بغداد:عراق میں عام انتخابات میں نصف سے زیادہ ووٹوں کی گنتی پوری ہو گئی ہے ، وزیر اعظم حیدر العبادی کے مخالف شیعہ گروپس نے سنیچر کو ہوئے پارلیمانی انتخابات میں سبقت حاصل کر لی ہے۔مذہبی رہنما مقتدی الصدر اور دیگر ملیشیا فرنٹ نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے ہیں۔انتخابی ذمہ داران کے مطابق حیدر العبادی تیسرے نمبر پر ہیں، گزشتہ سال عراقی حکومت نے اسلامک اسٹیٹ دہشت گرد گروپ پر فتح حاصل کی تھی۔ اس کے بعد عراق میں یہ پہلا عام انتخاب ہے۔اس بار کی ووٹنگ گزشتہ سالوں کے مقابلے میں ہوئی ووٹنگ سے بہت کم رہی۔ اس سال صرف44.05 فیصد ہی ووٹنگ ہوئی جو گزشتہ ووٹنگ کی کے لحاظ سے بہت کم ہے، انتخابات عراق کے 18 صوبوں میں کل 329 سیٹوں پر ہوئے ۔ انتخابی رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے اس بار عوام نے حزب مخالف کے حق میں ووٹ کا استعمال کیا ہے۔کچھ رپورٹس کے مطابق شیعہ لیڈر مقتدی الصدر کے حامیوں نے دوشنبہ کی رات ہی میں انتخابی نتائج کے اعلان سے پہلے بغداد میں جشن منانا شروع کر دیا تھا۔سابق صدر صدام حسین کی معزولی کے بعد مقتدی الصدر سب سے معروف لیڈر مانے جاتے ہیں، بغداد کے قرب و جوار کے نوجوانوں میں وہ بہت ہی معروف شخصیت ہیں۔ ذرائع کے مطابق تجربہ کار لیڈر ہادی الامیری کا گروپ دوسرے مقام پر ابھی ہے۔ تجزیہ کاروںکی مانیں تو شیعہ حمایت والی حیدر العبادی کی حکومت کی اسلامک اسٹیٹ کے خاتمہ کے بعد بہتر حفاظتی انتظامات کے تعریف ہوتی رہی ہے۔کئی لوگوں میں حکومت کو لے کربدعنوانی اورملک کی کمزور معیشت کے شبہات بھی پید ا ہوئے ہے،امریکہ کے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے باہر نکل جانے سے اگر ٹکراﺅ کی صورت پیدا ہوتی ہے تو ملک پر اس کے برے اثرات کااندیشہ بھی ہے۔ انتخابات میں ہوئی بہت ہی کم ووٹنگ سے ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ عراق اب تھک چکا ہے اور لوگوںکو اب اپنے لیڈران پر بہت کم اعتماد رہ گیا ہے اور شاید اس میںحیران ہونے والی کوئی بات بھی نہیں ہے۔یاد رہے کہ اس بار انتخاب میں منتظر زیدی بھی اپنی قسمت آزما رہے ہیں جنہوں نے امریکہ کے سابق صدر جارج ڈبلیو بش پر جوتا پھینکا تھا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here