لکھنو:یو پی میں بھاجپا کی حکومت آنے کے بعد دعوی کیا گیا تھا کہ صوبے میں کسی بھی قسم کا فساد نہیں ہونے دیا جائے گا، دعوی سچ لگا بھی تھا اس وقت جبکہ یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنا چھ مہینے کا رپورٹ کارڈ پیش کیا تھاتب کہا تھا کہ یو پی میں پچھلے ۶ ماہ میں ایک بھی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا مگر اچانک ہی سال پورا ہوتے ہوتے ان کی حکومت نے صوبے میں سب سے زیادہ فسادات کا ریکارڈ بنا ڈالا۔ پچھلے تین سالوں میں سب سے زیادہ فرقہ وارانہ فسادات ہوئے اور پچھلے چار سالوں سے نریندر مودی حکومت میں ہیں، ملک میں فسادات کی فہرست میں یوپی اول نمبر پر ہے جہاں سے یوگی آدتیہ ناتھ بھاجپا کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ پچھلے ایک سال میں اترپردیش میں سب سے زیا دہ فرقہ وارانہ فسادات ہوئے ہیں۔صوبے کے مرکزی وزیر دفاع ہنس راج اہر نے ایوان میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا تھاکہ ۷۱۰۲ میں ملک بھر میں کل ۲۲۸ فسادات ہوئے ان میں سب سے زیادہ ۵۹۱ فسادات صرف صوبہ اتر پردیش میں ہوئے۔ فسادات کی وجوہات کے بارے مذہب، زمین جائیداد اور شوشل میڈیا کو ذمہ دار مانا گیا۔
ایک اور بات انہوں نے جو کہی وہ یہ تھی کہ پچھلے دو سالوں کے ریکارڈ پر نظر ڈالی جائے تو ہمارے ملک میں فسادات کی تعداد بڑھی ہے۔پچھلے سال فسادات کی فہرست میں یوپی اول نمبر پر تھا، وہیں کرناٹک اور راجستھان دوسرے نمبر پر۔غور کرنے والی بات یہ ہے کہ یو پی کے وزیر اعلیٰ کی شبیہ پہلے سے مسلم مخالف رہی ہے۔ وہیں فسادات کی فہرست میں بہار چوتھے نمبر پر رہا، جہاں سال بھر میں ۵۸ فسادات ہوئے ،دوسری طرف بی جے پی کی شیو راج حکومت میں ۰۶ فسادات ہوئے۔ ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ فسادات کی فہرست میں پہلے کے تینوں صوبوں میں بھاجپا کی حکومت ہے، یوگی حکومت کا پہلا بیان یہ تھا کہ ان کی حکومت میں کسی کی ہمت نہیں کی وہ فساد پھیلائے مگر پھر بھی ان حکومت نے فسادات کی نئی تاریخ رقم کی ہے، سب سے اہم اورضروری بات یہ ہے کہ فسادات میں زیادہ تر بی جے پی کے لیڈران اور ان کی ائیڈیل آر ایس ایس کا رول رہا ہے۔ مرکزی وزیرکے ایک بیا ن سے یہ بھی معلوم ہو اہے کہ ملک بھر میں عدالتی حراست میں سب سے زیادہ اموات بھی یو پی میں ہوئی ہیں، ملک میں ۷۱۰۲ سے۸۱۰۲ تک کل ۰۳۵۱ معاملات درج ہوئے ہیں جن میں ۵۶۳ صرف صوبہ یو پی میں ہوئے ہیں یعنی کہ وہاں ہر روز ایک شخص کی موت ہوئی ہے۔ایسے میں یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ اپنے وعدے سے کوسوں دور ہیں اور فرقہ رارانہ فسادات کے معاملے میں اپنی ریاست کو سر فہرست بنائے ہوئے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here