خصوصی رپورٹ

نئی دہلی:نوجوانوں کیلئے آج روزگار حاصل کرنا سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے ۔جہاں ایک طرف نوجوانوں کو روزگار نہیں مل رہا وہیں دوسری طرف پی ایم مودی پکوڑہ بنا کر بیچنے کو روزگار بتا رہے ہیں۔البتہ سوال پھر بھی وہی ہے کہ پڑھے لکھے نوجوان کیا پکوڑے بیچیں گے؟؟وہیں دوسری طرف لیبر بیورو سے بے روزگاری کے جو اعداد وشمار مل رہے ہیں وہ اپنے آپ میں حیرت میں ڈال دینے والے ہیں ۔
  •  اعداد وشمار کے مطابق بھارت دنیا کا سب سے زیادہ بے روزگاروں کا ملک بن گیا ہے۔
  • بھارت کی گیارہ فیصدی آبادی یعنی 12 کروڑ لوگ بے روزگار ہیں۔
  • 16۔2015 میں بے روزگاری کی شرح پانچ سال کے سب سے اعلی سطح تک پہنچ گئی۔
  • جہاں 12 کروڑ لوگ بے روزگار ہیں ،وہیں 2015 میں صرف ایک لاکھ 35 ہزار لوگوں کو ہی نوکریاں ملی ۔
  • وہیں چار سال سے یعنی مودی سرکار میں ہر دن 550 نوکریاں ختم ہورہی ہیں۔
  • ان چار سالوں میں خواتین کی بے روزگاری کی شرح 7۔8 تک پہنچ گئی ہے۔
  • لیبر ایمپلائمنٹ کی رپورٹ کے مطابق سیلف ایمپلائمنٹ کے مواقع کم ہوگئے ہیں اور نوکریاں بہت کم ہوئی ہیں۔
کہتے ہیں کہ پڑھنے لکھنے کے بعد اچھی نوکری مل جائے گی ،لیکن اعداد وشمار کے مطابق بے روزگاروں میں پڑھے لکھے نوجوانوں کی تعداد سب سےزیادہ ہے۔جس میں 25 فیصدی 20 سے 24 سال کی عمر والے نوجوان ہیں ،جبکہ 25 سے 29 سال کی عمر والے بے روزگار نوجوانوں کی تعداد 17 فیصدی ہے۔29 سال سے زیادہ عمر کے 30۔14 کروڑ نوجوانوں کو نوکری کی تلاش ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتی بے روزگاری کے یہ اعدادوشمار سرکار کےلئے سب بڑا چیلنج ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ
اقوام متحدہ کی لیبر آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق 2018 میں بھارت کے اندر بے روزگاری موجودہ صورتحال سے مزید خراب ہوسکتی ہے۔جو بے روزگار نوجوانوں کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔
پرانے سروے پر ایک نظر
سال 2017 کے ابتدائی چار مہینوں کو لیکر سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانامک پرائیوٹ لمیٹیڈ نے ایک سروے کیا تھا ،جس میں پایا تھا کہ جنوری سے اپریل میں قریب 5۔1 ملین لوگوں نے اپنی نوکری گنوائی ہے اور بےروزگاری کا گراف تیزی سے بڑھا ہے۔یہ سروے نوٹ بندی کے بعد ہوا تھا۔یاد رہے کہ نوٹ بندی کا اعلان 8 نومبر 2016 کو ہوا تھا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here