تحریر:- خالد ایوب مصباحی شیرانی
khalidinfo22@gmail.com

 

عام طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ مدرسوں کے ذمہ دار پوری زندگی بے چارے بنے رہتے ہیں۔ ان کی شکلوں سے ایک خاص قسم کا دباؤ دور سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ چہرے کے حلیہ سے لے کر زبان و بیان تک ان کا وجود کسی امیر کی مدح سرائی بن کر رہ جاتا ہے اور ایسا لگتا ہے جیسے ایک مدرسہ چلانے کے ساتھ ہی انھوں نے اپنی پوری دنیوی زندگی داؤں پر لگا دی ہے۔
انقلاب 1857 کے بعد عام طور سے اور آزادی ہند 1947 کے بعد خاص طور سے مدرسوں کے ساتھ جو سوتیلا سلوک کیا گیا اور جس طرح مدرسوں کو زکات و صدقات اوراہل خیر کی خیرات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا، اس کے بعد اہل مدارس کے پاس ان چند مذہبی ذرائع آمدنی کے علاوہ کوئی معقول آمدنی تھی بھی نہیں جس کے بل بوتے پر مدارس کا وجود قائم رہتا، لا محالہ اہل علم نے زکات سمیت دیگر صدقات واجبہ کے مصارف میں حیلہ شرعی کے ذریعہ توسع پیدا کیا اورارباب مدارس کو اس بات کا اذن ملا کہ وہ مدارس کے قیام وانتظام کے لیے صدقات واجبہ وصول کریں۔
اس توسع کے بے پناہ دینی فوائد حاصل ہوئے اور تجربات کی روشنی میں بات کی جائے تو سچ یہ ہے کہ اگر یہ ذرائع آمدنی نہ ہوتے تو شاید آج جو مدارس کی بہار ہے، اور اس بہار کے صدقے جیسا تیسا جو دینی ماحول ہے، نہ ہوتا۔ کیوں کہ سچ یہ ہے کہ مذہبی طبقے کے علاوہ آج عام طور پر دین اور دینیات کے لیے مسلمانوں کا کوئی طبقہ قابل ذکر فکر مند نہیں اور نہ دینی مسائل کے لیے سنجیدہ۔ ایسے ماحول میں یقین کی حد تک یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ہمارے زمانے میں دین اور دین داری کی ساری بہاریں بالواسطہ یا بلا واسطہ انہی مدارس اسلامیہ کی بدولت ہیں۔
ہاں! اس توسع کا ایک بڑا نقصان بھی ہوا اور وہ یہ کہ اس توسع کی وجہ سے زکات کے اصل مصارف یعنی فقرا و مساکین وغیرہ عملا ثانوی درجے میں چلے گئے اور ظاہر ہے یہ اسلام کے مزاج فطرت پر ڈائرکٹ ایک بڑی زد ہے۔ اس کا احساس یوں بھی ہوتا ہے کہ ہر علاقے میں مدارس ہیں اور اس توسع کے بعد بنا کسی تمیز کے حقیقتا ضرورت مند اور چند ے کی غرض سے ضرورت مند بن چکے مدرسوں کی ایک بڑی فوج تیار ہو گئی جس نےمعاشرے میں غریبوں سے ان کا حق چھین لیا۔ اسی ضمن میں یہ افسوس ناک حقیقت بھی ہے کہ غریبوں کے منہ سے نوالہ چھیننے میں فرضی چند بازوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ایک سروے کے مطابق مدارس کے چندہ کرنے والوں میں تقریبا ہر چالیسواں انسان فرضی ہوتا ہے۔
شرعی تمیز کے بنا اپنی ہر خواہش کی تکمیل کے لیے چندے کے مزاج سے ایک بہت بڑا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ تعیش پسند طبقہ مدارس کے لیے مال زکات کے نام پر اپنی عاقبت داؤں پر لگا رہا ہے۔ مہتمم صاحب کے شاہی کمرے میں ایئر کنڈیشن لگانا ہے ، اس کے لیے بھی مال زکات کا استعمال کیا جا رہا ہے۔کیا یہ زمانہ کا المیہ نہیں؟ اور کیا اس پر قدغن لگانا ہماری ذمہ داری نہیں؟
بے تمیزی کی وجہ سے اب نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ ایک بڑے گاؤں میں ایک لاڈلا مکتب ہے جس میں نہ بچوں کی رہائش ہے اور نہ قیام و طعام اور اس سے متعلق انتظام کا کوئی تصور ، اسکول سے فرصت پانے کے بعد گھنٹے بھر کے لیے بچے آتے ہیں، امام صاحب تعلیم کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں، تعلیم کے لیے ہر ضروری سامان فراہم ہے لیکن صرف اس لیے زکات بٹوری جاتی ہے کہ موجودہ مدرسے کو خوب صورت بنانا ہے اور اس معمولی، غیر ضروری کام کے لیے سرمایہ دار گاؤں کے لاکھوں روپئے نذر ہو جاتے ہیں اور وہ بھی زکات کے۔ کیا اسے ضرورت شرعیہ کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے؟ کیا ہمارے علما نے اسی قسم کے غیر شرعی مصارف کے لیے حیلہ شرعی کی اجازت دی تھی ؟ ہمارے مؤقر ارباب افتا کو اس پہلو پر سنجیدگی سےغور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیوں یہ صورت حال اب چند جگہوں تک محدود نہ رہی بلکہ جیسے درجنوں غیر ضروری مصارف کے لیے حیلے ہو رہے ہیں ، اسی طرح ایک حد تک لوگوں کے خیال میں بنا کسی شرعی تمیز کےمدارس سر تا پا مصرف زکات بن کر رہ گئے ہیں۔
اس طرز عمل کا ایک خاموش نقصان یہ ہے کہ مسلمانوں میں بھکاریوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے اور اب مردوں کے ساتھ برقع پوش عورتیں بھی اس قطار میں اضافہ کر رہی ہیں اور بھکاریوں کی یہ بے ہنگم مخلوط بھیڑ اب اپنے کردار و عمل سے مسلمانوں کی بد نامی کا سبب رہی ہے۔ تن ہمہ داغ داغ، پنبہ کجا کجا نہم۔
ایک اوربڑا اہم نقصان یہ بھی ہوا کہ ارباب ثروت کے ذہنوں میں مدارس اسلامیہ اور ان سے وابستہ طلبہ اور علما کا وہ وقار نہ رہا، جو رہنا چاہیے۔ یہ طبقہ اپنی زکات بھلے مدرسوں کو دیتا ہو لیکن جب انہی مدرسوں سے جاری دینی باتوں پر عمل کی بات آتی ہے تو یہ طبقہ حاکمانہ لہجے میں ان باتوں پر کان دھرنے سے عملا انکاری ہو جاتا ہے۔ نفسیاتی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ بات معقول بھی نظر آتی ہے، آدمی جس کا محسن ہوتا ہے، اس کی نصیحتوں پر عمل نہیں کر پاتا۔
حالات کی یہ نزاکتیں ہم سے چیخ چیخ کرمطالبہ کر رہی ہیں کہ ہم مدتوں پرانی روش تبدیل کریں اور آج کے ماڈرن دور میں چند ٹکوں کے لیے امیروں کےدست نگر رہنے کی بجائے ذرا محنت سے اپنے ذرائع آمدنی خود پیدا کریں اور ذہنی، فکری یا کسی بھی قسم کے خارجی دباؤ سے بالا تر ہو کر خودداری کے ساتھ کار دین بھی کریں اور اپنے کردار و عمل سے ان تعلیمات کا اظہار بھی کریں ، جن کی تعلیم دے رہے ہیں۔
آج کا دور اقتصادی دور ہے جس میں بڑی آسانی سے کم سرمایہ میں قدر قوت ذرائع آمدنی پیدا کرنا کچھ مشکل نہیں۔ دماغی قوت اور سسٹم کے ساتھ اپ ڈیٹ رہنے کا ہنر جس کے پاس ہو، وہ شخص آج چٹکیوں میں بڑا بزنس کر سکتا ہے۔ ای کامرس نے اس میدان میں مزید آسانیاں بھی متعارف کروائی ہیں ۔ ارباب مدارس بھی چاہیں تو حسب وسعت درج ذیل چھوٹے بڑے اور کم یا زیادہ سرمایہ والے کام کر کے اپنے لیےبخوبی ذرائع آمدنی پیدا کر سکتے ہیں:
(1) مدرسوں کو اپ ڈیٹ کریں اور نصاب میں ضروری ترمیم کے ذریعہ عصری و دینی تعلیم کا سنگم بنائیں اور پھر کار تعلیم مفت میں نہ کر کے مناسب وظیفہ لیں۔ یہ ادارے آج گھر گھر کی ضرورت ہیں جن کی کامیابی میں ان شاء اللہ تعالی کوئی مانع نہیں ہوگا۔ کیا علما اور کیا عوام، ہر انسان اپنے بچوں کو ایسے ہی اداروں میں تعلیم دلوانا چاہتا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ اب تک ایسے ادارے ڈیویلپ ہی نہیں ہوئے۔ ارباب مدارس چاہیں تو آف لائن مدرسوں کے ساتھ آن لائن مدرسے بھی چلا سکتے ہیں جن میں خرچ کم سے کم ہوگا اور بچت بیش از بیش۔ دعوت اسلامی کے آن لائن اداروں کو اس سلسلے میں رول ماڈل بنا یا جا سکتا ہے۔
(2)مدرسوں کے اپنے کوچنگ سینٹر ہوں جن میں عصر ی تعلیم کےطلبہ کے لیے بہترین فیکلٹی ہو،اگر فیکلٹی بہتر ہو تو ایسے سینٹر ہر جگہ کامیاب ہیں اور یہ بہترین انکم سورسیز بھی ہیں۔ ان سینٹرس میں ایک آدھ گھنٹہ دینی تعلیم کے لیے بھی مختص ہو تاکہ انکم کے ساتھ تبلیغ کا بھی کام ہوتا رہے۔کوچنگ سینٹر کا یہ کام آف لائن کے ساتھ ، آن لائن بھی کیا جا سکتا ہے۔
(3)مدرسوں کا اپنا کوئی پبلشنگ ہاؤس بھی ہونا چاہیے جہاں سے کتابوں کے ساتھ علاقائی ضرورتوں کے مطابق دیگر اشاعتی کام بھی ہوں۔ محنت کی شرط کے ساتھ ایسے اشاعتی اداروں کا فیضان عام سے عام تر کیا جا سکتا ہے اور اسی کے ساتھ یہ ہاؤسیز جہاں بہترین انکم سورسیز ہوں گے، مذہب و مسلک اور اپنے افکار و نظریات کی اشاعت کا بھی بہت بڑا ذریعہ ثابت ہوں گے۔ ان اشاعتی کاموں کی بھی آن لائن تجارت کی جا سکتی ہے۔
(4) کچھ مدرسوں کے اپنے رسالے بھی ہیں لیکن ان میں بیشتر وہ ہیں جو اپنے ادارے کی چند خبروں کے علاوہ نہ اپنے زمانے کی نمائندگی کر پاتے ہیں اور نہ اپنے مسلک کی۔کیوں کہ ان کے پاس نہ ریڈرشپ کو متاثر کرنے والا مواد ہے اور نہ ان کی اشاعت میں ہی جاذبیت۔ اگر ایسے رسمی رسالوں سے ہٹ کر عصری تقاضوں سے لیس رسالے یا اخبار نکالے جائیں اور پھر ان کی بہترین مارکٹینگ کر کے ان کو کثیر الاشاعت بنانے کی ممکنہ تدبیریں اپنائی جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ میڈیا بہترین انکم کے ساتھ ادارے اور مسلک کے بہترین نمائندے نہ ثابت ہوں۔
(5) یہ دور میڈیا کا دور ہے، یہ حقیقت جس طرح عریاں نقص کر رہی ہے، کسی درد مند اور ہوش مند کو باور کروانے کی ضرورت نہیں۔ ایسے میں اسلامی چینلز تلاش کیے جائیں تو ایک مدنی چینل کے علاوہ دور دور تک بلکہ کئی ممالک تک کوئی دوسرا انٹر نیشنل بلکہ نیشنل چینل بھی نظر نہیں آتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اسلام کے خلاف ایک گلی کی بھی خبر ہو تو جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے جبکہ قندوز میں کوئی ڈیڑ ھ سو ادھ کھلی معصوم کلیاں مرجھا جاتی ہیں لیکن کسی چینل کے پاس اس خبر کے لیے دس سیکنڈ کا بھی وقت نہیں۔
نیشنل چینل کے لیے جتنے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے، عام طور پر مدرسوں کے بجٹ میں اس کا تصور نہیں لیکن کسی چھوٹے بڑے شہر میں لوکل حد تک کوئی لوکل چینل چلانا اس قدر مشکل نہیں اور نہ اس کے لیے اس قدر سرمایہ درکار جبکہ اس سےانکار نہیں کہ شہری حد تک لوکل چینل بھی وہی کام کر سکتا ہے جو ایک ٹی وی چینل کرتا ہے، اس لیے کم سرمایہ میں قابل شمار انکم کے ساتھ تبلیغ دین کےلیے یہ چینلز بھی بہترین ذریعہ ہو سکتے ہیں۔
(6) اس وقت جہاں اردو میڈیم اسکول مر چکے ہیں اور ہندی میڈیم نیم جان ہیں، وہیں انگلش میڈیم اسکولوں کا بڑا کریز ہے۔ ہر آدمی اپنے بچوں کو فراٹے دار انگلش بولتا دیکھنا چاہتا ہے بھلے اس کے لیے عیسائی اسکولوں میں داخلہ دلوا کر ایک حد تک اسلامی روحانیت کا سودا ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ ایسے میں اگر دین دار طبقہ عصری تقاضوں سے لیس بہترین انگلش میڈیم اسکول ڈیویلپ کرتا ہے تو یہ نہ صرف بہترین ذریعہ آمدنی ثابت ہوتے ہیں بلکہ ان کے ذریعہ آنے والی نسل کے ایک بڑے طبقے کو خاموشی کے ساتھ الحاد کی لپیٹ میں آنے سے بچانے کا کام بھی ساتھ ساتھ انجام پاتا ہے۔
یہ تمام ذرائع وہ ہیں جو آمدنی کے ساتھ ساتھ تبلیغ دین کا بھی ذریعہ ہیں۔ اب کچھ وہ اسباب جو بذات خود محض آمدنی کے ذرائع ہیں، ہاں! ایک داعیانہ مزاج انھیں بھی تبلیغ کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔
(7) مدرسہ کا کسی بڑے شہر میں کوئی ہوٹل یا گیسٹ ہاؤس ہو ۔
(8) مدرسے کی چند بڑی گاڑیاں ہوں جو مستقل طور پر کرایہ پر کام کریں ۔
(9) کسی مناسب قصبے میں کوئی مال یا ٹھیک ٹھاک دکان ہو ۔
(10) آج کے دور میں ایک خاص بزنس مشورہ دینا بھی ہے۔ یہ کام آن لائن بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہاں! اس کاز کے لیے جن میدانوں کا انتخاب کیا جائے، مامور افراد میں ان میدانوں کی بھرپور صلاحیت ہونا لازم ہے، اسی طرح ان افراد کا پروفیشنل اور اپ ڈیٹ ہونا بھی ضروری ہے، ورنہ یہ کام فیل ہو سکتا ہے۔اسی طرح اپنے اپنے علاقوں کی ضروریات اور حالات کے پیش نظر بہت سے ایسے میدان تلاش کیے جا سکتے ہیں جن سے مدارس کے بجٹ کےمطابق انکم سورسیز ڈیلویلپ ہوں۔ خدائے قدیر ہمارے مدارس کو خود کفیل بنائے اور اس سلسلے میں ہمیں بلندفکری سے نوازے۔

Facebook Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here