اب جو چپ ہیں انھیں قاتل ہی پکارا جائے

0

تحریر:دانش اقبال
ایسوسی ایٹ پروفیسر،جامعہ ملیہ اسلامیہ

 

بٹوارے کے پاگل پن کے سبجیکٹ پر منٹو کی ایک کہانی ہے جس کا ٹائٹل ہے شریفن اس کہانی میں  قاسم نام کا کردار جب گھر واپس آتا ہے تو وہ زخمی ہے۔ اس کی داہنی پنڈلی میں ایک گولی  لگی ہے۔ اندر جاتا ہے تو   اپنی بیوی کی لاش دیکھ کر  اس کی آنکھوں میں خون اتر آتا ہے۔ تبھی اسے   اپنی لڑکی شریفن کا خیال آتا ہے۔ وہ بیٹی کو آوازیں دیتا ہے ‘‘شریفن! ،شریفن’’۔ وہ سوچتا ہے کہ اس کی بیٹی   شاید ڈر کے مارے اندر چھپ گئی ہوگی۔   وہ اندر دالان میں جا کر کہتا ہے ‘‘بیٹی ڈرو مت!  میں تمہارا باپ ہوں۔’’

جب اندر سے کوئی جواب نہیں آتا تو قاسم  دونوں ہاتھوں سے دروازے  کو دھکا دیتا ہے اور لڑکھڑا کر کسی جسم پر گر پڑتا ہے۔  وہ چیخ پڑتا ہے کیونکہ   اندر ایک جوان لڑکی کی لاش پڑی  ہے۔ لاش ننگی ہے۔  اس کی گہرائیوں سے ایک فلک شگاف چیخ اٹھتی ہے۔ لیکن اس نے  ہونٹ اس قدر زور سے بھینچےتھے کہ  چیخ باہر نہ نکل سکی۔ اس کی آنکھیں خود بخود بند ہوگئی تھیں۔ آنکھیں بند کئے کئے  اِدھر اُدھر ہاتھ مار کر اُس نے  کچھ کپڑے اٹھائے اور انھیں شریفن کی لاش پر گرا کر وہ یہ دیکھے بغیر ہی باہر نکل گیا کہ وہ  کپڑے اُس سے کچھ دور گرے تھے۔ باہر نکل کر اس نے اپنی بیوی کی لاش  بھی نہ دیکھی۔ منٹو لکھتے ہیں کہ بہت ممکن ہے اُسے بیوی کی لاش نظر ہی نہ آئی ہو۔ اس لیے کہ اس کی آنکھیں شریفن کی ننگی لاش سے بھری ہوئی تھیں۔

اس نے کونے میں پڑا ہوا لکڑیاں پھاڑنے والا گنڈاسا اٹھایا اور گھرسے باہر نکل گیا۔ قاسم کی داہنی پنڈلی میں گولی گڑی ہوئی تھی۔ لیکن گولی کی جلن  کا احساس گھر کے اندر داخل ہوتے ہی  ختم ہو گیا تھا۔ اس کی وفادار پیاری بیوی مر چکی تھی۔ اِس بات  کا صدمہ بھی اس کے ذہن کے کسی گوشے میں موجود نہیں تھا۔ بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے ایک ہی تصویر آتی تھی۔۔۔ شریفن کی ننگی لاش!!

وہ لاش  نیزے کی انی بن بن کر اس کی آنکھوں کو چھیدتی ہوئی اس کی روح میں بھی شگاف ڈال رہی تھی۔  گنڈاسا ہاتھ میں لیے قاسم سنسان بازاروں میں ابلتے ہوئے لاوے کی طرح بہتا چلا جارہا تھا۔ چوک کے پاس اُس کی مڈبھیڑ ایک سکھ سے ہوئی۔ بڑا کڑیل جوان تھا۔ لیکن قاسم نے کچھ ایسے بے تکے پن سے حملہ کیا اور ایسا بھرپور ہاتھ مارا کہ وہ تیز طوفان میں اُکھڑے ہوئے درخت کی طرح زمین پر آرہا۔ قاسم کی رگوں میں اُس کا خون اور زیادہ گرم ہوگیا۔ اور بجنے لگا۔تڑتڑ تڑ تڑ۔۔۔ جیسے جوش کھاتے ہوئے تیل پرپانی کا ہلکا سا چھینٹا پڑ جائے۔

دور سڑک کے اُس پار اسے چند آدمی نظر آئے۔ تیرکی طرح وہ اُن کی طرف بڑھا۔ قاسم کو  دیکھ کر ان لوگوں نے  ‘‘ ہر ہر مہادیو’’ کے نعرے لگائے۔ قاسم نے جواب میں اپنا نعرہ لگانے کے بجائے انھیں ماں باپ کی موٹی موٹی گالیاں دیں اور گنڈاسا تانے اُن میں گھس گیا۔ چند منٹوں ہی کے اندر تین لاشیں سڑک پر تڑپ رہی تھیں۔ دوسرے بھاگ گئے لیکن قاسم کا گنڈاسا دیر تک ہوا میں چلتا رہا۔ منٹو لکھتے ہیں کہ  اصل میں اس کی آنکھیں بند تھیں۔ گنڈاسا گھماتے گھماتے وہ ایک لاش کے ساتھ ٹکرایا اور گر پڑا۔ اس نے سوچا کہ شاید اُسے گرالیا گیا ہے۔ وہ چلانے لگا ۔ ‘‘مار ڈالو مجھے، مار ڈالو مجھے۔’’  لیکن جب اسے کسی نے نہیں مارا  تو اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور دیکھا کہ سڑک پر تین لاشوں،  اور اس کے سوا اور کوئی بھی نہیں تھا۔ ایک لمحے کے لیے قاسم کو مایوسی ہوئی۔ کیونکہ شاید وہ مرجانا چاہتا تھا ۔

لیکن ایک دم شریفن کی  ننگی لاش  اُس کی آنکھوں میں پگھلے ہوئے سیسے کی طرح اتر گئی اور اس کے سارے وجود کو بارود کا جلتا ہوا فلیتہ بنا گئی۔  وہ فوراً  ہاتھ میں گنڈاسا لئے اٹھا ۔ اور پھر کھولتے ہولے لاوے کی طرح سڑک پر بہنے لگا۔   ایک بازارمیں پہنچ کر اس نے اپنا گنڈاسا اونچا ہوا میں لہرایا اور ماں بہن کی گالیاں اگلنی  شروع کیں۔ پھر اُسے احساس ہوا کہ وہ ماں بہن کی گالیاں کیوں دے رہا ہے۔ اس لئے اب اُس نے  بیٹی کی گالیاں دینا  شروع  کر دیں۔ جھنجھلا کر وہ ایک مکان کی طرف بڑھا۔ جس کے دروازے کے اوپر ہندی میں کچھ لکھا تھا۔ دروازہ اندر سے بند تھا۔ قاسم نے دیوانہ وار گنڈاسا چلانا شروع کیا۔ تھوڑی ہی دیر میں دونوں کواڑ  ریزہ ریزہ ہوگئے۔ قاسم اندر داخل ہوا۔ چھوٹا سا گھر تھا۔ قاسم نے اپنے سوکھے ہوئے حلق پر زور دے کر پھر گالیاں دینا شروع کیں۔‘‘باہر نکلو۔۔۔۔۔۔ باہر نکلو۔’’  سامنے دالان کے دروازے میں چرچراہٹ پیدا ہوئی۔ دروازہ کھلا۔ ایک لڑکی نمودار ہوئی۔ دونوں ہاتھوں سے قاسم  نے دیوانہ وار اس کے کپڑے نوچنے شروع  کر دئے۔ دھجیاں اور چندیاں یوں اڑنے لگیں جیسے کوئی روئی دھنک رہا۔  لڑکی نے اسے روکنے کی  کوئی کوشش نہ کی۔ کیونکہ  وہ فرش پر گرتے ہی بیہوش ہوگئی تھی۔ جب قاسم نے آنکھیں کھولیں تو اس کے دونوں ہاتھ لڑکی کی گردن میں دھنسے ہوئے تھے۔ ایک جھٹکے کے ساتھ انھیں علیحدہ کرکے وہ اٹھا ۔ پسینے میں غرق ۔ اس نے ایک نظر اس لڑکی کی طرف دیکھا تاکہ اس کی اور تشفی ہوسکے۔ ایک گز کے فاصلے پر اس جوان لڑکی کی لاش پڑی تھی۔۔۔ ننگی۔۔۔ بالکل ننگی لاش!

 لڑکی پر نظر پڑتے ہی قاسم کی آنکھیں پھر سے ایک دم بند ہوگئیں۔ دونوں ہاتھوں سے اس نے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔ بدن پر گرم گرم پسینہ برف ہوگیا اور اس کی رگوں میں کھولتا ہوا لاوا پتھر کی طرح منجمد ہوگیا۔

 تھوڑی دیر کے بعد ایک آدمی تلوار ہاتھ میں لئے  مکان کے اندر داخل ہوا۔ اس نے دیکھا کہ دالان میں کوئی شخص آنکھیں بند کیے لرزتے ہاتھوں سے فرش پر پڑی ہوئی چیز پر کمبل ڈال رہا ہے۔ اس نے گرج کر اس سے پوچھا۔‘‘کون ہو تم؟’’ قاسم کی آنکھیں کھل  کھل گئیں مگر اسے کچھ نظر نہ آیا۔ تلوار والا آدمی چلایا۔ ‘‘قاسم’’! ‘‘کیا کررہے ہو تم یہاں؟’’۔

 قاسم نے لرزتے ہوئے ہاتھ سے فرش پر پڑے ہوئے کمبل کی طرف ا شارہ کیا   اور کھوکھلی آواز میں صرف اتنا کہا۔‘‘شریفن۔۔۔’’   تلوار والے آدمی نے جلدی سے آگے بڑھ کر  کمبل ہٹایا۔ ننگی لاش دیکھ کر پہلے وہ کانپا، پھر ایک دم اس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ تلوار اس کے  ہاتھ سے گر پڑی۔ آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر وہ ‘‘بملا بملا’’ کہتا لڑکھڑاتے ہوئے قدموں سے باہر نکل گیا۔

منٹو کی یہ بھیانک کہانی بٹوارے کے پاگل پن کی کہانی ہے۔ منٹو کا کردار اپنی بیٹی کی لاش دیکھ کر خود بھی ایک لاش ہو گیا تھا۔ وہ مرجانا چاہتا تھا اور جگہ جگہ موت ہی ڈھونڈ رہا تھا۔ لیکن سارے پاگل پن کے باوجود اُسے بملا کی لاش میں شریفن نظر آ رہی تھی۔ لیکن کٹھوعہ میں جو ہوا وہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ کہ بٹوارے کا جنون ، بٹوارے کے ۷۰ سال کے بعد بھی ختم نہیں ہوا ہے۔ منٹو کی کہانی کا کردارتو ایک  زندہ  لاش تھا۔ وہ مرجا نا چاہتا تھا۔ وہ موت ڈھونڈ رہا تھا۔

نئے بھارت کی نئی کہانی  زیادہ بھیانک ہے۔  نئے بھارت کی اس نئی کہانی کے کردار سنجی رام، وکرم، دیپک ، منّو زندہ لاشیں نہیں ہیں۔ یہ لوگ  اپنی بیٹی کی لاش دیکھ کر وقتی طور پر پاگل نہیں ہوئے ہیں۔ یہ لوگ سمجھدار اور سنسکاری لوگ  ہیں۔ یہ دھارمک  یودھا ہیں۔ یہ  وہ دیش بھکت اور دھارمِک لوگ ہیں جو  بھارت ماں کے آدرش وادی سپوت    ہیں۔ یہ لوگ سات آٹھ سال کی معصوم بچی کے ساتھ ایک مندر کے اندر، دیوتائوں کی موجودگی میں،  پورے وِدھی ودھان کے ساتھ وہ سب کچھ کرتے ہیں ، جو ۱۹۴۷ میں نہیں ہو پایا تھا۔  اس کے بعد پولیس سے لے کر ایڈمنسٹریشن اور ڈاکٹروں سے لے کر وکیلوں تک، بار ایسو سی ایشن سے لے کر مَنتریوں تک سب لوگ ساریراشٹروادی حرکتیں پورے ہوش و حواس اور  فخر اور گَروکے ساتھ ہاتھ میں ترنگا لے کر ‘‘جے شری رام’’ کے نعرے کے ساتھ کرتے ہیں۔ 

سنجی رام، وکرم، دیپک ، منّو ، وہ وکیل، وہ ڈاکٹر، وہ پولیس والے زندہ لاشیں  با لکل نہیں ہیں!  ہر گز نہیں ہیں!  زندہ لاشیں  تو ہم لوگ ہیں ، جو یہ سب ہونے دیتے ہیں۔ جو یہ سب خاموش دیکھتے رہتے ہیں۔ شاید ہم سب مر چکے ہیں۔ کیوں کہ منٹو کے کردار کے برخلاف نہ ہم روتے ہیں، نہ چیختے ہیں، نہ چلاتے ہیں۔ زندہ لوگ ہمارے جیسے تو  نہیں ہوتے! زندہ لوگ مختلف ہوتے ہیں۔

منٹو نے اپنے کتبے کے لئے لکھا تھا:
‘‘یہاں سعادت حسن منٹو دفن ہے۔  اس کے سینے میں افسانہ نگاری کے سارے رموز دفن ہیں ۔ وہ اب بھی منوں مٹی کے نیچے سوچ رہا ہے کہ وہ بڑا افسانہ نگار ہے یا خدا۔’’
سعادت حسن منٹو کو  سوچنا چاہئےکہ ‘‘ وہ  بڑا افسانہ نگار ہے یا نیا بھارت’’۔  

 

On the advice of Rakhshanda Jalil I will be reading this Story tomorrow at Parliament Street in NotInMyName protest 

My humble submission is that such things are increasingly happening because we don’t protest! We don’t raise our voice. We are socially, politically and emotionally dead people 

 

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.