مظفر نگر: مغربی یو پی کے مظفر نگر میں ایک بار پھر سے فرقہ وارانہ کشیدگی پھیل گئی ہے۔ نشے میں دھت ایک شخص نے بھگوان شیو اور پاروتی جی کی مورتیوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے بعد وہاں بڑی تعداد میں لوگ جمع ہو کر ملزم کے خلاف سخت کاروائی کی مانگ کرنے لگے تھے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے علاقہ میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کی مغربی یو پی کے مظفر نگر میں مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ نشے کی حالت میں ایک شخص نے ایک مندر میں گھس کر بھگوان شیو اور پاروتی جی کی مورتیوں کو توڑ دیا ہے۔ اس واقعہ کی خبر پھیلتے ہی پورے علاقے میں تناﺅ جیسے حالات ہیں۔ خبر ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق یہ حادثہ ضلع کے کھتولی شہر کا ہے۔ سرکل آفیسر راجیو کمار سنگھ نے بتایا ہے کی واقعہ کے بارے میں منگل کے روز شام کو معلوم ہوا ۔ بھگوان شیو کا مندر شہر کے دیوی داس علاقہ میں واقع ہے۔ واقعہ سے مشتعل لوگوں نے ملزم کے خلاف فوری کاروائی کرنے کی مانگ کی،حالات کشیدہ ہوتے دیکھ پولیس نے ایک نوجوان کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے ، جس کے بعد حادثہ کو انجام دینے والے کا پتا چلا۔ حالات کو دیکھتے ہوئے کھتولی اور آس پاس کے علاقوں میں سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ کسی بھی طرح کے ناگہانی واقعہ کے پیش نظر پولیس کے مزید جوانوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔مظفر نگر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس سال فروری میںبھی ضلع میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔ در اصل ایک لڑکا ایک لڑکی سے ملنے گیا تھا۔ کچھ لوگوں نے اس کے ساتھ مار پیٹ کی تھی اور اسکی موٹر سائیکل بھی جلا دی تھی،لڑکے کا تعلق اقلیتی فرقے سے تھا۔ اس سے کشیدگی زیادہ بڑھ گئی تھی۔ پولیس نے فوری کاروائی کرتے ہوئے حفاظتی انتظامات کر دئیے تھے۔ جائے حادثہ پر بڑی تعداد میں لوگ اکھٹا ہو گئے تھے۔ اس کا ایک ویڈیو بھی وائرل ہوا تھا۔ اس میں حادثہ کے شکار لڑکے کو پولیس کی گاڑی میں بیٹھ کر جاتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ پچھلے سال پائپ لائن کے معاملہ میں بھی دو فرقے آمنے سامنے آ گئے تھے۔دونوں جماعتوں میں خون ریزی ہوئی تھی۔ اس واقعہ میں ایک نوجوان کی موت بھی ہو گئی تھی، جبکہ ایک خاتون و تین لوگ شدید زخمی بھی ہو گئے تھے۔ ایس ایس پی نے موقع پر پہنچ کر گرام پردھان کے علاوہ دیگر لوگوں کو تفتیش کے لئے حراست میں بھی لیا تھا۔فی الحال مظفر نگر میں تناﺅ کا ماحول برقرار ہے اور یہ اچھی بات ہے کہ ملزم کسی دوسرے فرقے کا نہیں ہے ورنہ ماجرہ کچھ اور ہی ہوتا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here