سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک پاکستانی خاتون سابقہ خان کی ایک فیس بک پوسٹ خوب گردش کر رہی ہے ۔خاتون نے دوران طواف پیش آئے نازیبا حرکت کا کھل کر اظہار کیا ہے ۔جس کے بعد دیگر متعدد خواتین نے بھی رد عمل میں اپنے تجربات پیش کیے کہ ان کے ساتھ کب اور کیسے مذہبی مقامات پر جنسی چھیڑ چھاڑ ہوئی ۔انگریزی میڈیا میں اس فیس بک پوسٹ کو خوب کوریج ملی ہے کہ مذہبی مقامات پر بھی جنسی چھیڑ چھاڑ کا معاملہ پیش آتا ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ اکثر عورتیں یا تو اسے نظر انداز کرتی ہیں یا پھر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچنے کے خوف سے اس کا ذکر نہیں کرتیں لیکن سوشل میڈیا پر دو تین مہینہ قبل  ایک خاتون نے می ٹو کے ہیش ٹیگ سےیعنی  Metoo# کے عنوان سے اپنے ساتھ پیش آئے دست درازی کے واقعے کو منظر عام پر لانے کی مہم چلائی تب سے دنیا بھر کے مختلف خطوں سے خواتین نے اپنے نجی تجربات کو بلاخوف سوشل میڈیا پر من و عن شائع کرنا شروع کیا ۔پاکستانی خاتون کی مذکورہ فیس بک پوسٹ کو بھی انگریزی میڈیا میں ہیش ٹیگ می ٹو کی مہم کے تناظر میں دیکھا جا رہاہے ۔ حج کا موقع دنیا میں سب سے بڑا اجتماع ہے جہاں دنیا بھر سے لاکھوں کی تعدد میں زائرین حج کرنے آتے ہیں۔ اسلام میں حج ہی ایک ایسی عبادت ہے جس میں چند مخصوص مواقع پر اختلاط مرد وزن کی اجازت  ہے ان چند مواقع میں سے ایک طواف بھی ہے۔ظاہر ہے طواف کے دوران جہاں مرد وزن کااختلاط ہو وہاں یہ امید رکھنا کہ کسی مرد کا بدن  کسی عورت سے بالکل مس نہ ہو یہ نا ممکن سا ہے ۔ حج کرنے والوں کو پتہ ہے کہ  طواف کے دوران اتنی بھیڑ ہوتی ہے کہ نہ تو آپ پیچھے مڑ سکتے ہیں نہ دائیں بائیں کھسک سکتے ہیں بس جہاں جس انداز میں کھڑے ہیں اسی طرح بھیڑ کی مطابقت اور متابعت میں چلتے رہیں۔ایسے میں اگر کسی خاتون کے پیچھے کوئی مرد ہو تو اس خاتون کے جسم اور اعضائے مخصوصہ سے مرد کا جسم مس ہو ہی جاتا  ہے ۔بھیڑ میں اس سے بچناقدرے مشکل کام ہے ،احتیاط کے پیش نظر عورتوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ رات کے درمیانی حصے میں طواف کریں یا پھر مطاف کی پہلی منزل پر بھی طواف کرنا ان کے لیے زیادہ بہتر ہوگا۔لیکن عورت اور مرد سب کو قرب کعبہ اور دیدارکعبہ کے ساتھ طواف کی عبادت کا شوق  کعبہ کے ارد گرد  ہی طواف کے لیے کھینچ لاتا ہے ۔ اور پھر اس افرا تفری میں کون کس کے پیچھے کس کے بدن سے مس ہو رہا ہے ا س کی پروا ہی نہیں ہوتی لیکن ’سابقہ خان‘ کے فیس بک پوسٹ نے ایک الگ ہی کہانی بتائی ہے جو بے حد شرمناک ہے ۔  جیسا کہ سابقہ خان کے بھی جذبات ہیں کہ ان کی اس بات پر شاید ہی کوئی یقین کرے ۔واقعی یہ بات ناقابل یقین ہی لگتی ہے کہ کوئی بھی مرد جو اتنی دور ایک عبادت کے لیے گیا ہو وہاں حدود حرم میں اس طرح کی شرمناک حرکت کرے ۔ اس خاتون کی فیس بک تحریر کو آپ بھی پڑھیں اور خود اندازہ لگائیں کہ ان کے ساتھ پیش آیا یہ واقعہ  بھیڑ کی وجہ سے غیر ارادی مس تھا یا کسی نے ارادۃًدوران طواف مقدس مقام میں یہ  شرمناک حرکت   کی ہے۔ سابقہ خان لکھتی ہیں۔ ’*میں یہ بات لکھنے سے ڈر رہی ہوں کیوں کہ ممکن ہے میری باتوں سے آپ کے مذہبی جذبات کو ٹھیس لگے* عشا کی نماز کے بعد میں کعبے کا طواف کر رہی تھی ,دوران طواف مجھے  کچھ عجیب و غریب سا محسوس ہوا،تیسرے طواف میں مجھے محسوس ہوا کہ کسی کا ہاتھ میری کمر کو چھو رہاہے،پہلے میں نے یہی سوچا کہ یہ بس یوں ہی غلطی سے ہو ا ہوگا،میں نظر انداز کر کے طواف کرنے لگی لیکن اگلے ہی لمحے مجھے پھر ایسا ہی محسوس ہوا،  مجھے یہ حرکت بہت ناگوا ر گزری لیکن طواف کرتی رہی چھٹے طواف میں کسی نے میرے پچھلے حصے پر زور سے مارا میں سہم گئی اور مجھے یہ یقین بھی نہیں ہوا کہ کوئی جان بوجھ کر ایسا کر سکتا ہے اس لیےمیں  پھر سے نظر انداز کر کے طواف کرتی رہی ۔  بھیڑ اتنی زیادہ تھی کہ میں چاہ کر بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھ سکی ۔جب میں رکن یمانی پر پہنچی تو کسی نے میرے پچھلے حصے کو اپنے ہاتھ سے جکڑا اور چیونٹی بھی کاٹی ۔تب میں  رک گئی اور میں نے بنا پیچھے دیکھے  اس کا ہاتھ جھٹک دیا ۔۔میں وہاں ایک خاموش بت بن گئی ، وہاں سے باہر بھی نہیں نکل سکتی تھی۔ پیچھے مڑنے کی بہت کوشش کی لیکن بھیڑ کی وجہ کامیاب نہ ہوسکی ۔جتنا ہو سکا مڑی تو بھی نہیں پتہ چلا کہ کون یہ حرکت کر رہاہے۔میں  خود کو بے زبان محسوس کر کے خاموش رہی کیوں کہ مجھے پتہ تھا کہ  سوائے میری ماں کے،کوئی بھی میری بات پر  یقین نہیں کرے گا۔ اس لیے واپس ہوٹل کے روم پہنچ کر  میں نے اپنی ماں کو  ساری بات بتائی،وہ بھی حیران وپریشان اور تذبذب میں پڑ گئیں۔پھر اس حادثے کے بعد میری ماں نے کبھی اکیلے طواف کے لیے نہیں جانے دیا۔ یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ مقدس مقامات پر بھی آپ محفوظ نہیں ہیں، میرے ساتھ ایک دو  نہیں بلکہ تین بار دست درازی ہوئی ۔ شہر مقدس کے سارے اعمال اس ایک ناگوار سانحے کی نذر ہوگئے۔ میں دست درازی اور جنسی چھیڑ چھاڑ کے مسئلے میں کھل کر بولنے میں یقین رکھتی ہوں۔مجھے نہیں پتہ کہ آپ میں سے کتنے لوگوں کے ساتھ ایسا حادثہ پیش آیا لیکن مجھے اس حادثے نے ذاتی طور پر بہت تکلیف پہنچائی ۔‘‘  اب سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ MosqueMeToo#کی مہم چل رہی ہے جس کے تحت  مسلمانوں کے مذہبی مقامات پر عورتوں کے ساتھ ہونے والے نازیبا سلوک کے بارے میں عورتیں اپنا تجربہ بیان کر رہی ہیں۔سب سے پہلے مصری امریکی خاتون صحافی مونا التھاوی نے ۲۰۱۳ میں دوران حج پیش آئے واقعات کو ٹوئیٹر پر لکھا تھا ۔جس کوفقط ۲۴ گھنٹے میں ۲۰۰۰ لوگوں نے ری ٹوئیٹ کیا۔مونا التہاوی نے ۷ فروری کے ایک ٹوئیٹ میں لکھا ہے کہ انہوں نے کچھ سال قبل حج کے دوران  عورتوں کے ساتھ دست درازی کے واقعات کا انکشاف کیا تھا ۔اور اس کے بارے میں انہوں نے ۲۰۱۵ میں اپنی کتاب میں بھی لکھا تھا ۔اب وہ MosqueMeToo#کی مہم سے پر امید ہیں کہ جو خواتین اب تک آواز بلند نہیں کر رہی تھیں اب بولنا شروع کریں گی ۔مونا التہاوی کے اس ٹوئیٹ اور سابقہ خان کے فیس بک پوسٹ کے علاوہ ٹوئیٹر پر MosqueMeToo# کے عنوان سے متعدد خواتین نے اپنے تجربات شیئر کیے ہیں۔ ایک خاتون  نےدہلی کی جامع مسجد میں اپنےساتھ پیش آئے واقعے کو بھی ٹوئیٹ کیا ۔اسی طرح ہندوستان پاکستان اور ایران سے متعدد خواتین نے ٹوئیٹ کیا ہے ۔
PC:Twitter
عورتیں چاہیں بے حجاب ہو یا باحجاب، مقدس مقامات پر  ہوں یاغیر مقدس مقامات پرکہیں بھی اس کی مرضی کے بغیر ان کے ساتھ نامناسب حرکت کرنا کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ۔نہ تو کسی قانون میں اس کی گنجائش ہے نہ ہی کسی مذہب میں ۔اور جب مقدس مقامات پر عورتوں کی تقدیس کی پامالی ہو رہی ہو تو بہر حال یہ عمل  مزید تشویش ناک ہے ۔ اس  کی روک تھام کے لیے دیگر تدابیر کے ساتھ سماج میں بیداری پیدا کرنا بھی ضروری ہے ۔ ان معاملات پر کھل کر اظہاررائےسے شاید ایسی شرمناک حرکت انجام دینے والے افراد کچھ ہوش کے ناخن لے کر اس عمل کو ترک کریں۔  
رپورٹ : محمد حسین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here