(اسلام آباد): پاکستان کے سابق جنرل پرویز مشرف نے ناہل قرار دیئے گئے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 1999 میں ہوئے کارگل جنگ کو لے کر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جنرل مشرف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جنگ کے دوران پاکستان کی آرمی بھارک کے خلاف مضبوط پوزیشن میں تھی اس کے بعد بھی نواز شریف بھارت کے دباو میں آ گئے اور پاکستانی فوج کو کارگل سے پیچھے ہٹنے کا حکم جاری کر دیا۔ معلوم ہو کہ جنرل پرویز مشرف کارگل جنگ کے دوران آرمی چیف تھے۔ غور طلب ہے کہ آرمی چیف پرویز مشرف نے 2008 میں ہوئے ممبئی حملے پر نواز شریف کے بیان کو  تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک مطالبہ کیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ نواز شریف نے 2008 کے ممبئی حملے کے تعلق سے جو متنازعہ بیان دیا تھا، اس کے لیےان پر ملک سے غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف
معلوم ہو کہ پاکستان میں کئی معاملوں کا سامنا کر رہے 74 سالہ جنرل پرویز مشرف اپنے عہدے سے سبک دوش ہونے کے بعد، گزشتہ ایک سال سے دبئی میں رہ رہے ہیں۔ انہیں علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ گزشتہ دنوں آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ کی حیثیت سے جنرل مشرف نے ممبئی حملے پر نواز شریف کے متنازع بیان کے پیش اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔ اس دوران انہون نے کارگل جنگ کے تعلق نہ صرف کھل کر بات کی بلکہ جنگ کے دوران پاکستانی فوج  کے پیچھے ہٹنے کے لیے براہ راست نواز شریف کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ کارگل جنگ اور اس وقت کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے جنرل مشرف نے کہا کہ پاکستان اس لڑائی میں پانچ الگ۔الگ جگہوں پر مضبوط پوزیشن میں تھا اور اس وقت کے وزیر اعظم کو کم از کم دو بار اس تعلق سے آگاہ بھی کیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا۔ مشرف نے شریف کے اس داعوے کو خارج کر دیا کہ کارگل میں پاکستای فوج کے ہٹائے جانے کے تعلق سے انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ مشرف نے ایک نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ مجھ سے پوچھتے رہے کہ کیا ہمیں واپس آ جانا چاہئے’’۔ سابق صدر جمہوریہ اور فوجی اعلیٰ کمان نے یہ بھی کہا کہ اس وقت کے سینیٹ راجا ظفر اللہ حق اور وزیر داخلہ چودھری شجاعت نے بھی فوج کے واپس لوٹنے کا احتجاز کیا تھا۔ لیکن امریکہ سے لوٹنے کے بعد شریف نے فوج کے کارگل سے پیچھے ہٹنے کا حکم جاری کر دیا تھا۔ مشرف کا کہنا ہے کہ نواز شریف ہندوستانی حکومت کے دباؤ میں تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here