مقبول احمدسلفی  

اسلامک دعوة سنٹر- طائف

عیدالفطر اور اس کا حکم:دوہجری میں روزہ فرض ہوا، صدقہ الفطر بھی اسی سال واجب ہوا اور اسی سال پہلی مرتبہ عیدالفطر کی نماز ادا کی گئی۔ نماز عید مسلمانوں پر واجب ہے، بغیر عذر کے اس سے پیچھے رہ جانے والا گنہگار ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:فصل لربک وانحر(الکوثر:۲) ترجمہ:اپنے رب کے لئے نماز ادا کرو اور قربانی کرو۔ وجوب کی اصل دلیل صحیحین کی اس حدیث سے ملتی ہے جس میں نبی ﷺ نے حائضہ عورت تک کو عیدگاہ جانے کا حکم دیا ہے۔یہی موقف شیخ الاسلام ابن تیمیہ،شیخ البانی، شیخ ابن باز، شیخ الحدیث عبیداللہ مبارک پوری وغیرہم کا ہے۔ عید کا چاند:رمضان کی انتیسویں تاریخ کو چاند دیکھنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔ واضح رہے کہ رمضان کے چاند کی رویت کے لئے ایک عادل مسلمان کی گواہی کافی ہے مگر رمضان کے علاوہ بقیہ تمام مہینوں کے لئے دوعادل مسلمان کی گواہی ضروری ہے۔ جب چاند نظر آئے تو یہ دعا پڑھیں: اللھم اھلہ علینا بالامن والایمان والسلامة والاسلام ربی وربک اللہ ( السلسلة الصحیحة : ۶۱۸۱) فطرانے کی ادائیگی:عید کا نکلنے سے فطرے کا واجبی وقت شروع ہوجاتا ہےلہذا عید کی نماز سے پہلے پہلے فی کس ڈھائی کلو اناج گھر کے چھوٹے بڑے تمام لوگوں کی طرف سے نکال کے فقراءو مساکین کو دیدیں۔عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے:ان رسول اللہ ﷺ فرض زکوة الفطر من رمضان علی کل نفس من المسلمین ،حراوعبد، اورجل او امراة ، ضغیر او کبیر ، صاعا من تمر او صاعا من شعیر( صحیح مسلم : ۴۸۹)ترجمہ: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے صدقہ فطرکو فرض قرار دیا ہے ایک صاع جو یا کھجور کا، جو ہر آزاد،غلام، مرد وعورت اور چھوٹے بڑے مسلمان پر واجب ہے۔عید کی شب عبادت:عید کی رات عبادت کرنے سے متعلق ایک روایت بیان کی جاتی ہے۔ روایت یہ ہے:عن ابی امامة رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال: من قام لیلتی العیدین محتسبا للہ لم یمت قلبہ یوم تموت القلوب ( ضعیف ابن ماجہ : ۳۵۳) ترجمہ: ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺ نے فرمایا جس نے عید الفطر اور عید الاضحی کی دونوں راتوںکو اجروثواب کی نیت سے اللہ تعالی کے لئے قیام کیا اس کا ا اس دن دل مردہ نہیں ہو گا جس دن دل مرجائیں گے۔یہ روایت گھڑی ہوئی ہے، اس لئے اس سے دلیل نہیں پکڑی جائے گی۔ اس روایت کو شیخ البانی نے ضعیف ابن ماجہ میں موضوع کہا ہے، سلسلہ ضعیفہ میں سخت ضعیف کہا ہے۔ اور دیگر محدثین نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ گویا عید کی رات عبادت کرنے سے متعلق فضیلت والی کوئی روایت ثابت نہیں ہے۔ اس کا معنی ہرگز یہ نہ لیا جائے کہ اس دن قیام نہیں کیا جاسکتا ہے، جس طرح دیگر راتوں میں قیام کرنے کا ثواب ہے اس عموم میں یہ رات بھی داخل ہے۔ تکبیر:چاند رات سورج ڈوبنے سے لیکر نماز عید تک تکبیر پڑھنا سنت ہے، یعنی شب عید سے لیکر خطبہ ختم ہونے تک تکبیرپڑھنا چاہئے۔گھر میں ہو، بازار میں ہو یا مسجد میں۔مردحضرات بآواز بلند پڑھیں اور خواتین پست آواز میں۔اللہ تعالی کا فرمان ہے: ولتکملوا العدة ولتکبروا اللہ علی ماھداکم ولعلکم تشکرون(البقرة: ۵۸۱) ترجمہ: وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالی کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اوراس کا شکر کرو۔تکبیرات کے ثابت شدہ الفاظ: (1)اللہ اکبر اللہ اکبرلاالہ الااللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد۔ اس کی سند کو علامہ البانی نے صحیح کہا ہے۔ رواءالغلیل:3/125)(2)اللہ اکبر کبیرااللہ اکبر کبیرااللہ اکبر اجل اللہ اکبر علی ما ھدانا۔اس کی سند کو علامہ البانی نے صحیح کہا ہے۔(رواءالغلیل3/126) (3) اللہ اکبر کبیرااللہ اکبر کبیرااللہ اکبر کبیرا۔اس کو شیخ ابن تیمیہ نے ثابت کہا ہے۔ (مجموع الفتاوی:23/326)(4)اللہ اکبر اللہ اکبراللہ اکبر کبیرا۔ حافظ ابن حجر نے اسے تکبیرکا سب سے صحیح صیغہ جو ثابت ہے کہا ہے۔(فتح الباری:2/462) (5)اللہ اکبر کبیراوالحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرة واصیلا۔(صحیح مسلم:601) یہ ایک عام تکبیر ہے مگر اس کے پڑھنے سے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں۔تکبیر میں یہ دھیان رکھنا چاہئے کہ اجتماعی طور پر تکبیر کہنا یعنی سب یک آواز ہوکر بدعت ہے۔ عید کا روزہ: عید کے دن روزہ رکھنا منع ہے۔ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:نھی عن صیام یومین : یوم الفطر ویوم النحر(صحیح مسلم:1138) ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دنوں عید الفطر اور عیدالاضحی کے دن روزہ رکھنے سے منع فرمایاہے۔ غسل، لباس اور خوشبو: عید کے دن غسل کرنا مستحب ہے۔ بہتر ہے فجر کی نماز کے بعد غسل کرے، اگرکسی وجہ سے اس سے پہلے غسل کرلیا تو بھی کوئی حرج نہیں۔اسی طرح عمدہ یا صاف ستھرا لباس لگانا چاہئےجیساکہ نبی ﷺ سے عید کے دن خوبصورت چادر اوڑھنے کا ذکر ملتاہے اور خوشبو نبی ﷺکو بہت پسند تھی اس لئے ہمیں بھی اسے پسند کرنا چاہئے۔عید کے دن کھانا: کھجوریں کھاکر عید گاہ جانا مسنون ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کان رسول اللہ ﷺ لایغدویوم الفطر حتی یاکل تمرات ٍ(صحیح البخاری:953) ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کھجوریں تناول فرمائے بغیر نہ نکلتے۔طاق کھجوریں کھاکر عید گاہ جانا چاہئے جیساکہ دوسری روایات سے پتہ چلتا ہے اور کھجور میسر نہ ہو تو جو بھی ملے کھالے۔عیدگاہ پیدل جانا: پاپیادہ عیدگاہ جانا چاہئے اور اسی طرح واپس آنا چاہئے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:کان رسول اللہ ﷺ یخرج الی العید ماشیا ویرجع ماشیا(صحیح ابن ماجة: ۷۸۰۱) ترجمہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ پیدل جاتے پیدل ہی واپس تشریف لاتے۔ ضرورتمند آدمی سواری پہ سوار ہوسکتا ہے۔ واپس لوٹتے ہوئے راستہ بدل دینا چاہئے۔ جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:کان النبی ﷺ اذا کان یوم عید خالف الطریق (صحیح البخاری¸:986) ترجمہ:عید کے دن رسول کریم صلی اللہ علیہ سلم مختلف راستے پر چلتے۔ راستے کی مخالفت کی حکمت سے متعلق بہت سارے اقوال ملتے ہیں، سب سے اچھا جواب شیخ ابن عثیمین کا ہے کہ اس کی حکمت نبی ﷺ کی اتباع اور پیروی ہے۔ عیدگاہ:عید کی نماز صحرا میں ادا کی جائے البتہ ضرورت کے تحت مسجد میں بھی ادا کی جاسکتی ہےجیساکہ بارش کی وجہ سے نبی ﷺ نے مسجد میں عید کی نماز پڑھی ہے۔ عید کی نماز اور خواتیننبی ﷺ نے عورتوں کو عید کی نماز پڑھنے کا حکم دیا لہذا خواتین کو نماز عید میں شریک ہونا چاہئےخواہ بوڑھی ہو جوان، شادی شدہ ہو یا غیرشادی شدہ اور بالغہ ہو یا نابالغہ یہاں تک آپ ﷺ نے حائضہ کو بھی عیدگاہ جانے کا حکم دیا تاکہ وہ مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوسکے۔عن ام عطیة رضی اللہ عنہا قالت : امرنا رسول اللہ ﷺ ان نخرجھن فی الفطر والاضحی العواتق والحیض وذوات الخدور فاماالحیض فیعزلن الصلاة وتشھدن الخیر ودعوة المسلمین ، قلت : یارسول اللہ ،احدانا یایکون لھا جلباب ، قال : لتلبسھا اختھا من جلبابھا(صحیح البخاری : ۴۲۳، صحیح مسلم : ۰۹۸)ترجمہ: حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ عورتوں کو عید الفطر اور عید الاضحی میں عید گاہ لے جائیں جوان لڑکیوں،حیض والی عورتوں اور پردہ نشین خواتین کو بھی، ہاں حیض والی عورتیں نماز سے الگ رہیں لیکن وہ اخیر میں مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں،میں نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے کسی ایک کے پاس جلباب نہ ہوتو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی بہن اس کو اپنی چادر اڑھادے۔ اس لئے عید کے دن خواتین کے لئے افضل ہے کہ وہ عیدگاہ جائیں۔ ذمہ داروں کو چاہئے کہ خواتین کے لئے الگ سے خیمے کا انتظام کرے تاکہ خواتین بھی مردوں کے ساتھ عید کی نماز پڑھ سکے۔ خواتین کا الگ سے عید کی نماز ادا کرنا مشروع نہیں ہے۔ نماز عید کا طریقہ: ٭عیدگاہ میں عید کی نماز سے پہلے یا اس کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، اسی طرح عید کی نماز کے لئے اذان و اقامت بھی نہیں ہے۔ ٭اگر مسجد میں عید کی نماز ادا کرے تو تحیة المسجد ادا کرے۔٭ نماز عید صرف دو رکعت ہے۔ پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں پڑھے۔٭تکبیرات عید پہ رفع یدین کرنا چاہئے حدیث سے ثابت ہے۔ خطبہ عید:نماز کے بعد امام مرد و خواتین کو وعظ و نصیحت کرے۔ خطبہ صحیح قول کی روشنی میں سنت ہے، واجب نہیں ہے۔ عید کی نمازکے بعد نبی ﷺ نے فرمایا تھا: من احب ان ینصرف فلینصرف ومن احب ان یقیم للخطبة فلیقم ۔(صحیح النسائی:1570)ترجمہ: جو لوٹنا پسند کرے وہ لوٹ جائے اور جو خطبہ کے لئے رکنا چاہے وہ رک جائے۔ ٭ جمعہ کی طرح اس کا سننا واجب نہیں لیکن وعظ ونصیحت کو سنے بغیر جانا بھی نہیں چاہئے۔٭ عید کا ایک ہی خطبہ حدیث سے ثابت ہے۔٭ خطبہ کھڑے ہوکر دینا ہے اور بغیر منبر کے دینا ہے۔٭ خطبہ کے بعد یا نماز عید کے بعد اجتماعی دعا کا ثبوت نہیں ملتا لہذا اس نئی ایجاد سے بچنا چاہئے۔ جمعہ کے دن عید کی نماز:اگر جمعہ کے دن عید کی نماز پڑجائے تو اس دن جمعہ کی نمازبھی پڑھ سکتے ہیں یاپھر ظہر ہی ادا کرنا کافی ہوگا۔ اجتمع عیدان علی عھد رسول اللہ ﷺ فصلی بالناس ثم قال : من شاءان یاتی الجمعة فلیاتھا ومن شاءان یتخلف فلیتخلف(صحیح ابن ماجة:1091)ترجمہ: ابن عمر رضی¸ اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک ساتھ دو عید پڑگئیں (یعنی عید اور جمعہ)، تو آپ نے عید کی نماز پڑھانے کے فرمایا کہ: جو شخص جمعہ پڑھنا چاہے توپڑھ لے، اور جو نہیں پڑھنا چاہتا ہے تو وہ نہ پڑھے۔نمازعید اور قضا:٭ اگر کسی کو ایک رکعت مل جائے تو اس نے عید کی نماز پالی،جو آخری رکعت کے سجدہ یا تشہد میں امام کے ساتھ ملے تو وہ عید کی نماز کی طرح نماز ادا کرلے۔٭ اگر کسی کی عید کی نماز چھوٹ جائے تو عید کی نماز کی طرح ادا کرلے، چند لوگ ہوں تو جماعت قائم کرلے۔جنہوں نے کہا نمازعید کی قضا نہیں صحیح بات نہیں ہے۔ قضا کا بھی آثار سے ثبوت ملتا ہے۔ نیز جس اثر سے قضا کی صورت میں چار رکعت پڑھنے کا ذکر ملتا ہے اسے شیخ البانی نے ارواءالغلیل میں منقطع قرار دیا ہے۔ قضاکرتے ہوئے دو رکعت ہی ادا کرے اور خطبہ عید چھوڑدے۔عید کی مبارکبادی:عید کے دن ایک دوسرے کو بایں الفاظ مبارکبادی دی جائے:تقبل اللہ منا ومنک(اللہ تعالیٰ ہم سب کی عید اور دیگر اعمال صالحہ قبول فرمائے)۔کان اصحاب النبی ﷺ اذا التقوا یوم العید یقول بعضھم لبعض : تقبل اللہ منا ومنک۔ جبیر بن نفیر( تابعی ) بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے صحابہ کرام عید کے روز جب ایک دوسرے کو ملتے تو ایک دوسرے کو کہتے ”تقبل اللہ منا ومنک“ اللہ تعالی مجھ سے اور آپ سے قبول فرمائے ۔ اس کو شیخ البانی نے صحیح کہا ہے۔(تمام المنة:354)حافظ ابن حجر نے اسے حسن کہا ہے (فتح الباری)عید کے دن معانقہ و مصافحہ:شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ نماز عید کے بعد مصافحہ اور معانقہ کرنے کا حکم کیا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا : ان اشیاءمیں کوئی حرج نہیں کیونکہ لوگ اسے بطور عبادت اور اللہ تعالی کا تقرب سمجھ کر نہیں کرتے بلکہ لوگ یہ بطور عادت ،عزت واکرام اور احترام کرتے ہیں ۔ اور جب تک شریعت میں کسی عادت کی ممانعت نہ آئے اس میں اصل اباحت ہی ہے ۔ (مجموع فتاوی ابن عثیمین )عید کے دن کھیل:عید کے دن خوشی کے اظہار میں جائز کھیل کا مظاہرہ کرے تو کوئی مضائقہ نہیں۔عید کے دن حبشہ کے لوگوں کا ڈھالوں اور برچھوں سے کھیلنا ثابت ہے۔ آپ ﷺ نے بھی اس کھیل کو دیکھا اور ان حبشیوں کو مزید کھیلنے کو کہا۔ یہ حدیث بخاری شریف میں کتاب العید کے تحت مذکور ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here