فاطمہ حق
شعبہ اردو ،رانچی یونی ورسٹی

رمضان المبارک کا مہینہ بہت ہی رحمتوں اور برکتوں والا ہے. اس کی اہمیت وافادیت زندگی کے مختلف پہلووں سے ثابت ہے ۔ہر سال اس با برکت ماہ میں ہمیں اللّہ کی طرف رجوع ہونے اور گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کا بھر پور موقع ملتا ہے۔ اس مبارک ماہ میں انسان کا ذہنی اور جسمانی نظام مضبوط اور طاقتور ہو جاتا ہے۔ ایک واضح برکت اس مہینے میں رزق کی کشادگی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ عام دنوں میں بمشکل دو وقت کی روٹی کا انتظام کرنے والا بھی اس ماہ میں بآسانی انواع و اقسام کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ لوگوں میں داد و دہش کا مزاج بن جاتا ہے۔ لیکن روزے کی اس فراوانی میں عموما ہم اصول صحت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ خاص کر افطار میں بے احتیاطی عام ہے۔ جو غذا ہم اس مہینہ میں استعمال کرتے ہیں وہ سادہ متوازن اور صحت بخش ہونا چاہیئےتاکہ جسم میں کمزوری لاحق نہ ہو۔ کھانے پینے میں درج ذیل احتیاطی تدابیر سے ان شاء اللہ ہمیں روزہ کے اخروی ثواب کے علاوہ ظاہری طور پر بھی بے شمار فوائد حاصل ہوں گے۔ سحری: سحری میں پیٹ بھر کر کھانا بھی غلط طرزِ عمل ہے۔ اس سے معدے کا نظام غیر محرک ہو جاتا ہے اور نظامِ ہضم کو شدید نقصان پہنچاتا ہے سحری میں دو کھجور اور دودھ کا استعمال کرنا چاہئیے اس سے ہمارے معدے کو ہضم کرنے میں پریشانی نہیں ہوتی ہے۔ مخصوص مقدار سے زائد غذا اکثر مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہے لہٰذا اول تو کسی بھی قسم کی بھاری و ثقیل غذا کا استعمال ہرگز نہ کریں اور اگر بھاری غذا کا استعمال کر بھی رہے ہوں تو کم مقدار میں لیں-ایک اور بات کا بہت خیال رہے کہ سحری میں انڈا یا مچھلی ,گوشت یا اس سے بنی ہوئ چیزیں کم سے کم استعمال کریں یا بالکل ہی نہ کھائیں۔ ایسی غذاوں سے پیاس کی شدّت بڑھ جاتی ہے ان مختصر احتیاتی تدابیر سے افطار تک انشاءاللہ روزہ اچھا گزرے گا- افطار : ہمیشہ کھجور سے روزہ کھولیں اگر کھجور نہ ہوتو پانی سے روزہ کھولیں ۔جدید تحقیق کے مطابق کھجور میں کچھ ایسی غذائیت ہوتی ہے جو معدے کے عضلات کو مضبوط کرتی ہے۔ضرورت سے زیادہ کھانا کھانے سے پرہیز کریں۔ اکثر لوگ رمضان میں ضرورت سے زیادہ افطار تیار کرتے ہیں اور جب تک پلیٹ خالی نہ ہو اٹھتے نہیں ہیں جس کی وجہ سے مغرب کی نماز کی ادائیگی میں کافی تاخیر ہوجاتی ہےکھانے پینے میں حد سے زیادہ تکلف کی وجہ سے آج کل زیادہ تر گھروں میں خواتین حضرات مرد اور فیملی ممبز کا موڈ خراب ہونے کے ڈر سے ساری شام کچن میں جھونک دیتی ہیں- اگر اپ چاہتے ہیں کہ پورا رمضان صحت مند رہیں اور معدے کی بیماری سے بچیں تو افطار اور سحری کم کھائیں، اتنا کھائیں کی ہضم ہو سکے ۔ فضول خرچی ایک مذموم عمل ہے لیکن رمضان کے دنوں میں لوگ اسراف بہت زیادہ کرتے ہیں -اسراف یا فضول خرچی ان گناہوں میں سے ایک گناہ ہے جن کی اللہ تعالٰی نے مذمت فرمائی ہے ۔فرمانِ باری تعالٰی ہے: “اسراف مت کرو بیشک اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں فرماتا ہے۔”نیز دوسری جگہ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے: “اسراف اور بے جا خرچ سے بچو ،بے جا خرچ کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے پروردگار کا بڑا ہی نا شکرا ہے۔” کھانے پینے میں متوازن طریقہ اپنانے کے علاوہ ہمیں رمضان کے مقاصد بھی ذہن میں رکھنے چاہئیں اور زیادہ سے زیادہ وقت تلاوت قرآن، ذکر و اذکار اور دیگر عبادتوں میں لگانا چاہیے۔ بہت سے ایسے لوگ سونے میں حد سے زیادہ وقت صرف کر دیتے ہیں اور کچھ روزے دار سارا دن نیند کی غفلت میں گزار دیتے ہیں اور رات موبائل میں۔ آج کل کے نوجوان حضرات تو پورے دن موبائل میں لگے رہتے ہیں پیارے روزے دار ان مبارک مہینے کو غنیمت جانیں اور زیادہ وقت قرآن کی تلاوت ,نماز ,تسبیح میں صرف کریں اور جو دعا چاہیں مانگیں۔ اللہ اس مہینے میں ہر ایک کی دعا قبول فرماتا ۔ بعض روزے دار اپنا اہم وقت لوگوں سے مل کر برباد کرتے ہیں۔ زیارتوں میں سوائے چغلی وغیبت کے کوئی اور بات کرنا نہیں جانتے۔ کہیں ہمارا حشر ایسا نہ ہو کہ جب قبروں سے اٹھائیں جائیں تو کف افسوس ملتے ہوئے کہیں کہ کاش اس لمحہ میں ہم نے کوئی نیکی کی ہوتی۔ اللہ تعالی ہمیں اس مبارک مہینے کی قدر کرنے کی توفیق بخشے اور فضول خرچی سے بچائے۔ آمین

فاطمہ حق شعبہ اردو رانچی یونیورسٹی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here