بے روزگار نوجوان پکوڑے بیچ کر احتجاج کرتے ہوئے

تحریر: عمران عراقی

تبدیلی انسانی زندگی میں کس کس سطح پر واقع ہوتی ہے آپ ذرا غور کریں اور حیرت کے نہ جانے کتنے ہی دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ فی الحال میری سوچ میں جو ایک نئی تبدیلی آئی ہے وہ یہ کہ ہمارے ملک کے سیاست دانوں کے پاس ریزرویشن بھی ایک ایسا اہم ہتھیار ہے جس کی بنیاد پر وہ جب چاہیں نہ صرف اچھا کھیل لیتے ہیں بلکہ بعض دفعہ تو پوری بساط کو ہی الٹ کر رکھ دیتے ہیں۔میں نے ریزرویشن کو ’’بھی‘‘ کے زمرے میں اس لیے رکھا کہ پہلے میں یہ سمجھتا تھا کہ ہمارے ملک میں صرف مذہب کو وہ حیثیت حاصل ہے جس کی بنیاد پر کچھ بھی کیا جا سکتا ہے۔ ’’کچھ بھی‘‘۔ اس ’’کچھ بھی‘‘ کی وضاحت کرنے کا فی الحال میرا بالکل ارادہ نہیں ہے۔ یہ آپ کی فہم پر منحصر ہے جس کی اڑان آپ چاہے جہاں تک بھر سکتے ہیں۔۔۔۔۔ ریزرویشن کی بات ہو اور ہم ریاست بہار کا ذکر نہ کریں یہ کیسے ممکن ہے۔ بہار نے تو تمام ریاستوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کبھی  گرام پنچایت ،بلدیاتی انتخابات ،پرائمری اسکول ٹیچر او ر جیوڈیشیل سروسز میں خواتین کو 50 فی صد ریزرویشن عطا کیاتو دیگر تمام سرکاری ملازمتوں میں خواتین کو 35 فی صد کا ریزرویشن دے کر ، ملک گیر سطح پر تمام ریاستوں کے لیے آئڈیل بنا ہے۔ اب اس آئڈیالوجی میں کس کو کتنا اور کیسے فائدہ پہنچتا ہے، یہ ایک الگ بحث ہے۔ لیکن دیکھنے اور سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ایوانوں میں خواتین کی پہنچ کو یقینی بنانے کے لیے انہیں کتنا پرموٹ کیا جا رہا ہے۔ اب چونکہ جھارکھنڈ نہ صرف ہم سایہ ریاست کی حیثیت رکھتا ہے بلکہ بہار کی کوکھ سے وجود میں آنے کا شرف بھی اسے حاصل ہے۔ تو کیوں نہ جھارکھنڈ کی بھی بات کر لی جائے۔ دیکھا جائے تو جھارکھنڈ ایک ٹرائبل اسٹیٹ کا درجہ رکھتی ہے ۔ لیکن آپ غور کریں تو ٹرائبل اسٹیٹ میں سب سے زیادہ استحصال کسی کا ہوا ہے تو وہ ٹرائبل کمیونیٹی ہے۔ چاہے اس کمیونیٹی کی اپنی زمین کا معاملہ ہو یا جنگل کا ، یا پھر مائنگ میں کام کرنے والے ان مزدور وں کی ہم بات کریں جن میں بیشتر اسی کمیونیٹی سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا استحصال وہاں کس کس طرح سے ہوتا ہے اس کے لیے تو آپ کو ’’فائر ایریا‘‘ کا دورہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اگر فائر ایریا میں وہ مزدور نہ دکھائی دیں تو سمجھ لیجئے کہ کسی مائنگ کولری کی اتھاہ گہرائیوں میں ایندھن بن کے اتر گئے ہیں یا ایک اور ہجرت کا قرب انہوں نے جھیل لیا ہے۔ جہاں تک تعلیم کی بات ہے تو نہ جانے سرکار کے پاس ایسی کون سی دیگ ہے جس میں لاکھوں اور کروڑوں روپئے ڈالنے کے بعد بھی جو پالیسی تیار ہو کے نکلتی ہے اس سے نہ تو ان کی رہائشی زندگی کا معیار ہی بلند ہوتا ہے اور نہ ہی ان کا مستقبل روشن ہو پاتاہے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ جھارکھنڈ نے اپنے چھٹے پی۔سی۔ایس کے ابتدائی امتحان کے Cut of marks کو مزید کم کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ اب ایس۔سی، ایس۔ٹی اور خواتین زمرے سے تعلق رکھنے والے امیدوار32 فی صد نمبر لانے کے بعد بھی فائنل امتحان میں حصہ لے سکیں گے۔وہیں عام اور پس ماندہ زمرے سے تعلق رکھنے والے امیدوار کو بھی تھوڑی رعاتیں حاصل ہوں گی۔ یقیناً اس پہل سے ایسے بے شمار بے روزگاروں کو مزید موقع فراہم ہوگا جس سے وہ سرکاری ملازمتوں میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ پہلے جہاں 326 سیٹوں کے لیے 6 ہزار امیدوار شامل ہو تے اب وہیں اتنی ہی سیٹوں کے لیے 34 ہزار مزید امیدوار فائنل امتحان میں زور آزمائی کریں گے۔یعنی وہی باسی اور سوکھی روٹی جس کے لیے تازہ دم افراد بھی اپنی دعوےداری پیش کریں گے۔خیال رہے کہ جھارکھنڈ پی۔سی۔ایس کے ذریعے یہ اسامیاں ۲۰۱۵ میں ہی نکالی گئی تھی۔ اور حیرت کی بات تو یہ ہے کہ نئے سال  2018 کا آغاز بھی ہو گیا ہے۔ یہاں میرا ارادہ بالکل بھی یہ نہیں ہے کہ میں ان 34 ہزار امیدواروں کو ان 6 ہزار امیدواروں کے لیے خطرہ قرار دوں۔ بلکہ میرا ارادہ صرف اس جانب اشارہ کرنا ہے کہ جس طرح نوالے کی قلت میں سبھی بھوکے ایک ہی نوالے پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور نوالہ پھینکنے والا دور کھڑا تماشادیکھتا رہتا ہے۔ اسی طرح محض 326 سیٹوں کے لیے لاکھوں امیدوار مقابلہ آرائی کر رہے ہیں اور انہیں ایک طویل انتظار، مشکوک رزلٹ، کیس، عدلیہ  کے  فیصلے اور پھر ایک اور رزلٹ کے انتظار میں وقت ضائع کرنے کے سوا کیا مل رہا ہے؟ بعض دفعہ تو تقرری کا پروانہ  ملنے کے بعد بھی اسامیوں پر عدالت کی جانب سے قدغن لگا دی جاتی ہے۔ عدالت کے ذریعے یہ قدغن کیوں اور کن شقوں کی بنیاد پر لگائی جاتی ہے اور یہ شقیں کیوں Loop false کی طرح  اسامیوں میں اپنا پھن پھیلائے رہتی ہے؟ غور کرنے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے۔ ان سب کے بعد کوئی نتیجہ نکل بھی جائے تو حکومت نہ صرف اپنی منمانی کرتی ہے بلکہ عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کی بھی پرواہ کیے بغیر اپنی سست روی اور غیرذمہ دارانہ رویہ اسامیوں کو زیر التوا کی کال کوٹھری میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتی ہے۔ اور بے چارے امیدوار انتظار ، انتظار اور انتظار کے اسپیشل ٹرین میں (جو خاص موقع پر چلائی جاتی ہے) سفر کرنے کو مجبور ہوتے ہیں۔ اسپیشل ٹرین کا سفر پھر بھی غنیمت جانئے کہ وہ کسی روز تو آپ کو منزل مقصود تک پہنچا ہی دے گی۔ سوال یہ بھی اہم ہے کہ جب ملک کے اعلیٰ ترین ادارے سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی میں ایک عام شہری کے ساتھ نہ صرف قانونی کارروائی کی جاتی ہے بلکہ غدار تک کا لیبل لگا دیا جاتا ہے تو اسی خلاف ورزی کی پاداش میں ریاستی حکومت کو کٹگھرے میں کیوں نہیں کھڑا کیا جا سکتا ہے ؟؟؟ یا ہم یہ مان لیں کہ چھوٹے چھوٹے سیناؤں، پنچایتوں اور سمودایوں کے ساتھ عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کرنے کی آزادی ریاستی حکومت کو بھی حاصل ہے ؟   ریاست بہار میں ’’نیوجت اساتذہ‘‘ کی بحالی اور ان کی تنخواہوں کے سلسلے میں متعدد دفعہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود انہیں ’’مساوی کام مساوی اجرت ‘‘ کے زمرے میں نہیں رکھنا تو یہی ظاہر کرتا ہے۔ دوسری طرف ریاست یو۔پی میں سرکاری اسکولوں کی صورت حال میں بہتری کے لیے الہ آباد ہائی کورٹ کے فرمان کے بعد کتنے اعلیٰ عہدہ داران اپنے بچوں کو سرکاری اسکول بھیج رہے ہیں؟ یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ گر چہ یہ ایک تفتیشی عمل ہے لیکن اگر یہ اعلیٰ عہدہ داران سرکاری اسکولوں میں اپنے بچوں کو نہیں بھیج رہے ہیں تو کیا یہ عدالت کی نا فرمانی اور توہین نہیں ہے؟ ان سب کے بعد یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا سیناؤں، پنچایتوں اور سمودایوں نے جس طرح ملک کے املاک کو نقصان پہنچانے میں حق آزادی کا استعمال کیا ہے اسی طرح حکومت میں بیٹھے اعلیٰ عہدہ داران اور ریاستی حکومت بھی کہیں اسی حق آزادی کا استعمال تو نہیں کر رہی ہے؟؟؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ ملک کے املاک میں ہر شہری کا حصہ اسی طرح ہے جس طرح وہ Toothpaste کی خریداری کے وقت باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتا ہے۔
پکوڑے بیچ کر احتجاج کرتے ہوئے بے روزگار نوجوان
15نومبر 2000میں جھارکھنڈ نے ریاست بہار سے علاحدگی اختیار کی تھی۔ دیکھا جائے تو جھارکھنڈ نے جن بنیادوں پر بہار سے علاحدگی اختیار کی تھی وہ تمام بنیادیں کھوکھلی ثابت ہوئی ہیں۔ اپنے 17 سالہ قیام میں یہ پہلی دفعہ ہے جب یہاں کی حکومت گزشتہ 3 سال سے مستحکم (Stable) ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ یہ استحکام جھارکھنڈ کو تب حاصل ہوا جب اس نے اپنی سب سے اہم بنیاد سے کنارہ کشی اختیار کی یعنی وزیر اعلیٰ کے طور پر ایک غیر قبائلی امیدوار کا انتخاب کیا۔ یہ پہلی بنیاد تھی جس کے تحت قیام جھارکھنڈ کے وقت یہ طے کیا گیا تھا کہ ریاست میں 15 برسوں تک کوئی غیر قبائلی فرد وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائزنہیں ہوگا۔ اور دلچسپ یہ ہے کہ پچھلے 14سے 15 برسوں تک جھارکھنڈ میں کبھی بھی پائدار اور مستحکم حکومت نہیں چلی کسی نے حکومت نے اپنی مدت پوری نہیں کی  ۔ جس کا براہ راست اثر جھارکھنڈ کی اقتصادی ترقی اور نوکریوں پر ہوا۔ نہ تو جھارکھنڈ میں باہری کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کا مناسب ماحول ہی پیدا کیا گیا اور نہ ہی حکومت نے سرمایہ داری کا چولا اتار کر بے روزگار نوجوانوں کے حق میں کوئی مثبت قدم اٹھایا۔ جو دو چار اٹھائے بھی گئے وہ تنازع، کیس، دھرنا پردرشن اور عدالتی  فیصلے کے بعد سرکاری سست روی کی نذر ہو گئے۔ اسے ہم ریاستی حکومت میں پھیلی انارکی کا بھی نام دے سکتے ہیں، جس نے ترقی کے راستے پر نہ تو خود چلنا سیکھا اور نہ ہی اپنے شہریوں کو سکھاپائی۔ ایسی صورت حال میں ہم کیسے امید کر سکتے ہیں کہ جھارکھنڈ نے اپنے قدرتی اثاثے سے فائدہ اٹھا کر اپنی اور عوام کی ترقی کی کوئی کارآمد پالیسی تیار کی ہے۔ نتیجۃً  قدرتی ذخائر سے مالا مال ہونے کے باوجود جھارکھنڈ ایشیائی خطے میں اپنی ممتاز حیثیت، ایک پس ماندہ ریاست کے طور پر بنا سکا۔ مانا جاتا ہے کہ ہر ریاست کی بنیادی طاقت اس کے اعلیٰ افسران ہوتے ہیں جو سول سروس امتحان کے ذریعے چنے جاتے ہیں۔ اس معاملے میں بھی جھارکھنڈ دیگر تمام ریاستوں سے چار قدم پیچھے ہی دکھتا ہے۔ جھارکھنڈ پی۔سی۔ایس اپنے قیام کے ساتھ ہی اکثر و بیشتر تنازع کا شکار رہا ہے۔ اپنی 17 سالہ عمر میں جھارکھنڈ نے ابھی تک چھٹی بار ہی سول سروس کے امتحان کروائے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت کس قدر نوجوانوں کے مستقبل اور ریاست کے نظم و نسق کے تئیں سنجیدہ اور فکرمند ہے۔ وہیں دوسری طرف جھارکھنڈ کے اعلیٰ تعلیم اداروں میں تقرری کی بات کریں تو اس کی پانچ یونی ورسیٹیز (اس کے علاوہ دو ابھی ابھی انہیں کی کوکھ سے دنیا میں آئے ہیں)میں اساتذہ اور دفتری عملہ کی جس قدر کمی ہے اس کے باوجود  ریاست نے اب تک صرف ایک دفعہ یعنی 2006 میں ہی بحالی کی ہے۔ اس سے ریاست کی تعلیمی صورت حال کا بھی بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ گزشتہ 4/5 برسوں سے یونی ورسٹیز میں اساتذہ کی بحالی کے عمل کو پائپ لائن میں بتایا جا رہا تھا ایک طویل انتظار کے بعد 2016 میں صرف ایسو سی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر  کے  عہدے پر تقرری کے لیے جاری  نوٹی فیکشن نے بے روزگار نوجوانوں کو ایک بار پھر مایوس کیا ہے۔ کیوں کہ ظاہر ہے یہ دونوں اسامیاں بے روزگار افراد کے لیے تو ہے نہیں۔  حیرت کی بات تو یہ ہے کہ آج ایک سال سے زائدکا عرصہ گزرنے کے بعد بھی نہ تو اس کے انٹرویو ہوئے ہیں اور نہ ہی بحالی کا کوئی عمل (سوائے درخواستیں مطلوب کے) آگے بڑھ پایا ہے۔حالانکہ اس بات کا ہمیں احساس ہونا چاہئے کہ جب ان یونیورسٹیز کو contract پر اساتذہ بحال کرنے میں ایک سال اور اس سے بھی زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے ، تو مستقل بحالی ہونے میں پانچ دس برس تو لگ ہی سکتے ہیں۔ ویسے اس معاملے میں ریاست بہاربھی کم پیچھے نہیں۔ 2014 میں نکالی گئی یونی ورسٹیز اساتذہ کی اسامیوں کا عمل اب تک پورا نہیں ہوا ہے۔ معاملہ ابھی پروسس میں ہے۔ جس میں کئی داؤ پینچ کھیلے جا رہے ہیں۔ اخیر میں دو بڑی خبروں پر بھی نظر ڈالیں تو شاید ہندوستان کے بے روزگار نوجوانوں کو اب پکوڑے بنانے کے عمل کی طرف زیادہ توجہ دینے کی ضرورت پڑے گی۔ خیال رہے کہ گھروں میں ذاتی مفاد کے لیے پکوڑا بنانا ملک سے غداری کرنے کے زمرے میں آ سکتا ہے کیوں کہ آپ کا ذاتی عمل ملک کے نوجوانوں کی حق تلفی کے زمرے میں ہو سکتا ہے۔ خیر ملک کا سب سے بڑا نیٹ ورک جو اب تک بے روزگار نوجوانوں کو نوکریاں دینے میں اول پائدان پر ہے اس نے اپنی نوکریوں میں عمر کی حدوں کا تعین کرتے ہوئے 30 برس سے تخفیف کر کے 28 برس کی حد طے کیا ہے۔ مطلب برسوں سے جو نوجوان اسامیوں کے انتظار میں ریلوے کی تیاری کر رہے تھے وہ اب اچانک سے Expire ہو گئے ہیں۔ وہیں دوسری طرف یو۔پی۔ایس۔سی نے سال در سال اپنی اسامیوں میں تخفیف کرتے ہوئے جو نئی اسامیاں 2018 کے لیے نکالی ہے ان میں 2012-14 کے مقابلے 50 فی صد کی کمی کی ہے۔ مطلب یہ سمجھا جائے کہ اب ملک کے نوجوانوں کو نوکریوں کی ضرورت نہیں یا ملک کے 80 فی صد نوجوان برسر روزگار ہیں۔ مبارک ہو اب آپ پکوڑے تلنے کے لیے تیار ہیں۔۔
عمران عراقی ۔ایڈیٹر : انڈیا ہیڈلائنز ہندی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here