تحریر:آصف تنویر تیمی

نیکی اور ثواب کے بہت سارے خاص مواقع ہیں، ان میں رمضان کا بابرکت مہینہ بھی ہے۔ اور اس کی برکتیں آخری عشرے میں اپنی انتہا کو پہنچی ہوتی ہیں۔ اس عشرہ کی نورانی راتوں میں سے کوئی ایک رات قدر ومنزلت کی ہوتی ہے جسے قرآن وحدیث میں ’لیلة القدر‘ اور اردو وفارسی میں ’شب قدر‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ درحقیقت یہ رات اس امت کو نعمت کے طور پر عطا کی گئی ہے، تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ نیک عمل کرسکے۔ قرآن وحدیث میں آخری عشرہ بشمول اس کی پُرنور رات بڑی فضیلت موجود ہے۔جس میں ہم جیسے گنہگار توبہ واستغفار کرتے اور اپنے رب کے سامنے اپنی بہت ساری دل کی تمناو¿ں کو پیش کرتے ہیں۔ قرآن کریم میں اس نام(القدر) سے ایک پوری سورت ہے، جو عام طور سے اس موقع سے بیان کی جاتی ہے،ارشاد باری تعالی ہے﴾یقینا ہم نے اسے شب قدر میں نازل فرمایا۔ تو کیا سمجھا کہ شب قدر کیا ہے۔شب قدر ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس (میں ہر کام) کے سرانجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (جبرائیل) اترتے ہیں۔ یہ سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک(رہتی ہے)۔[ القدر:۱-۵]حافظ صلاح الدین یوسف اس سورت کی تفسیر کرتے ہوئے ایک جگہ رقمطراز ہیں:” اس ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں سے بہتر ہے اور ہزار مہینے ۳۸ سال ۴ مہینے بنتے ہیں۔ یہ امت محمدیہ پر اللہ کا کتنا احسان عظیم ہے کہ مختصر عمر میں زیادہ ثواب حاصل کرنے کے لئے کیسی سہولت عطا فرمادی“۔[احسن البیان:۴۳۷۱]سورت کے ترجمے سے ظاہر اس رات فرشتے حضرت جبرائیل علیہ السلام سمیت زمین پر اترتے ہیں ان کاموں کو انجام دینے کے لئے جن کا فیصلہ اس سال میں اللہ تعالی فرماتا ہے۔اس سورت میں اس بات کی طرف بھی واضح اشارہ موجود ہے کہ قرآن اسی آخرہ عشرہ کی طاق راتوں میں سے کسی رات نازل ہوا۔برصغیر کے جید عالم دین اور مفسر علامہ ڈاکٹر محمد لقمان سلفیحفظہ اللہ مذکورہ سورت کی پہلی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:” اس آیت کریمہ میں اللہ تعالی نے خبر دی ہے کہ اس نے قرآن کو ایک باعزت او رخیر وبرکت والی رات میں نازل کیا ہے۔ پورا قرآن لیلة القدر میں لوح محفوظ سے آسمان دینا پر نازل ہوا، پھر وہاں سے جستہ جستہ حسب ضرورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوتا رہا، اور تئیس سال میں اس کے نزول کی تکمیل ہوئی“۔ [تیسیر الرحمن لبیان القرآن: ۲۷۵۷۱] امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ’لیلة القدر‘ ثابت ہے،اس کی بیش بہا فضیلت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اہل علم کے اقوال اس تعلق سے مختلف ہیں کہ آخر یہ رات ہے کون سی۔بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ لیلة القدر کا معاملہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تک ہی تھا۔ اور یہ اس لئے کہ” ایک مرتبہ آپ لیلة القدر (کی تحدید اور تعیین)کے بارے میں خبر دینے نکلے اسی وقت دوشخص آپس میں لڑنے لگے جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ وسلم بتلا نہ سکے“۔[صحیح بخاری، کتاب فضل لیلة القدر] مفسرین کا مذکورہ حدیث سے استدلال درست نہیں ہے اس لئے کہ اسی حدیث میں آپ نے اسے پچیسویں،ستائیسویں اور انتیسویں کی رات میں تلاش نے کا بھی حکم دیا۔ اگر سرے سے اس رات کی فضیلت ہی ختم کرنا مقصود ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مذکورہ راتوں میں شب قدر کے تلاش کرنے کا اپنے صحابہ کو حکم نہ دیتے۔بعض سلف کا کہنا ہے کہ لیلة القدر کسی ایک مہینہ کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ یہ سال کے الگ الگ مہینہ میں آتا رہتا ہے۔ جو لوگ سالوں بھر قیام اللیل کا اہتمام کرتے ہیں وہ اس رات کو بہ آسانی پاسکتے ہیں۔اس قسم کا ایک قول امام ابو حنیفہ اور ان کے دونوں شاگردوں امام محمد اور امام یوسف سے بھی منقول ہے۔[التمہید لابن عبد البر:۲۸۰۲] لیکن یہ قول بھی درست نہیں ہے اس لئے کہ سورة القدر اس بات پر بین دلیل ہے کہ ’لیلة القدر‘ رمضان ہی میں ہوتا ہے۔اور یہی اکثر وبیشتر مفسرین، محدثین اور فقہاءکی رائے ہے۔ لیکن پھر ان لوگوںکا آپس میں یہ اختلاف ہے کہ رمضان کی کس رات میں ’شب قدر‘ ہوتی ہے، اس تعلق سے بھی متعدد اقوال ہیں: بعض صحابہ کا خیال ہے کہ’لیلة القدر‘ شروع رمضان،بیچ رمضان اور اخیر رمضان میں ممکن ہے۔یعنی کسی سال یہ مبارک رات رمضان کے شروع میں، کسی سال رمضان کے بیچ میں اور کسی سال رمضان کے اخیر میں واقع ہوا کرتی ہے۔ یہ قول ابن عمر اور صحابہ کی ایک جماعت کا ہے۔[سنن ابو داود،حدیث نمبر:۷۸۳۱] دوسرا قول یہ ہے کہ رمضان کی پہلی تاریخ کو یہ رات ہوا کرتی ہے۔ یہ قول انس بن مالک اور ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہما کا ہے۔ [ ملاحظہ ہو: فتح الباری: ۴۳۶۲] تیسرا قول یہ ہے کہ رمضان کی سترہویں رات قدر کی رات ہوتی ہے۔اور ۲ہجری میں اسی تاریخ کو بدر کا عظیم واقعہ بھی پیش آیا تھا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” تم لوگ(لیلة القدر کو) رمضان کی سترہویں، اکیسویں اور تئیسویں شب کو تلاش کیا کرو“[سنن ابوداود،حدیث نمبر:۴۸۳۱]۔ یہی قول صحابہ میں سے زید بن ارقم،ابن مسعود، ابن الزبیر اور تابعین میں سے حسن بصری اور فقہاءمیں سے امام شافعی کا ہے۔ شب قدر کی تحدید او رتعیین کے تعلق سے اور بھی اقوال ہیں(حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں چالیس اقوال نقل کیے ہیں)، جیسے انیسویں کی رات،بیسویں کی رات،اکیسویں کی رات،بائیسویں کی رات،تئیسویں کی رات،چوبیسویں کی رات،پچیسویں کی رات، ستائیسویں کی رات ۔ صحابہ اور تابعین کی اکثریت کا میلان اس جانب ہے کہ ستائیسویں کی رات ہی ’لیلة القدر‘ کی رات ہے۔ اس حوالے سے کئی حدیثیں بھی موجود ہیں۔ ابی بن کعب کا حدیث میں حلفیہ بیان ہے کہ یہ ستائیسویں کی رات ہے[صحیح مسلم]۔ معاویہ بن سفیان سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” قدر کی رات ستائیسویں کی رات ہے“[سنن ابو داود،حدیث نمبر:۶۸۳۱]۔اسی معنی کی حدیث ابن عمر کی بھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” جو شب قدر کا متلاشی ہو اسے ستائیسویں کو تلاشنا چاہئے“[مسنداحمد]۔ عبداللہ بن عباس سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا او رکہا:اے اللہ کے نبی! میں بوڑھا آدمی ہو،(تمام راتوں میں)قیام اللیل میرے لئے مشکل ہوتا ہے۔کسی ایک رات کے متعلق بتلائیں،تو آپ نے کہا: تم ستائیسویں کو لازم پکڑو“[مسند احمد]۔اس معنی کی تقریبا درجنوں احادیث ہیں،سب کا ذکر کرنا طوالت کا باعث ہے۔ خلاصہ یہ کہ اکثر حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قدرکی رات ستائیسویں کی رات ہے۔ایک قول یہ بھی ہے کہ انتیسویں کو ’شب قدر‘ ہوتی ہے۔ جیسا کہ بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے۔ لیکن سب سے صحیح ترین قول یہ ہے کہ شب قدر آخری عشرہ کی طاق راتوں میں سے کسی ایک رات ہوتی ہے۔ کسی ایک رات کی تعیین اور تخصیص درست نہیں۔اور جن روایتوں میں تخصیص موجود ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اُس سال اسی رات کو شب قدر واقع ہوئی تھی جس کو راوی نے بیان کیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم سب آخری عشرہ کی طاق راتوں میں ’لیلة القدر‘ کو ڈھونڈو“[صحیح بخاری،فضل لیلة القدر]۔اس معنی کی حدیث ابن عمر،عمر بن خطاب، ابو ہریرہ اور عاصم جرمی رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے۔ بہر حال لیلة القدر سے متعلق احادیث کا مطالعہ کرنے سے اتنی بات ضرور سمجھ میں آتی ہے کہ مسلمان کی زندگی میں اس رات کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے، اس لئے اسے پانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے، اور بنی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں رمضان کی آخری دس راتوں میں عبادت کا خوب اہتمام کرنا چاہئے، اعتکاف کرنا چاہئے، اور اپنے بال بچوں کو بھی ان راتوں میں عبادت کے لئے جگانا چاہئے۔ تو آئیے اس رمضان میں ہم بھی لیلة القدر کے پانے کے لئے پورے طور پر کمربستہ ہوجائیں، اعتکاف،قرآن کی تلاوت اور ذکر واذکار سے اس رات کی نورانیت کو مزید دوبالا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات کی ایک خاص دعا سکھلائی ہے اسے یاد کرنا اور پڑھنا ہرگز نہ بھولیں”اللہم انک عفو تحب العفو فاعف عنی“ اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے،معافی کو پسند کرتا ہے، تو ہمیں معاف کردے۔ asiftanveertaimi@gmail.com

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here