نئی دہلی:قریب تیس سال پرانے روڈ ریز معاملے میں کانگریس لیڈر نوجوت سنگھ سدھو کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔سپریم کورٹ نے سدھو کو معاملی مارپیٹ کا ملز پایا ہے۔کورٹ کے فیصلے کے مطابق سدھو کو جیل نہیں جانا ہوگا۔اور انہیں صرف ایک ہزار روپئے کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔سدھو نے اپنی عرضی میں کہا تھا کہ وہ بے قصور ہیں ۔انہیں پھنسایا گیا ہے۔سپریم کورٹ نے سبھی جماعت کو ۲۴ اپریل تک تحریری جواب داخل کرنے کو کہا تھا۔بروز منگل سماعت کے دوران سدھو کی طرف سے کہا گیا کہ اس معاملے میں کوئی بھی گواہ سامنے آکر گواہی نہی دے رہا ہے ۔جن کو گواہ بنایا گیا تھا انہیں پولس سامنے لائی تھی لیکن ان کے بیان میں تضاد پایا گیا۔جو بھی اہم گواہ ہیں ان کے بیانات ایک دوسرے سے مخلتف ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سماعت میں پنجاب سرکار نے سپریم کورٹ میں کہا ہے کہ پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جائے جس میں سدھو اور ان کے ساتھیوں کو غیر ارادتاً قتل کا مجرم مانتے ہوئے تین سال کی سزا سنائی تھی۔جبکہ سدھو خود پنجاب سرکار میں وزیر ہیں۔وہیں سماعت کے دوران مخلاف جماعت کے وکیل کا کہنا تھا کہ سدھو کے خلاف قتل کا معاملہ بنتا ہے،چونکہ انہوں نے یہ سب جان بوجھ کر کیا تھا۔ ان کو معلوم تھا کہ وہ کیا کررہے ہیں۔ پورا معاملہ ۲۷ دسمبر ۱۹۸۸ کو سدھو اور ان کے دوست روپندر سنگھ سدھو کی پٹیالہ میں کار پارکنگ کو لیکر گرنام سنگھ نام کے بزرگ کے ساتھ کہا سنی ہوئی تھی ۔جھگڑے میں گرنام کی موت ہوگئی تھی ،سدھو اور ان کے دوست پر غیر ارادی طور پر قتل کا کیس درج ہوا تھا۔مہلوک شخص اور پنجاب سرکار کی طرف سے کیس درج کروایا گیا تھا ۔سال ۱۹۹۹ میں سیشن کورٹ سے سدھو کو راحت ملی اور کیس کو خارج کردیا گیا۔عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم کے خلاف مضبوط شواہد نہیں ہیں۔صرف شک کی بنیاد پر کیس نہیں چلایا جا سکتا۔ لیکن سال ۲۰۰۲ میں ریاستی سرکار نے سدھو کے خلاف پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ میں اپیل کی ایک دسمبر ۲۰۰۶ کو ہائی کورٹ نے سدھو اور ان کے دوست مجرم مان لیا۔چھ دسمبر کو سنائے گئے فیصلے میں سدھو اور اس کے دوست کو تین تین سال کی سزا اور ایک لاکھ روپیے جرمانہ بھی لگایا گیا ۔پھر دونوں نے سپریم کو رٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا اور پھر آج ان پر یہ فیصلہ آیا کہ انہیں جیل جانے کی نوبت نہیں آئی اور ایک ہزار روپئے جرمانہ کے ساتھ آزادی مل گئی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here