ثناءاللہ صادق تیمی

تحریر:ساگر تیمی

سیدہ صادقہ کی آنکھوں میں آنسو تھے ، منہ سے الفاظ کی بجائے درد نکل رہا تھا ، چہرے کی ساری لکیریں اس بات کا اشاریہ تھیں کہ سیدہ صادقہ کتنی دکھی ہیں ۔ محفل تھی ہی ایسی کہ ان کا خود پر قابو نہیں تھا ” ہائے ابھی تو ٹھیک سے سال بھی نہیں ہوا تھا ، کس ارمان سے بیاہی گئی تھی نورس ، کیسی خوش اخلاق ، بلند کردار اور جفاکش لڑکی تھی وہ ۔ شمو بھابی آپ مت گھبرائیے اس لڑکے کی قسمت اتنی اچھی تھی ہی نہیں کہ وہ نورس جیسی مومنہ ، پاکباز لڑکی کا شوہر بن کر جی سکے ۔ اس کی قسمت پھوٹی ہوئ تھی کہ اس نے نورس کو طلاق دی ہے ۔ ہم آپ کو یقین دلاتی ہیں کہ بہت جلد نورس کو اس سے بھی کہیں لائق فائق اور دیندار لڑکا مل جائے گا “کچھ دیر بعد سیدہ صادقہ وہاں سے اپنے گھر آئیں ، گھر آئیں تو یہاں بھی ان کی الم انگيز حکایت جاری رہی ۔ کچھ دیر بعد ہی دسترخوان پر کھانا لگایا گیا ۔ دسترخوان پر گھر کے سارے افراد تھے ۔ دونوں بیٹے ، ایک بیٹی اور شوہر ۔ سیدہ صادقہ کی بات جاری تھی ” ظالم نے اتنی اچھی لڑکی کو کیسے طلاق دے دی ، کتنی خوب صورت اور ہنر مند لڑکی ہے وہ ، کتنی سادہ اور سمجھدار طرز زندگی جیتی رہی ہے ، بچپن سے کبھی کسی قسم کی کوئی شکایت نہیں سنی گئی اس کی ، کتنے ارمانوں سے اس کی شادی ہوئی تھی اور ہائے اللہ کیسے طلاق ہوگئی اس کو ۔ بڑے لڑکے صائم نے قدرے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا : امی ، کسے طلاق ہوئی ہے ؟ سیدہ صادقہ : ارے بیٹا ، وہی اپنی شمو بھابی کی بیٹی نورس ۔ کیسی پھول سی بچی تھی ، ظالم نے اسے طلاق دے دیا ۔ سوچتی ہوں کہ اتنی حسین کلی کیسے مرجھا جائے گی ، اس بے رحم ، اوہام پرست دنیا میں اس مطلقہ کا آخر ہاتھ کون تھامے گا ۔۔۔۔۔۔۔ ماں کی زبان سے نورس کا نام سننا تھا کہ صائم خود بخود اپنے عنفوان شباب کے وقت کو لوٹ گیا ۔اسکول کے سارے لمحے اسے یاد آنے لگے ۔ کتنے لڑکے اور لڑکیاں تھیں لیکن ان سب میں وہ بالکل الگ تھی ۔ سدا نگاہیں نیچی ، مہذب لباس اور سوائے چہرے کے سارا جسم سلیقے سے ڈھکا ہوا ۔ کسی سے کوئی ٹھٹھا مذاق نہیں ، کہیں کوئی بدتہذیبی یا بے تکلفی نہیں ۔ پڑھنے لکھنے سے مطلب ۔ ہر سچے دل لڑکے کے دل میں کہیں نہ کہیں اس کا خیال ، اس لیے نہیں کہ وہ بہت خوب صورت تھی ہاں مگر اس لیے ضرور کہ وہ بہت با حیا تھی ، بہت پاکیزہ طبیعت کی ۔اسے یاد آرہا تھا کہ جب ایک مرتبہ اس نے اس سے نوٹ بک مانگا تھا تو وہ کس قدر سہم سی گئی تھی ،بالکل چھوئی موئی کے پودے کی مانند ۔کتنی تہذیب سے مسکراتی تھی وہ ۔ اس نے طے کرلیا تھا کہ وہ اسی لڑکی سے شادی کرے گا ، اسے اپنے خوابوں کی ہی نہیں حقیقت کی بھی ملکہ بنائے گالیکن اسکول کے زمانے کے دیکھے ہوئے سارے خواب کب پورے ہوتے ہیں ، ادھر گریجویشن مکمل ہوا تھا اور ادھر صائم آگے کی پڑھائی کے لیے امریکہ چلا گیا تھا ۔ وہاں سے اچھی پڑھائی کرکے لوٹا تھا ۔ صائم : امی ، لیکن لڑکے نے طلاق کیوں دے دی ؟ سیدہ صادقہ : بیٹے ! طلاق کے لیے وجہ کی کیا ضرورت ہے ، بس دے دی ، اس لڑکی کو کیا ہم نہيں جانتے کہ اس کے بارے میں کچھ الٹا سیدھا سوچاجائے ، وہ تو مجھے ۔۔۔۔۔۔۔ خیر ۔۔ اللہ کی مرضی ، بے چاری نورس !! صائم : امی ، لڑکی اتنی اچھی ہے تو اس کی دوبارہ بھی تو شادی ہو سکتی ہے ؟ سیدہ صادقہ : بیٹے ، تم ہمارے معاشرے کو نہیں جانتے ۔ یہاں مطلقہ سے کون شادی کرتا ہے ۔ ہوگی بھی تو کسی بوڑھے کے سر باندھ دی جائے گی ۔ صائم : نہیں امی ، ایسا بھی کیا ہے ۔ ۔ وہ لڑکی تو بہت سلیقہ مند ہے قائم : بھیا ، اب کھانا بھی کھائیں ، دسترخوان پر ہی تو یہ مسئلہ حل نہيں ہو جائے گا ۔ ماہ نور : قائم بھائی جان ، کسی لڑکی کی پوری زندگی کا سوال ہے ، ہم دسترخوان پر باتیں تو کرہی سکتے ہیں ۔ آپ نہیں دیکھتے کہ امی کس قدر دکھی ہیں ۔ قائم : ہمدردی تو مجھے بھی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس قسم کی باتیں کرکے اس لڑکی کا کیا فائدہ کرسکتے ہیں ۔ ۔۔ اس بیچ باپ خاموش صرف نگاہیں گھما گھما کر بیوی ، بیٹوں اور بیٹی کی باتیں سن رہا تھا ۔ صائم : امی ، میں یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ نورس کو میں اسکول کے زمانے سے جانتا ہوں ، بہت اچھی لڑکی ہے وہ ، و ہ سب لڑکے لڑکیوں میں مثال تھی ، مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے کہ آپ اتنے عمدہ خیالات رکھتی ہیں ۔ میں کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ میں نورس سے نکاح کرنا چاہوں گا ۔ اس کے مطلقہ ہونے سے مجھے کوئی پرابلم نہيں بلکہ میں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ابھی صائم کی بات پوری طرح پوری نہیں ہوئی تھی کہ سیدہ صادقہ نے بیچ میں ہی اسے روک دیا : کیا ؟ کیا کہا تم نے ؟ تم ہوش میں تو ہو ؟ صائم : امی ، میں پوری طرح ہوش میں ہوں اور مجھے ذاتی طور پر کوئی اعتراض نہيں ہے ۔ قائم : مجھے تو بھیا کا یہ فیصلہ بہت اچھا لگ رہا ہے ۔ بھیا یو آر گریٹ ، آئی ایم پراؤڈ آف یو ۔ ہم عملی طور پر اقدام کرکے ایک بہتر سماج بناسکتے ہیں ۔۔ سیدہ صادقہ : قائم ، خاموش رہو ، ابھی تم بچے ہو تم کیا جانو کہ معاشرتی اصول کیا ہوتے ہيں ، سماج کیسے بنتا ہے ، شادی کوئی کھیل ہے کیا ؟ ماہ نور : لیکن امی ، آپ تو کتنی پریشان تھیں ابھی نور س کے لیے ۔ آپ جیسا بتا رہی تھیں اس حساب سےنورس تو بھیا کےلیے بہت پرفیکٹ میچ ہو سکتی ہے ۔ سیدہ صادقہ : ارے کمال کرتے ہو تم لوگ ، ارے آپ کچھ کیوں نہیں بولتے ( سیدہ صادقہ کا چہرہ اور اشارہ دونوں اپنے شوہر کی طرف تھا ، جو اب تک مسلسل خاموش تھے اور نظریں گھما گھما کر سب کی باتیں سن رہے تھے ) نادان کہیں کے ؟ ہم تو نورس کے صرف ظاہر کو جانتے ہیں ، ہمیں کیا پتہ کہ اس کا باطن کیسا ہے ؟ کیا معلوم اس کو طلاق کیوں دی گئی ہے ؟ طلاق کبھی بھی کسی معمولی بات پر تو نہیں دی جاتی ؟ ضرور کوئی بڑی بات ہوگی اور پھر صائم تمہارے لیے کنواری لڑکیاں مرکھپ گئی ہیں کیا کہ تم ایک مطلقہ سےشادی کروگے ؟ ماہ نور ، صائم اور قائم سب کے لیے سیدہ صادقہ کا یہ رویہ حیرت انگيز ہی تھا لیکن صائم کو تو جیسے یہ جنگ جیتنی ہی تھی ۔ صائم : امی ، اب آپ خود اپنے آپ کو جھٹلارہی ہیں ؟ سیدہ صادقہ : صائم ، میں نے تسلی میں دو چار اچھی باتیں کیا بول دیں تم نے تو مجھے جیسے پکڑ ہی لیا ہے ۔ ارے اس طرح کے مواقع سے ایسی باتیں تسلی دینے کے لیے بولی ہی جاتی ہیں ۔۔ ماہ نور : امی ، سوری مگر آپ کا رویہ صحیح نہیں ہے ، تھوڑی دیر کے لیے سوچیے کہ نورس کی جگہ آپ کی بیٹی ماہ نور ہو اور اسے اس کا شوہر طلاق دے دے تو کیا آپ یہی باتیں کرسکیں گیں ؟ باپ کی آنکھوں میں جیسے ایک چمک پھیل سی گئی لیکن اس کی خاموشی اپنی جگہ برقرار تھی ۔ سیدہ صادقہ : ماہ نور ، بکواس بند کرو ۔ صائم ، یہ ممکن نہیں ہے کہ تم ۔۔۔۔ نورس سے نکاح کرو صائم : امی ، میں کسی اور کو یہ نیکی کرنے نہیں دوں گا، خاص طور سے تب جب میں نورس کو جانتا ہوں کہ وہ لڑکی کیسی ہے ؟ سیدہ صادقہ : زیاد ہ نادان مت بنو ، کیا معلوم کہ طلاق کیوں ہوئی ہے ؟ کہیں اس کی وجہ اس کی کوئی بدچلنی ہو تو ؟ تم اس نورس کو جانتے ہو جو اسکول میں تھی ، اس کو تو نہیں جانتے نا جو جوانی سے ہوتے ہوئے شادی تک کے مرحلے سے گزری ہے ۔۔ تبھی دروازے پر دستک ہوئی ۔ دروازہ کھولا گیا تو سامنے نورس کا چھوٹا بھائی خبیب تھا : صادقہ آنٹی ، مجھے امی نے بھیجا ہے یہ بتانے کے لیے کہ آپی کو طلاق نہیں پڑی ہے ، وہ نوشے بھائی کے چھوٹے بھائی نے مذاق میں نوشے بھائی کی طرف سے خط لکھ دیا تھا ، ابھی نوشے بھائی اور ان کے گھر والوں سے بات ہوئی ہے ، وہ لوگ صبح یہاں آرہے ہیں ۔ امی نے آپ کو خصوصی شکریہ بولا ہے ۔ میں چلتا ہوں ۔۔۔سلام علیکم ۔۔ قائم اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا جب کہ ماں اس سے نظریں بچانے کی کوشش کررہی تھی ، صائم اپنے کمرے کی طرف نکل گیا ، ماہ نور حیرت میں وہیں کھڑی تھی اور باپ جوں کا توں خاموش نگاہیں اس چہرے سے اس چہرے کی طرف گھما رہا تھا ۔۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here