پارلیمنٹ کے رواں سیشن میں  پی ایم مودی کی تقریر کے دوران کانگریس کی خاتون لیڈر رینوکا چودھری نے قہقہہے کی آواز سنائی دی تھی جس پر راجیہ سبھا اسپیکر ایم وینکیا نائیڈو نے انہیں خاموش کرنے کی کوشش میں یہاں تک کہہ دیا کہ اگر آپ کو کوئی بیماری ہے تو ڈاکٹر کو دکھائیں  ۔پھر پی ایم مودی نے چٹکی لیتے ہوئے  راجیہ سبھا کے صدر نشیں سے کہا  کہ’’ میری آپ سے ونتی (گزارش)ہے کہ رینوکا جی کو کچھ مت کہیے ۔راماین سیریل کے بعد ایسی ہنسی سننے کا سوبھاگیہ(موقع) آج جا کے ملا ہے ۔‘‘معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا کیوں کہ راجیہ سبھا کے اس واقعہ پر راجیہ سبھا سے باہر میڈیا میں بیانات اور ٹوئیٹر کے ذریعے بھی حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درمیان گھماسان جاری ہے ۔ پارلیمنٹ سے باہر نکلنے کے بعد متعدد چینلوں کے ذریعے پوچھے جانے پر کانگریسی لیڈر رینوکا چودھری نے کہا کہ آپ لوگ ہی اندازہ لگالیں کہ جو حکومت بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھا ؤ کی مہم چلاتی ہے وہی حکومت پارلیمنٹ میں خاتون لیڈر کے ساتھ کس طرح کارویہ کرتی ہے۔کیوں کہ جب ملک کی قانون سازیہ میں خاتون کا احترام نہیں کیا جاتا تو پھر باہر کیاامید کر سکتے ہیں ،ہم تو حکومت سے سوال کرتے ہوئے ویل میں آگئے تھے لیکن پی ایم مودی کو میری ہنسی ناگوار گزری اور انہوں نے مزاق بنایا۔ اس تنازع کو مزید ہوا دیتے ہوئے  وزیر مملکت برائے داخلہ امور ،کرن ریجیجو نے  فیس بک پر راماین  سیریل کی ایک ویڈیو کلپ شیئر کی جس میں  راون کی بہن ’سپرنکھا‘ قہقہا لگا رہی ہے ، اسی ویڈیو میں  راجیہ سبھا میں پی ایم مودی کی تقریر کے دوران رینوکاچودھری کے قہقہے کی کلپ کو ضم کر دیا گیا ۔بعد میں کرن ریجیجو نے فیس بک کی یہ پوسٹ ہٹا دی پھر کرن ریجیجو نے اس ویڈیو کو ٹوئیٹر پر بھی پوسٹ کیا ۔ کرن ریجیجو کے اس فیس بک پوسٹ کے بعد رینوکا چودھری برہم نظر آرہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ ’’بے حد سنگین بات ہے اور میں جلد ہی مراعات  شکنی کی نوٹس راجیہ سبھا میں پیش کروں گی۔‘‘ ۔کانگریس نے رینوکا چودھری کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایم مودی اپنے عہدے کا وقار مجروح کررہے ہیں جب کہ بی جے پی کا کہنا ہے کہ رینوکا چودھری نے دوران تقریر قہقہہ لگا کر پی ایم کا وقار مجروح کیا ہے۔ادھر اپنا دفاع کرتے ہوئے کرن ریجیجو نے کہا کہ انہوں نے صرف اس مقصدسے ویڈیو شیئر کی تا کہ یہ ظاہر ہو سکے کہ اس ہنگامے اور قہقہے کے بعدبھی پی ایم مودی نے اپنی بات کو ہنر مندی سے ایوان کے سامنے رکھا ۔ اس ضمن میں یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ رینوکا چودھری جو مراعات شکنی کے نوٹس کی بات کر رہی ہیں وہ کیا ہے ۔ پارلیمانی مراعات: آئین کی رو سے پارلیمنٹ کے تمام ممبران کو چند مخصوص حقوق اور مراعات حاصل ہیں جنہیں پارلیمانی مراعات کہتے ہیں۔پارلیمانی مراعات وہ خصوصی حقوق ہیں جو ہر ایک ایوان ،اس کے ارکان اور کمیٹیوں کو حاصل ہیں تا کہ وہ اپنی ذمے داری بخوبی نبھا سکیں۔ مراعات شکنی  کیا ہے ؟ ایوان کی کسی کمیٹی یا انفرادی طور پر اس کے رکن کی مراعات ،حقوق اور تحفظات پر حملہ یا ان کے عدم احترام کو مراعات شکنی مانا جائے گا۔یہ ایسا جرم ہے جس پر ایوان سزا دے سکتا ہے ۔بیادی اصول یہ ہے کہ کوئی بھی بات یا کارروائی جو ایوان ،اس کمیٹی ،یا اس کے ارکان کے فرائض کی ادائیگی اور بلاخوف وترددمؤثر کارکرد انداز میں فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالے یا مخل ہواسے مراعات شکنی مانا جائے گا۔اس طرح ایوان کی بیٹھک میں جارہے رکن کو روکنا مراعات شکنی ہے۔رکن پارلیمنٹ کو رشوت دینا بھی مراعات شکنی ہے ۔جان بوجھ کر ایوان کو گمراہ کرنایا غلط اطلاع دینا بھی سنگین جرم ہے ۔مخصوص مراعات کی خلاف ورزی کے علاوہ ایسے اقدامات جن سے ایوان کا وقار اور احترام متاثر ہوتا ہو جیسے اس کے جائز احکامات کی خلاف ورزی اس کی ہتک ،اس کے ارکان یا حکام کی ہتک پر بھی توہین ایوان کی سزا دی جاسکتی ہے ۔ (مراعات شکنی کی یہ تفصیلات سباش کشیپ کی کتاب’ہماری پارلیمنٹ‘ سے ماخوذ ہیں‘)   رپورٹ : محمد حسین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here