استنبول کی بلّیاں

0
آبیناز جان علی
موریشس

 

بیس ملین کی آبادی والے ترکی کے دلفریب دار الخلافہ استنبول میں سڑکوں اور گلیوں میں نظر آنے والی بلّیاں سیاحوں کے لئے مقبول ترین کشش رکھتی ہیں۔ یہ جنگلی بلّیاں نہیں ہیں اور نہ ہی گھروں کی زینت ہیں۔ خلافت عثمانیہ کے پرانے شہر قسطنطینیہ کے موجودہ بادشاہ گلی کوچوں کی یہ بلّیاں ہیں جو گاڑیوںپر، طعام خانوں کے نزدیک، فوّاروں کے پاس، مسجدوں کے اندر اور باہر غرض ہر جگہ اپنی موجودگی سے سیاحوں کو حیرت و استعجاب میں ڈالتی ہیں۔
مخلص اور رحم دل باشندگانِ شہر ان کو کھانا دیتے ہیں اور ان کو آزادانہ طور پر گھومنے دیتے ہیں۔ ان کو سہلاتے ہیں اور بیمار پڑنے پرعلاج بھی کراتے ہیں۔ استنبول بلّیوں کے شہر سے موسوم ہے۔ بلّیوں کی صحت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا کس قدر خیال رکھا جاتا ہے۔ بوسفورس ندی میں مچھلی کی فراوانی اور اسلامی تہذیب میں بلّیوں کا شفاف جانور خیال کیا جانا وہ اہم وجوہات ہیں کہ ان جانوروں کا خیال پورا شہر رکھتا ہے۔


یہ بلّیاں شہر کی مادہ پرست زندگی سے مبرا سستاتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ پورا معاشرہ ان کو کھانا اور پانی دیتا ہے۔ ان پر محبت اور عزت نچھاور کی جاتی ہیں۔ یہ انسان کی موجودگی سے نہیں گھبراتی ہیںبلکہ آپ سے آنکھیں ملا کر اپنی زبان میں مطالبہ کریں گی کہ آپ ان کو پیار کریں۔ آنِ واحد میں یہ آپ کی گود میں بیٹھ جائیں گی۔ اس طرح یہ مشتاق سیاحوں کے لئے تفریح کا سامان فراہم کرتی ہیں۔
سوشل میڈیا میں بھی استنبول کی ان بلّیوں کا خوب چرچہ ہے۔ ان پر ایک دستاویزی فلم کیدی بھی بنائی گئی ہے۔ چوہوں کے مسائل سے نجات پانے کے لئے ان بلّیوں کو پالنا شروع کیا گیاتاکہ چوہوں کو فصل برباد کرنے سے روکا جائے۔
ترلی کے دیگر شہروں میں بھی بلّیاں دیکھنے کو ملتی ہیںلیکن سب سے بڑی تعداد استنبول میں پائی جاتی ہیں۔ یہ بلّیاں اس شہر کی روح ہیں۔ زبان، مذہب، تہذیب اور رنگ و نسل کی تفریق کو عبور کرتے ہوئے یہ انسانوں سے قربت اور مضبوط رشتہ استوار رکھتی ہیں۔ یہ انسانوں کو امن اور ملنساری کا درس دیتی ہیں۔


اسلامی عقیدے کے مطابق بلّیاں غلاظت سے پاک ہیں۔ انہیں گھروں اور مسجدوں میں داخل ہونے کی اجازت ہے۔ ابوہریرہیؓ کی ایک بلّی نے رسول کو ایک سانپ کے حملے سے بچایا تھا۔ اس وقت رسولِ خدا نے بلّیوں کو یہ دعا دی کہ وہ ہمیشہ اپنی ٹانگوں پر ہی گریں گی۔ محمد نے ان جانوروں پر ظلم و تشدد کرنے سے بھی منع کیا ہے۔
شاہراہوں، نکڑوں اور شاپنگ مراکز میں دھوپ تاپتی ہوئی، کھیلتی کودتی، معصوم چہروں اور بڑی بڑی آنکھوں والی یہ بلّیاں ہر کسی کا دل جیت لیتی ہیں۔ گھر واپس آکر اپنی بلّیوں سے اور زیادہ لگاﺅ اور شفقت کا احساس ہوتا ہے۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.