شری شری کے چنگل میں حضرت حضرت

0
تحریر:زین شمسی
       زین شمسی

شری شری سے سلمان ندوی کی ملاقات نے حضرت حضرت کے درمیان اختلافات کی دیواریں اونچی کر دی ہیں۔بھارت میں چل رہا ہندو مسلم کھیل اب مسلم مسلم کھیل میں بدلتا نظر آرہا ہے۔ کون صحیح ہے اور کون غلط ہے کہ درمیان مسلم عام عوام غلطاں و پیچاں ہو رہے ہیں ، کیونکہ سب کے اپنے اپنے حضرت ہیں۔
سلمان ندوی بابری مسجد کے بدلے دیگر اراضی پر عالی شان مسجد اور یونیورسٹی بنانا چاہتے ہیں ، جو بابری مسجد کی شہادت کے فوراً بعد ہی نرسمہارائو سے ملنے گئے وفد میں کئی لوگوں کی تجویز تھی ، جو پوری اس لیے نہیں ہوئی کہ مسلمان انصاف چاہتے تھے اب انصاف کا در بند ہو جانے کے بعد پھر وہی تجویز پر لوٹ آنا ہوا۔
حیدرآباد میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس میں حیدرآباد کے بورڈ نمایندہ کا نہ پہنچنا بھی کچھ کہانی کہتی نظر آتیہے۔
بورڈ کے ترجمان سجاد نعمانی کا سنگھ کی شاکھا میں جا کر یہ پتہ چلانا کہ ہندوستان کی ہر ریاست میں اسلحہ پہنچا دیئے گئے ہیں اور جلد ہی ہندوستانی مسلمانوں کو روہنگیا کی صورت بنا دی جائے گی ، ایک خطرناک کہانی سنا رہی ہے۔
کمال فاروقی اور قاسم رسول الیاس کا بورڈ پر قبضہ کرنے کا سلمان ندوی کا الزام بھی اپنے اندر ایک کہانی چھپائے بیٹھی ہے۔
اچھی بات یہ ہے کہ میں کچھ لکھ نہیں پا رہا ہوں ، فیس بک فرینڈس جانتے ہیں کہ آجکل میری پوسٹ بالکل نہیں آ پارہی ہے۔ ورنہ اتنے حساس معاملہ پر میں بھی ایک حساس مضمون لکھنا چاہتا تھا، مگر کیا کروں ، یہ کس کی بدعا ہے کہ مجھ سے میرا قلم چھینا جا رہا ہے۔
فکر یہ ہے کہ عدالت پر آپ کو بھروسہ نہیں ہے تو شری شری پر کیوں ہے؟
نوٹ:گری راج کو ایوارڈ اس لیے دیا گیا ہے کہ اس نے یہ ہمت دکھائی کہ اورنگ زیب روڈ کا نام تبدیل کیا جائے اور کل اپنی تقریر میں اس نے کہا کہ اورنگ زیب دہشت گرد تھا۔گویا مغل دور کی تاریخ پھر سے لکھی جائے گی اور اس سنہرے دور کو سیاہ باب قرار دیا جائے گا۔)
گویا اِدھر الجھایا گیا اُدھر بھڑکایا گیا۔

 
مضمون نگار،ہفت روزہ ”مسلم دنیا” کے مدیر ہیں۔

 

نوٹ:مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا کوئی سروکار نہیں ہے۔
 
 

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.