آصف تنویر تیمی جامعہ امام ابن تیمیہ،بہار

اللہ تعالی نے رمضان کو دیگر مہینوں پر فضیلت عطا کی ہے۔ یہ مہینہ نیکیوں کا گنجینہ ہے۔ نوع بہ نوع کی نیکیاں اس ماہ میں بندگان خدا کرتے،اور اجر عظیم کے مستحق قرار پاتے ہیں۔ صیام وقیام اور قرآن کے نزول کا یہ بابرکت مہینہ ہے۔اسی ماہ میں ایک ایسی بھی رات ہے جس کی عبادت ہزار مہینوں سے کہیں بہتر ہے۔بنی آدم کے ہر عمل کا بدلہ اسے دس اور سات سو گنا تک بڑھا چڑھا کر دیاجاتا ہے مگر روزہ کا ثواب کتنا(زیادہ) ملے گا اس کے بارے میں صرف اللہ ہی جانتا ہے۔دوران روزہ آدمی کوایسا وقت ملتا ہے کہ اگر چاہے تو کچھ کھا پی لے مگر روزہ دار محض اللہ کے ڈر سے موقع ملنے کے باوجود کھانے پینے سے گریز کرتا ہے۔ اسی لئے اگر یہ کہا جائے کہ روزہ انسان کے تقوی کے چیک کرنے کا آلہ ہے تو غلط نہ ہوگا۔اور قرآن کے مطابق روزہ کی مشروعیت کی حکمت بندے کو متقی ہی بنانا ہے۔ روزہ اللہ تعالی کی عظیم ترین نعمت ہے،جس نعمت کا احساس اللہ کے ہر بندے کو ہونا چاہئے۔ اس ماہ میں جس طرح اللہ کا محبوب بندہ ہمہ وقت اس مہینہ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے،کوئی ایسا کام نہیں کرتا جو رمضان کی رفعت وبلندی کے منافی ہو۔ اسی طرح ایک خطا کار،گنہگار اللہ کا نا فرمان بندہ جس کے اندر ایمان کی رمق باقی ہو، اس مہینہ کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے سابقہ گناہوں کی معافی اللہ سے مانگنے میں دیر نہیں کرتا۔ سب جانتے ہیں کہ جس طرح یہ مہینہ نماز،روزہ،تراویح اور دیگر عبادات کا ہے اسی طرح یہ مہینہ دعا ومناجات اور توبہ واستغفار کا بھی ہے۔ اس ماہ میں اللہ رب العزت اپنی بے پایہ رحمت سے ہررات بے شمار گنہگاروں کو جہنم سے آزاد کرتے ہیں۔ اللہ تعالی کی صفت رحمت اس کی صفت غضب پر غالب ہے۔ ہر رات اللہ تعالی سمائے دنیا پر نزول فرماتا اور معافی طلب کرنے والوں کو معاف فرماتا ہے۔ لوگوں کی حاجتوں اور ضرورتوں کو پوری کرتا ہے۔ قرآن کریم کی متعدد آیتیں توبہ واستغفار سے متعلق ہیں جن میں بندوں کو توبہ کی تاکید کی گئی ہے۔ کوئی ایسا نہیں جو گناہ نہ کرتا ہو اوراسے توبہ کی ضرورت نہ ہو۔ہم میں کاہر چھوٹا بڑا شخص گناہ میں لت پت اور اللہ کی مغفرت کا محتاج ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جن کی تمام اگلی اور پچھلی خطائیں معاف تھیں باوجود اس کے آپ ایک دن میں ستر سے سو مرتبہ اپنے رب سے توبہ کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھ بھی دیا کہ آپ کو اس قدر بندگی کی کیا ضرورت آپ تو معصوم عن الخطا ہیں۔ آپ نے جوابا عرض کیا:اے عائشہ(رضی اللہ عنہا) جس پروردگار نے اتنی رحمتیں میرے اوپر کیں کیا وہ شکریے کا مستحق نہیں ہے۔ رمضان میں جنت کے تمام دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ،جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیطان جکڑ دیا جاتا ہے۔انسان کے لئے نیکی کرنے کا اچھا موقع ہوتا ہے۔ شر کے سارے ذرائع بند ہوتے ہیں اس کے باوجود اگر کوئی گناہ پر مصر رہے، توبہ واستغفار کرکے اللہ کا نیک بندہ نہ بنے، اس سے بڑا بدقسمت کون ہوسکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار منبر پر تشریف لائے اور تین مرتبہ تینوں سیڑھیوں پر آمین کہا۔ صحابہ نے وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا: جبریل میرے پاس آئے اور کہا: جس نے اپنے والدین کو پانے کے باوجود حسن سلوک کرکے جنت کا مستحق نہیں بنا وہ جہنمی ہے اس کے جواب میں نے کہا: آمین۔ پھر جبریل نے کہا: جس کے سامنے آپ(محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کا ذکر ہو اور وہ درود نہ پڑھے وہ جہنمی ہے اس کے جواب میں بھی میں نے کہا آمین۔ پھر جبریل نے کہا: جہنمی ہے جس نے بلا نیکی کے رمضان کو گزار دیا،اس کی مغفرت نہ ہوسکی،اس کے جواب میں بھی میں نے کہا آمین۔یادرکھئے! توبہ دنیا وآخرت میں فلاح وصلاح کا ذریعہ ہے۔ توبہ کا دروازہ جب تک کھلا ہوا ہے اسے غنیمت جانئے،انتظار ہرگز نہ کریں، پتہ نہیں کب موت آجائے،توبہ کا موقع نہ ملے۔حقوق اللہ ہو یا حقوق ا لعباد صدق دل سے توبہ میں جلدی کیجئے۔رمضان سال بھرکے گنہگاروں کے لئے توبہ کرنے کا اچھا موسم ہے۔ اس موقع سے فائدہ اٹھائیے ۔ ایسا نہ ہو کہ رمضان گزر جائے اور ہم مغفرت ورحمت کے بٹورنے میں ناکام رہیں،بلکہ بہتر ہے کہ رمضان شروع ہونے سے قبل تمام گناہوں سے تائب ہوجائیں تاکہ رمضان کے اعمال سے بھرپور لطف اٹھائیں۔شیطان سے ہوشیار کہیں وہ توبہ کی راہ میں حائل نہ ہوجائے۔ اللہ ہم سب کو خالص توبہ کی توفیق دے۔(آمین)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here