نئی دہلی:16 مئ کو  شعبان کی ۲۹ تاریخ تھی اس لیے چاند کی رؤیت متوقع تو تھی ہی.عام مسلمان کے علاوہ ملک بھر میں قائم معروف اور مجہول رؤیت ہلالِ کمیٹیوں کی جانب سے چاند دیکھنے کا اہتمام کیا گیا. شام ہی  سے سوشل میڈیا پر رؤیت ہلال کے استفسار کا سیلاب امڈ آیا تھا. خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف، بہار، امارت شرعیہ بہار جھارکھنڈ اور دہلی کے لیٹر پیڈ پر رؤیت سے انکار لیکن مدراس، چترادرگہ (کرناٹک) اور ویلور کے متعدد مقامات سے رؤیت کی اطلاعات کی بنیاد پر  رؤیت ہلال کی تصدیق کا اعلان کیا گیا. جبکہ ادارہ شرعیہ بہار، سنی جمیعۃ العلما ممبئ، مفتی مکرم امام فتح پوری مسجد دہلی وغیرہ نے چاند نہ دیکھے جانے کی خبر کے ساتھ کہیں سے بھی شہادت شرعی موصول نہ ہونے کی بنا پر جمعہ سے روزہ رکھنے کا اعلان کیا . ایک طرف امارت شرعیہ کی عجلت دوسری طرف ادارہ شرعیہ کی جانب سے شہادت شرعی کا معیار اس درمیان الجھے ہوئے ہیں عام مسلمان. مان لیا جائے کہ جنوبی ہند کے مختلف مقامات پر رؤیت ہوئی تو پھر امارت والوں کے پاس شہادت شرعی حاصل کرنے کا معیار و پیمانہ کیا ہے.؟ کیا واقعی امارت شرعیہ بہار جھارکھنڈ نے اپنے کارکنوں کے ذریعے ان مقامات سے ذاتی طور پر شہادت شرعی حاصل کرنے کی کوشش کی یا یہ ادارہ بھی عام مسلمان کی طرح بس واٹس ایپ یا فیس بک اور فون پر اطلاع کو ہی شہادت شرعی تسلیم کر تا ہے ۔حالاں کہ آج جب ہم فیک نیوز یعنی فرضی خبروں کے سیلاب میں جی رہے ہیں اور آئے دن دیکھتے رہتے ہیں کہ فرضی خبروں کی بنا پر کس طرح خلفشار اور انتشار برپا کیا جاتا ہے ایسے میں ایک دینی مسئلے میں بھلا محض خبر کو ہی شہادت شرعی کیسے تسلیم کر لیا جائے ۔خبروں کی تجار ت کرنے والے ذمے دار افراد یعنی صحافی برادری بھی  کسی خبر کو مختلف ذرائع  سے جب تک تصدیق نہیں کرتے  تب تک نہ تو وہ اپنے اخبار میں جگہ دیتے ہیں  نہ ٹیلی کاسٹ  کرتے ہیں  نہ ریڈیوسے نشر کرتے ہیں  اور نہ ہی سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں  دوسری طرف ادارہ شرعیہ کی جانب سے جاری اعلان نامے میں شہادت شرعی نہ مل پانے کا اظہار کیا گیا. یہاں یہ سوال یہ ہے  کہ جب ٹیلی-فون، موبائل اور انٹرنیٹ کے ذریعے ملنے والی اطلاع  خبر محض  ہے تو پھر چاند نہ دیکھے جانے کی اطلاع بھی تو انہیں ذرائع سے مذکورہ ادارے جاری کرتے ہیں  اور چاند نظر آجائے تو بھی اعلان کے لیے انہیں ذرائع کو بروئے کار لاتے ہیں  . ایک طرف ان ذرائع سے حاصل شدہ خبروں کو تسلیم نہیں کرتے  دوسری طرف دیگر عام معاملات میں ان ذرائع سے حاصل شدہ خبروں پر یقین کرتے ہیں.  علمائے کرام کو غور کرنا چاہیے کہ آخر رؤیت ہلال کمیٹیوں سے ٹیلی فون کے ذریعے اعلان یا فیس بک اور وہاٹس ایپ پر جاری تصدیق نامے  کی  کاپی کیوں کر قابل عمل  ہے. اس انتشار کی کیفیت کو دور کرنے پر بہر حال غور کیا جانا چاہیے. حالاں کہ رؤیت ہلال کے تعلق سے حدیث بہت واضح ہے کہ ۲۹ کو چاند دیکھنے کا اہتمام کیا جائے اگر نہ دکھائی دے تو ۳۰ کی گنتی پوری کی جائے  تو 29 کو جس شہر/مقام پر چاند کی رؤیت نہ ہو تو بس 30 کی گنتی پوری کر نے پر عمل کیا جائے یا پھر ایک مخصوص مسافت سے ذاتی اور شخصی طور  پر حاصل تصدیق کو ہی تسلیم کیا جائے . موبائل اور انٹرنیٹ پر ادارہ شرعیہ کا فرمان پٹنہ سے دور  واقع اضلاع میں کیوں کر قابل قبول ہو.؟

کنفیوژن کا یہ عالم ہے کہ واٹس ایپ پر رمضان کی مبارکباد دینے والے بھی الگ الگ  رویت ہلال کمیٹی کے لیٹر پیڈ پر چاند کی رویت کے تصدیق نامے کی کاپی منسلک کر کے مبارکبادی کے پیغامات ارسال کر رہے ہیں ۔ادھر دوسری طرف گاؤں  محلوں میں مرد وخواتین الگ تذبذب میں ہیں ۔ایک مسجد سے اعلان ہو رہاہے کہ شہادت شرعی حاصل نہ ہونے کی بنا پر روزہ جمعرات سے نہیں بلکہ جمعہ سے ۔تو دوسری مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے اعلان ہو رہاہے کہ فلاں فلاں مقام پر چاند کی رؤیت عام ہوئی ہے اس لیے جمعرات سے ہی روزہ رکھا جائے گا ۔عجیب گو مگو کی کیفیت ہے ۔ایک بار پھر ایک ہی شہر ،ایک گاؤں   بلکہ ایک ہی  گھر میں  آدھے افراد ایک دن روزہ رہیں گے باقی آدھے اس دن روزہ نہیں رہیں گے ۔رؤیت ہلال کا مسئلہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک لا ینحل مسئلہ ہو گیا ہے ۔ آئے دن انتشار کی کیفیت بنی رہتی ہے ۔کچھ تو حل نکلنا چاہیے کہ امت اس مسئلے میں کم ازکم انتشار کی شکار نہ ہو۔اور دیگراقوام کی مضحکہ خیزی سے بچ سکے ۔کیوں کہ بہر حال دوسروں کو یہ موقع ملتا ہے کہ یہ لو ایک ہی چاندہے لیکن مسلمانوں کی آدھی آابادی کو نظر آگیا اور آدھی آبادی کو نظر ہی نہیں آیا  ۔اور یہ بھی کہ   دوسری آدھی آبادی پہلی کو  ماننے کو تیار نہیں ۔ یعنی مسلمان خود آپس میں ہی بنٹے ہوئے ہیں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here