نئی دہلی:ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی پر اپنے نیپال دورے سے گھریلو سیاسی مفاد حاصل کرنے کے الزامات لگے ہیں۔باتیں دو طرفہ رشتوں کو بہتر بنانے پر ہوئی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان میں سے کتنی باتوں کو عملی جامہ پہنایا جائے گا؟ وزیر اعظم نریندر مودی کے دوروزہ نیپال کے دورے کو الگ الگ نظریے سے دیکھا جا رہا ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کی رائے میں نریندر مودی نے اپنے دورے کا مرکز اپنے کو ہندولیڈر ثابت کرنے کو بنایاہے۔ انہوں نے نیپالی عوام کے بجائے ہندوستانی عوام خاص طور پر کرناٹک انتخابات کے مد نظر وہاں کے ووٹرس کو متاثر کرنے کے لئے زیادہ ایسا کیاہے۔اور اب آج صبح جب کرناٹک انتخابات کی گنتی شروع ہوئی تو اس کا فائدہ بھی ملتا نظر آیا جس سے لوگوں کو پورا یقین ہوگیا کہ مودی کا مشن نیپال نہیں کرناٹک تھا جس پر کام نیپال سے کرنے گئے تھے۔اس کے علاوہ کچھ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس دورے سے ہندوستان اور نیپال کے رشتے مضبوط ہونگے، اور دونوں ممالک کے درمیا ن کچھ مشکل مسائل کے حل کا راستہ نکلے گا۔ خود پی ایم مودی نے یہ کہا ہے کہ اس وقت ہندوستان اور نیپال کے رشتے ابتدائی دور میں ہیں ، ہندوستان شیر پا کے کردار میں نیپالی پہاڑوں پر رہنے والی عوام کی ترقی کے لئے کوشاں رہے گا۔اس کے باوجود نیپالی عوام کے من میںکچھ شبہات اس حوالے سے ہیں کہ کیا مودی اس بار واقعی سنجیدہ ہیں کہ جس طرح سے انہوں نے اپنے ملک میں جملوں کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ مودی نے اپنے اس دورے کی شروعات سیتا جی کے گھر جنکپوری سے کی جہاں پر انہوںنے مہمانوں کی ڈائری میں سیارام لکھ کر اپنی موجودگی درج کرائی۔وہاں سے وہ بذریعہ ہوائی جہاز کاٹھمانڈو روانہ ہوئے جہاں انہوں نے جوسموم میں مکتی ناتھ مندر میں درشن کئے۔اس پربھی لوگوں نے تنقید بھی کی کہ پچھلے تیس سالوں میں سنگھ پریوار نے صرف جے شری رام کا نعرہ لگایا ہے اور جے سیا رام کے نعرے کو نکارا ہے۔ وہاں کی مقامی عوام اس دورے سے ناراض بتائی جارہی ہے کیوں کہ قدیم روش کو توڑ کر مودی کو مندر کے درمیانی احاطہ میںلے جایا گیا اور اس کو باقاعدہ ٹی وی پر نشر بھی کیا گیا۔ اس سے لگا کی نیپال میں ہوتے ہوئے بھی مودی کرناٹک کے ہندو ووٹرس کو متاثر کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ مودی کے اس دورے میں صرف ایک ٹھوس کام یہ ہوا کہ ۰۰۹ میگاواٹ بجلی کی طاقت والا ارن ۳ کا افتتاح جو مودی اور نیپال کے وزیر اعظم کے پی اولی نے کیا ۔ اس کے علاوہ مودی نے وہ سبھی وعدے دہرائے جو پچھلے کئی سالوں میں کرتے آئے ہیں لیکن جن پر صحیح طور پر ابھی تک کام نہیں ہوا ہے، مثلاً ہندوستان نیپال کو مزید ہوائی راستے مہیا کرائے گا، ترائی میں سڑکوں کے کام پورے کئے جائیں گے اور مہاکالی اسکیم کی رپورٹس پر کام شروع کرنے میں تیزی لائی جائے گی۔ یہاں یہ یاد دلانا غلط نہ ہوگا کہ دونوں ممالک نے مہاکالی اسکیم پر ۶۹۹۱ میں یعنی ۲۲ سال قبل پہلے دستخط کئے تھے۔ فی الحال جس اسکیم پر کام ہوتا نظر آ رہا ہے وہ رکسول اور کاٹھمانڈو کو ریل لائن سے جوڑنے کا ہے۔ نیپال ابھی تک ہندوستان کی نوٹ بندی کو بھولا نہیں ہے جس میںنیپال کی عوام کا بے حد نقصان ہو ا تھا، اولی بھی چین پرست مانے جاتے ہیں۔ اگر اس دورے کے نتائج میں وہ دونوں ممالک سے ایک سی دوری بنائے رکھتے ہیں تو یہ مانا جا سکتا ہے کہ یہ دورہ کامیاب رہا۔ حالات کے مد نظر اولی نے بھی بہت سی باتیں کہیں ہیں، مثلاً لوگ آتے جاتے رہتے ہیں لیکن ہندوستان نیپال تو ہمیشہ بنے رہیںگے، لیکن کتنی باتوں پر وہ عمل کرتے ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ مودی کے دورے کے ختم ہوتے ہی اولی نے اپنے ملک میں ہورہی تنقید کے حوالے سے ایک دن بعد ہی کہا کہ دورے کے دوران کچھ باتیں قومی مفاد کے دائرے میں نہیں آتی ہیں، شاید ان کا اشارہ وام پنتھی لیڈران اور کارکنان کی گرفتاری کی طرف تھا۔ انہیں اس وجہ سے گرفتار کیا گیا تاکہ مودی کا دورہ آسانی سے مکمل ہو جائے۔ دونوں ممالک کے عہدے داران نے دورے کو بے حد کامیاب بتایا۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے وقت میں یہ امیدیں کیا رنگ لاتی ہیں۔لیکن ایک بات تو صاف ہے کہ مودی نے نیپال میں جس سیارام کا استعمال کیا تھا اس کا فائدہ کرناٹک میں ملتا نظر آرہا ہے۔چونکہ وہاں بی جے پی اپنے دم پر سرکار بناتی ہوئی نظر آرہی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here