنا چاہیے تھا ،انہیں اب بنگلہ دیش یا پاکستان چلے جانا چاہیے ،یہاں ان کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے اور ناہی اس ملک کو ان کی ضرورت ہے۔ونئے کٹیار کے اس متنازعہ بیان پر کافی ہنگامہ ہوا ،اویسی نے جواب میں ونئے کٹیار کے بیان پر بس اتنا کہا کہ چراغ بجھنے سے پہلے بہت پھڑپھڑاتا ہے ۔وہیں اب اس پورے ہنگامہ میں ایک اور نام شامل ہوگیا ہے اور وہ نام جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلی فاروق عبد اللہ کا ہے ۔انہوں نے ونئے کٹیار کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستان ونئے کٹیار کے باپ کا نہیں ہے،یہ ہمارا ملک ہے،آپ کا ملک ہے ،ہم سب کا ملک ہے۔ونئے کٹیار مذہب کے سہارے نفرت کی سیاست کرتے ہیں ،جبکہ کوئی مذہب نفرت کرنا نہیں سیکھاتا ،ہر مذہب پیار محبت کرنے کو کہتا ہے ،ہر مذہب کے اندر آپسی محبت و بھائی چارگی کو فروغ دینے کی تعلیم دی گئی ہے اور یہ لوگ مذہب کے نام پر گندی سیاست کر رہے ہیں۔  

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here