عہد قدیم سے خواتین نے سماج میں اہم کردا ر نبھایا ہے۔ ماں کے قدموں کے نیچے جنّت ہے۔ ہزاروں پریشانیوں اور تکلیفوں سے وہ نو مہینے، ایک ننھی سی جان کو اپنے بطن میں محفوظ رکھتی ہے او راسے دنیا میں لاکر پورے گھر کو ایک انمول تحفہ دیتی ہے جس کی کلکاریوں سے گھرا ور آنگن خوشی و مسرت سے گونج اٹھتے ہیں۔ ماں کی گود بچہ کا پہلا مدرسہ ہے۔ بچوں میں اچھے اخلاق و عادات و اطوار پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ماں اپنی اولاد کی نفسیاتی، جذباتی اور سماجی تقاضوں کو پورا کرتی ہے جس سے بچے کی شخصیت کی تکمیل ہوتی ہے اور وہ معاشرے کا ایک فعال اور ہشاش و بشاش فرد بنتا ہے۔ ماں اپنے بچوں کی معلمہ ا ور رہنما ہوتی ہے۔
ایک ذمے دار بیوی کی حیثیت سے خواتین اپنے گھر کی زیبائش و آرائش کرنا اور اپنے شوہر کا خیال رکھنا فرضِ عین سمجھتی ہیں۔ اسلام میں خدیجہ ؓ کا مقام بلند و بالا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ آپ ﷺ کا سہارا بنیں ۔ جس وقت کسی نے رسول اللہؐ پر یقین نہیں کیا تھا اس وقت خدیجہؓ نے ان کی مالی و جذباتی حوصلہ افزائی کی اور ان کے ساتھ شانہ بہ شانہ رہ کرآپ یﷺؐ کی طاقت بنیں۔
تلخ و مٹھاس سے بنا ہوا بھائی بہن کا رشتہ دنیا کا سب سے پیارا رشتہ ہے۔ ان کی لڑائیاور ان کے جھگڑوں میں فقط انس جھلکتا ہے۔ پریشانی کے وقت دونوں ایک دوسرے کی مدد کے لئے ہمیشہ مستعد رہتے ہیں۔ وہ ہر موڑ پر ایک دوسرے کے محافظ اور رہنما ثابت ہوتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پرایک دوسرے کے لئے بڑی سے بڑی قربانیاں دینے کے لئے تیار رہتے ہیں۔
غرض کہ جدید زندگی کے ہر شعبے میں خواتین کا عکس جھلکتا ہے۔ خواتین کی موجودگی ایک سماج، ایک معاشرے اور ایک ملک کے لئے اشد ضروری ہے۔ گھر کے اندر اور گھر کے باہر خواتین ایک روشن چراغ کی طرح ہر سو اپنی روشنی پھیلاتی ہیں۔
خواتین کو اکثر صنفِ نازک کہا جاتا ہے۔ سماج اور خاندان میں لڑکیوں کے تحفظ پر خاص دھیان دیا جاتا ہے۔ اس کی پرورش و تربیت لڑکوں سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ لڑکیاں وہ کوہِ نور ہیرہ ہیں جن کو پوشیدہ رکھنا ہی عین مناسب ہے۔
دوسری جنگِ عظیم کے بعد زمانے کی برق رفتار تبدیلیوں اور اقتصادی ضروریات کے باعث خواتین نے گھر کی چہار دیواری کے باہر قدم رکھا۔ نیز مفت تعلیم نے ان کو بھی علم کی دولت سے مالامال ہونے کا سنہرہ موقع فراہم کیا۔ آج کی خواتین حتٰی المقدور گھر ، شوہراور بچوں کا خیال رکھتی ہیں۔ اپنی گاڑی چلاتی ہیں۔ گھر کا راشن لانا،سبزیاں خریدنا، بچوں کو اسکول پہچانااور واپس لانا، ان کو ہسپتال لے جانا، گیس لاناوغیرہ خواتین کے روزمرہ معمول کا حصّہ ہیں۔
ازدواجی او رگھریلو ذمے داریوں کے ساتھ ساتھ خواتین خاندان کے دیگر افراد کو بھی خوش رکھنے کی سعی میں لگی رہتی ہیں۔ سسرال اور میکے والوں کی امیدیں اور آرزؤں پر اسے کھڑا جو اترنا ہے۔ اسے سماج کی طرزِ زیست کی بھی تائید کرنی ہے۔
نیز ملازمت پر بھی خواتین کو اپنی اعلیٰ پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہے۔ اسے اپنی عمدہ کارکردگی کا جوہر دکھانا ہے تاکہ وہ خود کی اور دوسروں کی نظروں میں عزت پا سکے۔ حاملہ ہوتے ہوئے بھی وہ نوکری پر جاتی ہے اور اپنی دوسری مصروفیات میں الجھی رہتی ہے۔ اگر کہا جائے کہ خواتین کی زندگی ایک مسلسل جدوجہد ہے تو یہ قول بالکل بجا ہوگا۔
انسانی تاریخ کی ابتداء سے خواتین بچوں کی دیکھ بھال کرتی آئی ہیں۔ اپنے آشیانے کو جنت نما بنانا اور لذیذ سے لذیذتر کھانا تیار کرنا اس کے اولین فرائض میں شمار ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ بچوں کی پرورش میں اس کا سب سے اہم کردار رہا ہے۔ جبکہ مرد عموماً گھر کو چلانے کے لئے نوکری کر کے کمانے کی ذمے داری اٹھاتے تھے۔ گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سامنا کرنے کے لئے خواتین نے مردوں کے شانہ بہ شانہ ملازمت کی دنیا میں قدم رکھا۔ اس عمل سے ملک کی اقتصادی حالت میں اور معیارِ زندگی میں مثبت تبدیلیاں آئیں۔ مگر خواتین کی بنیادی اور روایتی ذمے داریاں نہیں بدلیں بلکہ ان میں مزید اضافہ ہوا۔
آجکل کی خواتین گھر کی دیکھ بھال کرتی ہیں، بچوں کی پرورش و تربیت میں دن رات ملوث رہتی ہیں اور ملازمت میں پیش آنے والی تمام پیچیدگیوں سے بھی جوجھتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں آج کی خواتین مسلسل تناؤ سے الجھتی رہتی ہیں اوراس کا اثر اس کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ اس کی صحت پر بھی ہوتاہے۔
اس تناؤ کو دور کرنے کے لئے شوہروں کا تعاون لازمی ہے۔ خواتین کو سمجھنا اور گھر کی ذمے داریوں اور بچوں کی دیکھ بھال میں اپنی شریکِ حیات کا ہاتھ بٹانے سے ازدواجی زندگی کی پریشانیوں کو کم کیاجاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی بھی پریشانی یا اہم فیصلہ میں خاوند کی حوصلہ افزائی اور اس کی رائے خواتین کے لئے بہت کارآمد ثابت ہوتی ہیں۔
طبیعت کو تروتازہ رکھنے کے لئے تفریح اشد ضروری ہے۔ خواہ اسپا میں ایک مساج ہو یا ویک اینڈ کے لئے کسی ہوٹل میں قیام یا پھربیرو ن ملک سیر یا قدرت کے کرشموں کا لطف اٹھانا۔ غرض اپنے معمول سے ہٹ کر جو بھی چیز ذہن کو تسکین پہنچاتی ہے اس کو ترجیح دینا چاہئے۔
ورزش تناؤ کو دور کرتی ہے۔ ہر روز کم از کم آدھے گھنٹے کی چہل قدمی دوران خون معتدل رکھنے کے لئے کافی مفید ہے ۔ متوازن کھانا ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ زیادہ نمک اور شکر سے پرہیز کرنا بہت ضروری ہے۔ تیل میں تلے کھانوں سے پرہیز کرنا زیادہ مناسب ہے۔ ان کی تلافی تازہ پھل اور سبزیوں سے کریں۔ ان میں وہ غذائیت موجود ہیں جو جسم کو چست اور دماغ کو پھرتیلا رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر دن میں ڈیڑھ لیٹر پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔ علاوہ از ایں آٹھ گھنٹے کی نیند ایک اچھی صحت کا راز ہے۔
رسولِ خدؐا دن میں سو مرتبہ خدا کا شکر ادا کرتے تھے ۔ اپنی حالت پر قناعت کرنا ہی زندگی کی کامیابی کا را زہے۔ مادہ پرستی سے دور رہ کر اپنی روحانی ضروریات کی طرف دھیان دینے سے بھی تناؤ دور رہتا ہے۔ خدا کو یاد کر کے ہی بے چین و مضمحل دل کو سکون اور طاقت ملتی ہے۔
خواتین زندگی کے ہر شعبے میں اپنی چھاپ چھوڑتی ہیں۔ اس کی بے لوث محبت سے عالم کو فیض پہنچتا آیا ہے۔ وہ اس نایاب ہیرے کی طرح ہیں جس کی قدر و حفاظت کرنا خود ان کا اور ان کے اردگرد کے ماحول کی ذمے د اری ہے۔ آج کی خواتین نے چاند پر بھی قدم رکھا ہے۔ ہر موڑ پر اسے اپنی شناخت بنانی ہے۔گزرتے وقت کے ساتھ اس کانچ کی گڑیا نے یہ ثابت کر دکھایا کہ خواتین اس وقت تک کمزور رہتی ہیں جب تک اسے اس بات کا یقین دلایا جائے کہ وہ مضمحل ہے۔
آبیناز جان علی
مہاتما گاندھی انسٹی ٹیوٹ موریشس

Facebook Comments

34 COMMENTS

  1. I absolutely love your blog and find a lot of your post’s to be exactly what I’m looking for. can you offer guest writers to write content for you personally? I wouldn’t mind creating a post or elaborating on a number of the subjects you write in relation to here. Again, awesome weblog!

  2. Do you have a spam issue on this blog; I also am a blogger, and I was wanting to know your situation; many of us have created some nice procedures and we are looking to swap strategies with others, be sure to shoot me an email if interested.

  3. Howdy would you mind letting me know which webhost you’re working with? I’ve loaded your blog in 3 different browsers and I must say this blog loads a lot quicker then most. Can you recommend a good web hosting provider at a reasonable price? Thanks, I appreciate it!

  4. Thank you for every other informative website. The place else may I get that type of information written in such a perfect method? I have a venture that I’m just now running on, and I’ve been on the glance out for such information.

  5. Hello There. I found your blog using msn. This is a very well written article. I’ll be sure to bookmark it and return to read more of your useful information. Thanks for the post. I’ll definitely comeback.

  6. Do you mind if I quote a couple of your articles as long as I provide credit and sources back to your website? My blog site is in the very same niche as yours and my users would certainly benefit from a lot of the information you present here. Please let me know if this ok with you. Cheers!

  7. First of all I want to say excellent blog! I had a quick question which I’d like to ask if you do not mind. I was interested to know how you center yourself and clear your head before writing. I’ve had a hard time clearing my mind in getting my ideas out there. I truly do enjoy writing however it just seems like the first 10 to 15 minutes are usually lost simply just trying to figure out how to begin. Any ideas or tips? Thanks!

  8. I wish to show thanks to you just for rescuing me from this type of incident. Because of scouting throughout the world wide web and seeing concepts which were not powerful, I assumed my life was done. Being alive without the presence of approaches to the issues you’ve sorted out by means of this report is a serious case, and the ones which may have adversely affected my career if I hadn’t come across your blog. Your personal skills and kindness in maneuvering the whole thing was important. I don’t know what I would have done if I had not come across such a thing like this. I can also now relish my future. Thanks so much for your specialized and results-oriented guide. I won’t hesitate to refer your web page to any person who would need support about this subject matter.

  9. of course like your website but you need to check the spelling on several of your posts. Many of them are rife with spelling problems and I find it very troublesome to tell the truth nevertheless I will surely come back again.

  10. I have recently started a site, the info you provide on this site has helped me greatly. Thank you for all of your time & work. “My dear and old country, here we are once again together faced with a heavy trial.” by Charles De Gaulle.

  11. I must point out my admiration for your kindness for folks who have the need for guidance on your situation. Your personal commitment to getting the solution around ended up being definitely helpful and has regularly encouraged women just like me to attain their ambitions. Your helpful information denotes so much to me and much more to my mates. Warm regards; from everyone of us.

  12. Heya i’m for the first time here. I found this board and I find It really useful & it helped me out much. I hope to give something back and help others like you helped me.

  13. I as well as my pals came digesting the best techniques found on the blog while all of a sudden got a terrible suspicion I never thanked the site owner for those secrets. All of the women became so thrilled to study them and have in fact been tapping into them. Appreciate your actually being really thoughtful and then for considering varieties of ideal tips millions of individuals are really needing to be informed on. My honest regret for not expressing appreciation to you sooner.

  14. I know this if off topic but I’m looking into starting my own weblog and was curious what all is required to get setup? I’m assuming having a blog like yours would cost a pretty penny? I’m not very web savvy so I’m not 100% certain. Any recommendations or advice would be greatly appreciated. Cheers

  15. Howdy! This is kind of off topic but I need some guidance from an established blog. Is it very difficult to set up your own blog? I’m not very techincal but I can figure things out pretty fast. I’m thinking about setting up my own but I’m not sure where to begin. Do you have any points or suggestions? Appreciate it

  16. I’ve been browsing online more than three hours today, yet I never found any interesting article like yours. It’s pretty worth enough for me. In my opinion, if all website owners and bloggers made good content as you did, the net will be a lot more useful than ever before.

  17. Excellent read, I just passed this onto a colleague who was doing a little research on that. And he actually bought me lunch since I found it for him smile Therefore let me rephrase that: Thanks for lunch!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here