موجودہ دور میں days اور مخصوص ایام کا چلن بہت عام ہے۔ مثلاً Teachers day, Women’s day, Valentine’s  day, Mother’s day, وغیرہ وغیرہ۔ کیا ہماری تدریسی صلاحیت اسی ایک دن کی محتاج ہے؟ کیا عورت کے حقوق، اس کے سمان، عزت کو وومنس ڈے جیسی بیساکھی کی ضرورت ہے؟ کیا دوست احباب کو، میاں بیوی کو، منگیتر کو ویلنٹائنس ڈے کے کاندھے کی ضرورت ہے؟ کیا ویلنٹائنس ڈے کے بنا پیار ادھورا رہتا ہے؟ کیا بس اسی ایک دن ہر رشتے میں محبت کے شگوفے پھوٹتے ہیں؟ کیا ماں سے ہماری انسیت بس اسی ایک ہی دن کی ہے؟ کیا ماں کا پیار، ان سے لگاؤ، ان کی یادیں، ان کی باتیں، ان کی قربانیاں، ان کی اچھائیاں، ان سب کو بس اسی ایک ہی دن کا سہارا ہے؟  آج چاروں طرف خلق نے مدرس ڈے کا شور مچا رکھا ہے۔مجھے ایک بات سمجھ نہیں آ رہی، آج ہی کے دن ہم اپنی ماں سے اس کی محبتوں، اس کی شفقتوں، اس کی عظمتوں، اس کی قربانیوں کا اعتراف کیوں کریں؟ جب کہ ہر دن خدا کے اس نایاب تحفے کا ہمیں خیال رکھنا چاہیے ۔مخصوص یہی دن کیوں؟ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ہم۔مسلمان کس سمت جا رہے ہیں؟ ہم۔یہودیوں کی پیروی کیوں کر رہے ہیں؟ شاید اسی لیے آج اولڈ ایج ہوم کی تنہائی اور بیگانگی سے بنی دیواریں بزرگوں کو اپنی آغوش میں لینے کے لیے منھ کھولے کھڑی ہیں۔اگر ہم ایسا نہ کرتے تو شاید آج کوئی  ماں ہسپتال میں پڑی اپنے بیٹے کا اشک بار آنکھوں سے انتظار نہ کر رہی ہوتی اور نہ ہی بیٹے کی بے وفائی  کی روداد رو رو کر لوگوں سے بیان کر رہی ہوتی، نہ ہی اپنی اولاد سے ایک ماں اپنا آنچل پھیلا کر اپنے آشیانے لوٹ جانے کی بھیک نہیں مانگ رہی ہوتی، نہ ہی اپنی اولاد کی ایک بار پیشانی چوم لینے کی دل میں خواہش لیے دنیا سے رخصت نہ ہوتی، نہ ہی کوئی ماں بیٹے کے انتظار میں بیٹھی دروازے پہ دم توڑتی، نہ ہی کوئی  ماں در در جا کر ہاتھ پھیلا کر بھیک مانگنے پر مجبور ہوتی، ان تمام حالات کے ذمہ دار ہم ہی ہیں۔بس ایک دن خوب دھوم دھام سے پیارنجتاؤ، مدرس ڈے مناؤ، خوب بھاری بھرکم واٹس اپ، فیس بک پر پوسٹ کرو، بس!!!!!!! ماں کا حق ادا ہو گیا۔انسانوں کی یہ حرکت دیکھ کر سوال کا ایک کیڑا ذہن میں کلبلاتا ہے کہ۔۔۔کیا ہم ایک دن ماں سے محبت جتا کر اپنے فرض سے سبکدوش ہو جاتے ہیں؟؟؟؟؟؟؟  ہمیں چاہیے کہ اس دھنک کی جس پر ہر رنگ نمایاں ہے، گلشن کے اس دلکش پھول کی جس سے خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے۔ایک ایسی داستان جو ہر دل پر لکھی رہتی ہے، ایک ایسی ہستی جو اولاد کے لاکھوں راز سینے میں چھپا لیتی ہے، جس کو خدا نے کہا کہ۔۔۔میری طرف سے قیمتی اور نایاب تحفہ ہے، یعنی کہ “ماں”.ماں کا ہر دن، ہر لمحہ، ہر پل خیال رکھنا چاہیے اور ان کے ساتھ محبت و احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مہوش نور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی رسرچ اسکالر ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here