رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی میں معاف

 رافضیت،بابری مسجد اور سلمان ندوی صاحب کے بورڈ سے بغاوت کے تناظر میں 

0
تحریر:آصف تنویر تیمی

 

آصف تنویر تیمی

ویسے تو ماضی میں بھی میں نے اس موضوع پر لکھا ہے۔جس میں عالم عرب کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ رافضیت (شیعیت،خمینیت)پورے عالم اسلام کے لئے شدید قسم کا خطرہ ہے جس سے ہمیں ہمہ وقت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔وہ آستین کے سانپ ہیں کبھی بھی ڈس سکتے ہیں۔سانپ کے زہریلے دانتوں کو سپیرا بھی جب تک توڑ نہیں دیتا اس سے اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔اس لئے وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے کہ رافضیت کی کمر توڑی جائے۔اس کے زہر کو پورے طور سے نکالا جائے۔اس کی بڑھتی ہوئی طاقت کو لگام لگایا جائے۔اس کی دعوتی مشن کو روکا جائے۔اس کے مبلغین ودعاة کو قابو میں کیا جائے۔اس کی کتابوں اور لٹریچروں کا باریکی کے ساتھ جائزہ لے کر مسکت جواب دیا جائے۔اپنے نوجوانوں کی تعلیم وتربیت کا مناسب بندوبست کیا جائے تاکہ نوجوان طبقہ کو وہ بہلا پھسلا کر گمراہ نہ کرسکیں۔ اپنے غریبوں کا بھی خیال رکھا جائے تاکہ ان کی غربت کا فائدہ اٹھا کر رافضی ٹولہ ان کا شکار نہ کربیٹھیں۔یے تدابیر مشکل تو ہیں مگر ناممکن نہیں۔ 
اسلام اور مسلمانوں کے دشمن تو بہت ہیں۔لیکن مسلمانوں کو سب سے بڑا خطرہ رافضیت سے ہے۔اس لئے کہ بقیہ کی دشمنی تو ظاہر ہے مگر رافضیت کی دشمنی مخفی اور پوشیدہ ہے۔بقیہ کی چال معلوم ہے مگر یے کب کونسا چال چلیں گے کہا نہیں جاسکتا۔بقیہ کی دشمنی کے وجوہات مختلف ہیں مگر رافضیت کی دشمنی محض عقیدہ اور دین پر مبنی ہے۔یہودیوں سے بھی کہیں زیادہ شیعوں کے دلوں میں اہل سنت وجماعت کے لئے نفرت وکدورت ہے۔نام تو یہ قرآن اور آل بیت کا لیتے ہیں مگر سچ یہ ہے ان کا قرآن سے کوئی رشتہ ہے نہ آل بیت کی محبت سے انہیں کچھ لینا دینا ہے۔بس ان کا مقصد اسلام کی جڑ کو کھوکھلا کرنا اور سارے عالم میں خاک وخون کا سلسلہ جاری رکھنا ہے۔اس لئے کہ ان کا وجود اسی مقصد کی خاطر ہوا ہے۔
اس گمراہ فرقے کی خطرناکی کو بھانپتے ہوئے علماء امت نے اس سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے۔عامر شعبی نے رافضیت کو سب سے بڑی گمراہی قراردیا ہے۔طلحہ بن مصرف کہتے ہیں:ان کی عورتوں سے شادی کی جائے گی نہ ان کے ذبیحہ کو کھایا جائے گا۔اس لئے کہ وہ مرتد کے حکم میں ہیں۔
امام مالک سے جب روافض کے معتلق پوچھا گیا تو جواب دیا:ان سے بات کی جائے گی نہ ان سے حدیثیں لی جائیں گی اس لئے کہ وہ جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔
ابو یوسف کہتے ہیں:میں جہمی (جو اہل کبیرہ کو جہمنی تصور کرتے ہیں،اسماء وصفات کا انکار کرتے ہیں)،رافضی (جو سوائے علی رضی اللہ عنہ کے تمام خلفاء اور اکثر صحابہ پر لعن طعن کرتے ہی) اور قدری (جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں) کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا۔
اسی طرح امام شافعی،قاسم بن سلام،امام احمد، امام بخاری اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اپنی کتابوں میں جگہ جگہ رافضیت کی خباثت اور شر انگیزی اور فتنہ سامانی کو طشت ازبام کیا ہے۔امام بخاری نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ روافض کی اقتدا میں نماز یہود ونصاری کی اقتدا میں نماز کی طرح ہے۔
رافضیوں کے خطرناک عقائد بہت سارے ہیں۔خلفاء اسلام کو گالی دینا،ان پر اقربا پروری کا الزام لگانا۔صحابہ کو سوائے چند کے برا بھلا کہنا، ان کو سب وشتم کا نشانہ بنانا،علی رضی اللہ عنہ سے متعلق انبیاء کی طرح وصی کا فارمولہ پیش کرنا۔قرآن کریم کا باطن طور پر انکار کرناساتھ ہی موجودہ قرآن کی آیتوں میں من مانی تاویل وتحریف کرنا۔ "تقیہ” کے نام پر جھوٹ بولنا اور اس کو فروغ دیا۔ (نعوذ باللہ) اللہ تعالی کے علم سابق کے انکار کے لئے "بدا” کا عقیدہ وضع کرنا۔زناکاری اور فحاشی کو عام رکھنے کی خاطر "متعہ” کو حلال سمجھنا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحب کے ساتھ اس سے منع فرمایا دیا ہے۔ اپنے باطل اقوال افعال کی تائید وتوثیق کے لئے ائمہ اہل بیت کو معصوم گراننا۔حالانکہ قرآن وحدیث میں ان کی معصومیت کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔
اس وقت پوری دنیا رافضیت کی ناپاک سازش سے پریشان ہے۔کہیں بھی انہیں احترام کی نگاہوں سے دیکھا نہیں جاتا۔ان کے وجود بود وباش کو باعث ننگ وعار تصور کیا جاتا ہے۔یہ اس لئے کہ انہوں نے شروع سے اب تک تخریب کاری اور فتنہ وفساد کو انجام دیا ہے۔تعمیر وترقی اور دین پسندی ان میں سرے سے پائی ہی نہیں جاتی۔بغاوت،خروج اور منافقت کے واقعات سے ان کی پوری تاریخ بھری پڑی ہے۔عہد صحابہ سے اب تک جہاں رہے عوام وباشندگان ملک کو نقصان ہی پہنچایا۔عالم عرب کےعلاوہ بھی ان کی تاریخ کچھ اچھی نہیں ہے۔مغربی ممالک کو بھی کسی نہ کسی طرح ان سے خدشہ لاحق رہا ہے، چنانچہ وہ گاہے بہ گاہے ان پر اقتصادی اور دفاعی پابندیاں عائد کرتے رہے ہیں۔آج دنیا میں جہاں بھی شدت پسند تنظیمیں پائی جاتی ہیں ان میں رافضی ذہنیت کارفرما ہوتی ہے۔میں تو یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ مفربی طاقتیں بھی رافضیت کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتی ہیں تاکہ وہ اپنے مقاصد تک بہ آسانی پہنچ سکیں۔
عالم اسلام میں تو رافضی قہر ہر دن برپا ہوتا رہتا ہے۔ایران اور اس کے ہمنوا ممالک نے لوگوں کے سکون واطمینان کو غارت کررکھا ہے۔اپنے ناپاک عزائم کے تحت مغربی طاقتوں کے ساتھ مل کر شیعہ کئی مسلمان ملکوں کو ملبے میں تبدیل کرچکے ہیں۔عراق،افغان،شام،لیبیا اور یمن اس کی واضح دلیل ہے۔یمن اور شام میں آج جو جنگ ہے وہ سب شیعی سوچ کا مرہون منت ہے۔اگر سعودی عرب نے احتیاطی قدم نہ اٹھایا ہوتا تو بہت جلد یہ اس کے گھر میں بھی داخل ہوجاتے۔اور حرمین شریفین کےتقدس کو پامال کربیٹھتے۔ایران میں تیار شدہ حوثی پلاسٹک میزائلوں کا خانہ کعبہ کے سمت داغا جانا ایران کی بد باطنی اور اسلام دشمنی کو واشگاف کرتا ہے۔اور یہ بتلاتا ہے کہ وہ عالم اسلام کے کھلم کھلا دشمن ہیں۔ان کو اسلام اور مسلمانوں سے منسوب کرکے دیکھنا فریب اور دھوکہ ہے۔
اور جس طرح ان کی نیت عالم اسلام کے تعلق سے خراب ہے اسی طرح وہ اقوام عالم کے بھی سود مند نہیں۔جیسے انہیں موقع ملے گا کسی کے خلاف بھی چڑھائی کرسکتے ہیں۔اس کے ہنسی خوشی کو غم افسردگی میں بدل سکتے ہیں۔
ہندوستان بھی رافضیت کے نرغے میں ہے۔اگرچہ ان کی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی تباہ کاریاں اور نقصانات ابھی بہت عام اور واضح نہیں ہیں۔مگر جیسے انہیں موقع ملے گا وہ اپنا رنگ دکھلائیں گے جیسا کہ پڑوسی ملک پاکستان میں ان کی گھناونی اور اوچھی حرکتیں روز سامنے آتی رہتی ہیں۔
ہندوستانی حکومت کو بھی یہ سمجھنا چاہئے کہ شیعہ برادری کبھی ملک کی وفادار نہیں ہوسکتی۔ ان کی فطرت میں غداری اور مکاری ہے۔ چاہے وہ صحافی ہوں یا وقلم کار ودکان دار ۔ہوسکتا ہے وقتی طور پر حکومت کو ان سے کوئی بڑا فائدہ ہوجائے مگر ان کا نقصان زیادہ اور دیر پا ثابت ہوتا ہے۔
اس وقت بابری مسجد کے تنازع میں شیعہ وطن عزیز کے ساتھ کھڑے ہیں،کھڑے ہونے کو تو ان دنوں سلمان ندوی بھی کھڑے ہوگئے ہیں جسے وہ بزعم خود مصالحاتی کوشش کانام دے رہے ہیں۔لیکن وہ اس کے پس پردہ اپنے سابقہ گناہوں کو چھپانا چاہتے ہیں۔تاکہ حکومت دیر سویر کوئی تادیبی کاروائی ان کے خلاف نہ کردے۔ سلمان ندوی صاحب کا یہ تیوڑ اور بورڈ کے اجلاس میں نہ پہنچنا درحقیت بورڈ سے بغاوت، مسلمانان ہند کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ہے۔جس پر مستقبل میں ان کو شرمندی اٹھانی پڑے گی۔
اس پورے کھیل سے بعض صحافی بھی خوب فائدہ اٹھارہے ہیں۔شکیل شمسی روزنامہ انقلاب کا ایک بڑا نام ہے۔انہوں نے جیسے سنیوں بطور خاص سعودی عرب کو بدنام کرنے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ہر دن کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑتے رہتے ہیں۔اپنے آج ہی(11/فروری 2018) کے مضمون میں انہوں نے سلمان ندوی کی ناعاقبت اندیشی کو پورے سنی وقف بورڈ سے جوڑتے ہوئے عوام کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ بعید نہیں کہ عین موقع پر سنی وقف بورڈ اپنے دعوی سے پیچھے ہٹ جائے اور بابری مسجد کے پورے معاملہ کو شیعہ وقف بورڈ کے حوالے کردے۔
ان کی یہ تحریر اس وقت سامنے آئی ہے جب کہ "مسلم پرسنل لا بورڈ” نے اپنے گزشتہ کل کی میٹنگ میں یہ صاف کردیا ہے کہ بورڈ اپنے سابقہ فیصلے کا پابند ہے۔اور سلمان ندوی کی رائے بچکانہ اور غیر حکیمانہ ہے۔جس میں ان کا ذاتی مفاد تو نظر آتا ہے مگر عام مسلمانوں کے ساتھ یہ ایک دھوکہ ہے۔جس کا پوری اسلامی برادری کنڈم کرتی ہے۔اور بورڈ ان کے خلاف کاروائی بھی کرسکتی ہے۔

آل انڈیا مسلم برسنل لاء بورڈ کی طرف سے جاری حالیہ پریس ریلیز

جہاں تک سوال ہے شیعہ وقف بورڈ کا تو وہ پہلے ہی اس پورے معاملے میں شری شری کے ساتھ سر ملاچكا ہے۔مسجد کی زمین مندر کے لئے دینے کو تیار ہے۔ایسی حالت میں شمسی صاحب کا شیعیت کی وکالت اور بچاو کرنا کچھ اچھا نہیں لگتا۔ان کو سچ کا ساتھ دینا اور سچائی کا آئینہ لوگوں کا دیکھانا چاہئے۔
ہمیں ملک کی عدلیہ پر اعتماد ہے ان شاء اللہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں ہوگا اس لئے کہ دلائل اور شواہد یہی بتلاتے ہیں۔اس وقت ہمیں مسجد کے لیے اللہ سے دعا کرنی چاہئے۔سلمان ندوی صاحب کو بھی ہوش کا ناخن لینا چاہئے۔اور جان لینا چاہئے کہ اب تک جو ان کی عیاری مکاری پر پردہ پڑا ہوا تھا،لوگوں کو ان کی دینداری پر جو تھوڑا بہت اعتماد تھا اب وہ بھرم پورے طور پر بھربھرا چکاہے۔تاریخ ان کو معاف نہیں کرے گی۔ان کا شمار میر وجفعر کے فہرست میں ہوتا رہے گا۔

مضمون نگار جامعہ امام ابن تیمیہ چندن بارہ مشرقی چمپارن ،بہار کے استاذ ہیں ۔

 

نوٹ :مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا کوئی سروکار نہیں ہے

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.