اسلام آباد:ہندوستان کے بعد اب پاکستان میں بھی ایک محفل کی تین طلاق کے خلاف آواز بلند ہونی شروع ہوگئی ہے اور بہت ممکن ہے کہ وہاں بھی اسے جرم مان لیا جائے۔ کونسل آف اسلامک آئیڈیالوجی کے چیئر مین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ ایک محفل میں تین طلاق دینے کو پاکستان میں جرم مانا جائے اور اس کیلئے سزا کا تعین بھی کیا جائے۔ بی بی سی کو دیئے اپنے ایک انٹرویو میں چیئر مین نے کہا کہ اس حوالے سے سفارشات پوری طرح سے تیار کی جاچکی ہیں اور جلد ہی اسے اسمبلی میں رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔ڈاکٹر ایاز کو سی آئی آئی کا چیئر مین گزشتہ سال نومبر میں وزارت قانون کی طرف سے بنایا گیا تھا ۔انہوں نے کہا کہ ہم لوگ بل لانے کی تیاری میں ہیں اور ہم پہلے اسے وزارت قانون کے سامنے پیش کریں گے تاکہ اس حوالے سے سزا کے تعین پر بحث ہو سکے ۔ایک وقت میں تین طلاق یقنیاً اب پاکستان میں بھی جرم ہوگا۔ انہوں نے کہا خواتین ہماری سماجی سرگرمیوں میں اہم رول نبھا رہی ہیں اور انہیں ہمارے معاشی سرگرمیوں میں شراکت کرنے پر بھی کوئی دقت نہیں ہے۔وہیں دوسری طرف ایک لمحہ میں کسی خاتون کی زندگی تباہ کردینا کسی بھی معاشرے کے حق میں فائدہ مند نہیں ہوسکتا اس لئے وقت کا تقاضہ ہے کہ اس حوالے سے بل لایا جائے اور باضابطہ قانون بناکر اس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم پرامید ہیں کہ سرکار اور اسمبلی میں ہر کوئی اس حوالے سے مثبت رویہ اختیار کریں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here