نئی دہلی:کرناٹک اسمبلی انتخابات کی کل ۲۲۴ میں سے ۲۲۲ سیٹوں پر ہوئی ووتنگ کے بعد آج جب گنتی شروع ہوئی تو لوگوں کے خیال میں بھی نہیں تھا کہ ایسا رجحان دیکھنے کو ملے گا۔اور کچھ دیر کیلئے اسے رجحان مان کر دل کو تسلی دینے کی کوشش کی بھی گئی تو رجحان دھیرے دھیرے حقیقت میں بدلنے لگا ۔اور معاملہ یہاں تک نظر آنے لگا کہ کرناٹک میں بی جے پی اپنے دم پر سرکار بنانے کے قریب پہنچ چکی ہے چونکہ اب تک ۱۰۸ سیٹوں پر آگے چل رہی بی جےپی کو صرف چار سیٹوں کی مزید درکار ہے اور انتا انتظام کرنا امت شاہ کے بایاں ہاتھ کا کھیل ہے۔جب گنتی شروع ہوئی تو ابتدائی ایک گھنٹے میں کانگریس بہت آگے تھی لیکن پھر دھیرے دھیرے پیچھے ہوتی چلی گئی اور اب ۷۰ سے ۸۰ کے بیچ میں لٹکی ہوئی ہے۔وہیں جنتا دل سیکولر نے اپنی پوزیشن پہلے کے مقابلے میں کافی مضبوط بنا لی ہے اور قریب چالیس سیٹ ان کی جھولی میں نظر آرہی ہے۔لیکن اس بیچ سب سے حیرت میں ڈال دینے والی بات یہ ہے کہ ریاست میں بی جے پی سے زیادہ ووٹ شیئر حاصل کرنے کے بعد بھی کانگریس کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔وہیں دوسری طرف اب کانگریس کے ہاتھ میں صرف تین ریاست رہ گئی ہے۔پنجاب ،میزورم اور پنڈوچیری۔جبکہ کرناٹک کو اہم ریاست کے طور پر کانگریس کے حق میں دیکھا جارہا تھا اور مانا یہ بھی جارہا تھا کہ یہاں سے کانگریس واپس اپنے ٹریک پر آئے گی اور اس کا اثر ۲۰۱۹ کے لوک سبھا انتخابات پر بھی دیکھنے کو ملے گا،لیکن آج کے نتیجے نے یہ صاف ظاہر کردیا ہے کہ کانگریس کا وجود خطرے میں ہے چونکہ صرف ۲۔۵۰ فیصد کی آبادی پر کانگریس کا قبضہ باقی رہ گیا ہے۔ ریاست کی تشکیل کے ۴۶ سال بعد اس بار سب سے زیادہ ۷۲۔۱۳ فیصدی ووٹنگ ہوئی تھی ۔۲۰۰۸ میں ۶۵۔۱ فیصد کے مقابلے سن ۲۰۱۳ میں ۷۱۔۴۵ ووٹنگ ہوئی تھی ۔تب سرکار بدل گئی تھی۔اور بی جے پی نے پہلے بار ریاست میں پوری اکثریت کے ساتھ سرکار بنائی تھی اور اب اس بار بھی ایسا ہی ہوتا دکھائی دے رہا اور کانگریس کرناٹک کی کرسی سے اترتی نظر آرہی ہے۔بی جے پی اور کانگریس دونوں کے ووٹ شیئر میں اضافہ ہوا ہے۔کانگریس کا ووٹ شیئر ۱۔۳فیصدی بڑھا ہے پھر بھی ۱۲۲ سیٹ سے گھٹ کر س۷۰۔۸۰ کے بیچ میں آگئی ہے۔ اب بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ آخر کانگریس جیتتے جیتتے آخر میں کیوں ہار گئی ۔ماہرین اس کے کئی اسبا ب بتاتے ہیں ۔لوگوں کی مانیں تو سی ایم سدھارمیا کا ماسٹر اسٹروک کہلانے والا ’’لنگایت‘‘کارڈ الٹا اثر کرگیا۔چونکہ انہوں نے انتخابات کی تاریخ کے اعلان سے ٹھیک پہلے ریاست میں لنگایت کا مسئلہ اٹھاکر مودی سرکار کو پھنسانے کی کوشش کی تھی۔اس ذات کے لوگوں کو مذہبی اقلیت کا درجہ دینے کیلئے اسمبلی میں بل پیش کرکے مرکزی سرکار کے پاس منظوری کیلئے بھیج دیا تھا۔ریاست میں لنگایتوں کی آبادی ۱۷ فیصدی سے گھٹ کر ۹ فیصدی مانی گئی ہے ۔سدھارمیا کے اس قدم سے وککالیگا سماج اور لنگایتوں کی ایک جماعت ویراشیو میں بھی ناراضگی پائی گئی۔اس لئے ان کا جھکاو بی جے پی کی طرف ہوگیا۔ ایک دوسرا اہم سبب پی ایم مودی کو بھی مانا رہا ہے۔پی ایم مودی نے اس انتخابات کیلئے کل ۲۱ ریلیاں کیں۔کرناٹک میں کسی وزیر اعظم نے اتنی ریلیاں اب تک نہیں کی تھی۔پی ایم مودی اس دوران دو بار نمو اپلی کیشن سے آن لائن بھی ہوکر ووٹ مانگا۔کمال کی بات یہ رہی کہ اس بیچ ایک بھی مذہبی مقام پر پی ایم مودی نہیں گئے یہ اور بات ہے کہ نیپال سے انہوں نے مذہبی کارڈ کا استعمال کیا۔بی جے پی صدر امت شاہ نے کل ۲۷ ریلیا ں اور ۲۶ روڈ شو کئے ۔قریب پچاس ہزار کلو میٹر کا سفر کیا ۔چالیس مرکزی وزرا،۵۰۰ رکن پارلیمنٹ،ورکن اسمبلی اور دس وزریر اعلیٰ نے کرناٹک میں انتخابی مہم کو انجام دیا ۔بی جے پی کے لیڈران نے پچاس سے زیادہ روڈ شو اور ۴۰۰ سے زیادہ ریلیاں کیں۔ جبکہ دوسری طرف کانگریس صدر راہل گاندھی نے ۲۰ ریلیاں اور چالیس روڈ شو و اجلاس میں حصہ لیا ۔یہ اور بات ہے کہ راہل نے ۵۵ ہزار کلو میٹر کا سفر کیا ۔پھر بھی وہ اپنی پارٹی کو اپنی کرسی برقرار رکھنے میں کامیابی نہیں دلا پائے۔ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ راہل گاندھی کو جس انداز میں اپنی بات رکھنی چاہیے اور جس طرح پی ایم مودی کے حملے کا جواب دینا چاہیے اس پر پوری طرح انصاف نہیں کیا۔اور جس طرح پی ایم مودی عوام کو لبھانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور یہ ہنر راہل گاندھی کے پاس نہیں ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here