تحریر:محمد صدرعالم قادری مصباحی

اولیاءکرام کاورودمسعودبیشتران ہی مقامات وعلاقوں میں ہواکرتاہے جہاں کفروشرک ،گمراہی،بدمذہبی،بے حیائی،دین حق سے دوری،سنت رسول کے خلاف ورزی اورمعصیت عروج پرہوایسی جگہوں پراولیاءاللہ اپنے قدم رنجہ فرماکرلوگوں کے قلوب واذہان میں سنتِ رسول کوعام اورمحبت مصطفی ﷺکاچراغ روشن کرتے ہیںاورکیوں نہ ہوں جبکہ ان کامقصدزیست ہی یہی ہے،ان کی زندگی کامقصدالحب فی اللّٰہ والبغض فی اللّٰہ ہے،اسی سلسلة الذہب کی ایک اہم کڑی حضوراعلیٰ حضرت ،عظیم البرکت ،امام اہلسنت،مجدددین وملت،پروانہ  شمع رسالت،عالم شریعت،واقف اسرارحقیقت ،مخزن علم وحکمت،امام عشق ومحبت،پیکررشدوہدایت،عارف شریعت وطریقت،تاجدارولایت،شیخ االاسلام والمسلمین،سراج الفقہاوالمحدثین،زبدة العارفین والسالکین،تاج المحققین،سراج المدققین،حامی السنن،ماحی الفتن ،بقیة السلف،مجدداعظم امام احمدرضاخان فاضل بریلوی قدس سرہ العزیز کی ذات بابرکات ہے۔آپ قدس سرہ العزیزکی ذات گرامی محتاج تعارف نہیں،ہرسنی صحیح العقیدہ شخص خواہ وہ عوام میں سے ہویاخواص سے اپنے اعتبارسے آپ کے تجدیدی وعلمی کارناموں سے بحسن وخوبی واقف ہے۔آپؒکے جداعلیٰ سعیداللہ خان قندھارکے قبیلہ بڑہیچ کے پٹھان تھے۔مغلوں کے دورمیں ہندوستان تشریف لائے اورمعززعہدوں پرفائز رہے ۔ان کے بیٹے سعادت یارخان حکومت کی جانب سے ایک جنگی مہم سرکرنے روہیل کھنڈآئے۔فتح یابی کے بعدان کایہیں انتقال ہوااس کے بعدان کے صاحبزادے اعظم خان نے بریلی آکرسکونت اختیارکرلی۔کاظم علی خان بدایوںکے تحصیلداران ہی کے بیٹے تھے۔ان کے بیٹے رضاعلی خان (متوفی1282ہجری)تھے۔یہ اپنے وقت کے قطب اورولی کامل اورروہیل کھنڈکے بزرگ ترین علماءمیںتھے ۔اس خاندان میں انہیں کے زمانے سے دنیوی حکمرانوں کادورختم ہوا۔اورفقرودرویشی کارنگ غالب آیا۔ان کے صاحبزادے حضرت مفتی نقی علی خان ؒ(متوفی1297ہجری)علوم ظاہری وباطنی دونوں سے متصف جلیل القدرعالم دین تھے۔ حضوراعلیٰ حضرت عظیم البرکت ،مجدددین وملت،امام عشق ومحبت امام احمدرضاخان فاضل بریلوی قدس سرہ العزیزانہیں (یعنی حضرت مفتی نقی علی خان ؒ)کے صاحبزادے ہیں۔آپؒ کی ولادت باسعادت بریلی شریف میں 10شوال المکرم 1272ہجری مطابق 14جون 1856 ءشنبہ کے دن ظہرکے وقت ہوئی۔یعنی انقلاب 1857 ءسے ایک سال قبل ایک فکری انقلاب کابے باک نقیب دنیامیں تشریف لایا۔آپ ؒکا اسم شریف محمدرکھاگیا۔اورتاریخی نام”المختار“جدامجدرضاعلی خان علیہ الرحمہ نے آپ ؒکا نام احمدرضاتجویز فرمایا۔آپ نے خوداس آیت کریمہ سے اپناسنہ ولادت نکالاہے۔”اولٰئک کتب فی قلوبہم الایمان وایدیہم بروح منہ“ترجمہ:یہ ہیں وہ جن کے دلوںمیں اللہ تعالیٰ نے ایمان نقش فرمایاہے اوراپنی طرف کی روح سے ان کی مدد فرمائی ہے ۔آپ کے زمانہ طفولیت کے واقعات کوسامنے رکھاجائے توحضرت شیخ سعدی شیرازی رحمة اللہ تعالیٰ علیہ کاوہ شعریادآتاہے کہ! بالائے سرش زہوش مندی      می تافت ستارہ بلندی
آپ نے چارسال کی عمرشریف میںقرآن کریم کاناظرہ ختم کیا۔اورچھ سال کی عمرشریف میں ربیع الاول شریف کے موقع پربہت بڑے مجمع کے سامنے مسلسل پونے دوگھنٹے نفیس اندازمیںتقریرفرمائی ۔آٹھ سال کی عمرشریف میںدرسی کتاب ”ہدایة النحو“کی شرح تصنیف فرمائی جوآپ کی سب سے پہلی تصنیف ہے۔دس سال کی عمرمبارک میں درس نظامیہ کی مشہورومعرف کتاب مسلم الثبوت پرحاشیہ لکھا۔اورچودہ سال کی عمرمبارک میںفارغ التحصیل ہوگئے ۔عربی ،فارسی کی ابتدائی کتب مرزاغلام قادربیگ سے پڑھی۔شرح چغمینی کے چنداسباق مولاناعبدالعلی رامپوری سے پڑھی جوعلم ہئیت میںبہت مشہورتھے۔علم جفروتکسیرحضرت سیدشاہ ابولحسین احمدنوری مارہروی سے حاصل کیا۔اور5جمادی الا ُخریٰ 1294ہجری مطابق 17جون 1877ءکوآپ حضورپرنورمولاناسیدآل رسول مارہروی قدس سرہ العزیز سے مریدہوئے اورحضرت مُرشدگرامی سے باطنی تعلیم حاصل فرمائی۔اورباقی جمیع علوم عقلیہ ونقلیہ والدماجدحضرت علامہ مفتی نقی علی خان صاحب قدس سرہ العزیزسے حاصل کئے۔14شعبان المعظم کو آپ نے فراغت حاصل کی ۔آپ فرماتے ہیں کہ جس دن میں فارغ ہوااسی دن مجھ پرنماز فرض ہوئی اسی دن رضاعت کے مسئلہ کاجواب لکھ کروالدماجدکی خدمت میں پیش کیا جوبالکل صحیح تھا۔والدمحترم نے اسی دن سے ہی فتویٰ نویسی کاکام آپ ؒکوسپردفرمادیا۔آپ ؒ کی تصانیف تقریباً پچاس فنون میں ہیں جن کی تعدادایک ہزارکے قریب ہے۔اورآپ نے علوم ومعارف کے وہ دریابہائے کہ تلامذہ ومعتقدین کاتوکہناہی کیا بلکہ معاصرین ومخالفین بھی یہ کہنے پرمجبورہوگئے کہ آپ ؒقلم کے بادشاہ ہیں۔انہیں چیزوں سے متاثرہوکرعلماءعرب وعجم نے بالاتفاق آپ ؒکوچودہویں صدی ہجری کامجدداعظم تسلیم کیا ۔اورحرمین شریفین زادہمااللہ شرفاوتکریماً کے مشائخ عظام وعلماءکرام نے معزز القابات وخطابات سے نوازاجوآج بھی اہل حق کے نزدیک ایک مسلم حقیقت ہے۔
ذی الحجہ1296 ہجری مطابق دسمبر1878 ءمیںپہلی مرتبہ آپ نے حج ادافرمایااورمدینہ طیبہ پہنچ کرسرکارمصطفیٰ ﷺ کی بارگاہ اقدس میں حاضری دی۔ پھردوسراحج ذی الحجہ 1323ہجری مطابق فروری 1906ءمیں اداکیا آپ نے ڈھائی ماہ مکہ شریف میں قیام فرمایاپھرربیع الاول 1324 ہجری مطابق اپریل 1906 ءمیں سرکاراعظم پیارے مصطفیٰ ﷺ کی بارگاہ عالیہ میں حاضرہوئے ایک ماہ تک مدینہ طیبہ میں رہ کربارگاہ رسالت کی زیارت کرتے رہے۔مکہ معظمہ اورمدینہ طیبہ کے بڑے بڑے علماءآپ کے علمی کمالات اوردینی خدمات کودیکھ کرآپ کے نورانی ہاتھوں پرمریدہوئے اورآپ کواپنااستادوپیشوامانا۔ اوراسی مرتبہ ”الدولة المکیہ “نامی کتاب علم غیب مصطفی ﷺ کے ثبوت میں مکہ مکرمہ میں صرف آٹھ گھنٹے کے اندرتصنیف فرمائی۔آپ نے ہوش سنبھالنے کے بعداپنی ساری زندگی اسلام کی خدمت اورسنیت کی نشرواشاعت میں صرف فرمائی ۔تقریباًایک ہزارکتابیں لکھیں جن میں ”العطایاالنبویہ فی الفتاویٰ الرضویہ“ بہت ہی ضخیم کتاب ہے جوقدیم نسخے کے حساب سے 12جلدوں پرمشتمل ہے اورجدید نسخے مع ترجمہ30 جلدوں پرمشتمل ہے۔آپ نے قرآن کریم کاصحیح ترجمہ اردوزبان میں فرماکرلوگوں پربہت بڑااحسان فرمایا۔آپ کوجملہ علوم عقلیہ ونقلیہ میں مہارت کے ساتھ ساتھ شعرگوئی میں یدطولیٰ رکھتے تھے۔لیکن آپ کی شاعری لغویات وخرافات سے بالکل پاک وصاف ہوتی۔حمدباری تعالیٰ ونعت سرورکونین ﷺاوراولیاءکرام کی تعریف وتوصیف آپ کی شاعری میں پائی جاتی ہے اورعشق رسول ﷺآپ کاخاص موضوع تھا۔عام شاعروں کی طرح دنیوی حاکموںکی تعریف میں آپ نے کبھی کوئی شعرنہیں لکھا۔ایک مرتبہ نانپارہ کے حاکم کی تعریف میں قصیدہ لکھنے کے لئے کہاگیاتوآپ ؒ نے یہ شعرتحریرفرمایا!
کروں مدح اہل دول رضا پڑے اس بلا میں میری بلا       میں گداہوں اپنے کریم کامیرادین پارہ نان نہیں
آپ کے اشعارمیں سوزوگداز،کیف وجذب،فصاحت وبلاغت،جوش وبیان اورپاس شریعت غرض کہ آپ کے کلام میں ہرطرح حسن صوری ومعنوی بدرجہ اتم موجودہے ۔احکام شریعت کااس طرح لحاظ وپاس آپ کے کلام میں پایاجاتاہے کہ کوئی شعرقرآن وحدیث کے خلاف ثابت نہیں کرسکتابلکہ خودآپ فرماتے ہیں کہ میں نے قرآن کریم سے ہی نعت گوئی سیکھی ہے۔آپ کے نعتیہ کلام کا مجموعہ”حدائق بخشش“کوجام کوثرکہاجائے تویقینابجاہوگا۔آپ کانعتیہ کلام اہل ایمان ومحبت کے سازوروح کادل نواز نغمہ معلوم ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ ذوق سلیم رکھنے والے آپ کاکلام سن کرجھوم جاتے ہیں۔حضورمحدث اعظم ہندعلیہ الرحمة والرضوان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ لکھنو کے ادیبوں کی شاندارمحفل میں اعلیٰ حضرت کا”قصیدہ معراجیہ “میں نے اپنے اندازمیں پڑھاتوسب جھومنے لگے میں نے اعلان کیاکہ اردوادب کے نقطہ نظرسے میں ادیبوںکافیصلہ اس قصیدہ کی زبان کے متعلق چاہتاہوں ۔توسب نے کہاکہ اس کی زبان توکوثرکی دھلی ہوئی زبان ہے۔اسی قسم کاایک واقعہ دہلی میں بھی پیش آیا،توسب نے کہاکہ ہم سے کچھ نہ پوچھئے آپ پڑھتے رہئے اورہم عمربھرسنتے رہےں۔آپ نے 25صفرالمظفر1340ہجری مطابق 28اکتوبر1921ءکوجمعہ کے دن دوبجکراڑتیس منٹ پروصال فرمایا(اناللہ واناالیہ راجعون)۔آپ کامزارمبارک شہربریلی شریف کے محلہ سوداگران میں مرجع خلائق ہے۔مولیٰ تعالیٰ ہم سب کوآپ کے فیوض وبرکات سے مالامال عطافرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین۔

 

نوٹ: (سربراہ اعلیٰ :امام احمدرضافاونڈیشن وخطیب وامام سنی مومن مسجد،مومن محلہ،کونانور،ضلع ہاسن)
Email: misbahisadrealam@gmail.com
Mobile: +919620747322

Facebook Comments

5 COMMENTS

  1. I’ve been browsing online more than three hours today, yet I never found any interesting article like yours. It’s pretty worth enough for me. In my view, if all web owners and bloggers made good content as you did, the internet will be much more useful than ever before.

  2. Thank you for every other wonderful article. Where else may just anyone get that kind of information in such a perfect method of writing? I have a presentation subsequent week, and I am on the search for such info.

  3. I just could not depart your site prior to suggesting that I really loved the usual info an individual provide to your guests? Is gonna be back frequently to investigate cross-check new posts.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here