تحریر:محمد ریحان

جامعہ ملیہ اسلامیہ

 

“بنات”کی جانب سے عالمی یوم نسواں کے موقع پر غالب اکیڈمی میں آج بتاریخ 10 مارچ 2018 جشن نسائی ادب منعقد کیا گیا.واضح رہے کہ عالمی یوم نسواں 8 مارچ کو منایا جاتا ہے. بنات کی روح رواں اور صدر محترمہ نگار عظیم صاحبہ نے مجھے اس کی اطلاع دی تھی اور اس میں شریک ہونے کا غیر رسمی دعوت نامہ بذریعہ میسنجر بھیجا تھا.کچھ دن پہلے محترمہ ترنم جہاں صاحبہ نے بھی پروگرام کی تفصیل مجھ سے ساجھا کی تھی.ان دنوں میری کوئی مصروفیت نہیں ہے پھر بھی کہیں آنے جانے کو دل نہیں چاہتا.لیکن اس پروگرام میں جانے کا قصد میں نے اول دن ہی کر لیا تھا.اس کی وجہ یہ تھی کہ اس پروگرام میں کچھ ایسے اسپیکرس کے نام تھے جن کو سننا مجھے اچھا لگتا ہے.ہر پروگرام کی طرح اس میں بھی کچھ نا معقول قسم کے ادیب مدعو تھے.لیکن چونکہ یہ اپنی نوعیت کا الگ پروگرام تھا اور نگار میم مجھے عزیز رکھتی ہیں اس لئے میرا شریک ہونا یقینی تھا. بس انتظار تھا تو سنیچر کے دن کا.آج صبح تقریبا 6 بجے میری آنکھ لگی.جی ہاں آپ نے صحیح پڑھا.مجھے معلوم ہے یہ وقت بہتوں کے جگنے کا ہوتا ہے.لیکن یہی میرے سونے کا وقت ہے.پانچ گھنٹے میں میری نیند مکمل ہو چکی تھی. آنکھ کھلتے ہی گھڑی کی طرف دیکھا تو گیارہ بج چکے تھے. بہر کیف دس منٹ میں تیار ہو کر اپنے دوست فیصل اقبال کے ساتھ غالب اکیڈمی کے لئے نکل پڑا. آٹو والے بھائی سے درخواست کی کہ بھائی اپنی گاڑی کی رفتار بڑھا دیں.یہی کوئی تیس منٹ میں ہم دونوں غالب اکیڈمی کے اندر موجود تھے. وہاں پہنچا تو دیکھا پروگرام شروع ہے.آڈیٹوریم کھچاکھچ بھرا ہوا نہیں تھا.کئی کرسیاں خالی پڑی تھیں.مجھے یہ منظر دیکھ کر بڑا دکھ ہوا.مرد تو نام برابر بھی نہیں تھے.خاتون اسکالرس بھی نہیںزیادہ تھیں. شاید جن کو وہاں کچھ پیش کرنا تھا بس وہی موجود تھے.محترمہ ترنم جہاں سے میں نےاپنے اس دکھ کا اظہار بھی کیا. مجھے لگ رہا ہے شاید اس کی مناسب تشہیر نہیں ہو سکی تھی یا پھر جگہ کا انتخاب غلط تھا.اگر کسی یونیورسیٹی میں یہ پروگرام ہوتا تو ممکن تھا سامعین کی تعداد قدرے زیادہ ہوتی.میں جب پہنچا تو محترمہ تسنیم کوثر اپنے خوبصورت انداز میں نظامت کے فرائض انجام دے رہی تھیں.کالی ساڑی میں ملبوس نہایت مہذب اور نفیس لگ رہی تھیں .تسنیم کوثر کو میں نے کبھی بولتے ہوئے نہیں سنا تھا. میں نے صرف ان کی تحریریں پڑھی ہیں جو تسلیم رحمانی کے ہفتہ واری اخبار میں شائع ہوتی تھیں.دیگر اخبار و رسائل میں بھی ان کے مضامین چھپے ہیں اور میں نے پڑھے ہیں.تسلیم رحمانی کے اخبار میں کچھ میرے مضامین بھی شائع ہوئے ہیں.اب سنا ہے شاید وہ اخبار بند ہو گیا ہے.بہر کیف میں یہ کہہ رہا تھا کہ تسنیم کوثر کو میں نے صرف ان کی تحریروں سے جانا ہے.عالمی پیمانے پر ہو رہی سیاسی اتھل پتھل، سماجی مسائل اور ادب کی باریکیوں کو زیر تحریر لاتی ہیں.آج جب ان کو ڈائس سے بولتے ہوئے سنا تو مجھے بے حد مسرت ہوئی.حالانکہ میں ان سے کبھی ملا نہیں. پروگرام کا استقبالیہ اور کلیدی خطبہ میرے پہنچنے سے پہلے محترمہ نگار عظیم دے چکی تھیں. ان کی اسپیچ نہ سن پانے کا افسوس لکھتے وقت بھی ہو رہا ہے. پروگرام میں شروع سے موجود میرے کالج کی سینئر اسکالر صالحہ صدیقی نے بتایا کہ ان کا خبطہ کافی اچھا رہا اورانہوں نے “بنات” کے قیام کے اغراض و مقاصد پر بھرپور انداز میں گفتگو کی.ایک آئرن لیڈی کی طرح وہ اپنی ایک ایک بات سامعین کے سامنے رکھ رہی تھیں.بنات کے مقاصد میں ایک مقصد نئے لکھنے والی خواتین کو پلیٹ فارم مہیا کرکے ان کے قلم کو مضبوط بنانا ہے.انہوں نے اس پورے پروسیس کا بھی ذکر کیا جس سے ہم کوئی تنظیم بناتے وقت گزرتے ہیں.
اس پروگرام کا پہلا اجلاس “میرا تخلیقی سفر” کے نام سے تھا.اس کی صدارت بزرگ ادیب محترم رتن سنگھ اور مشہور و معروف شاعر پروفیسر شہپر رسول فرما رہے تھے(یہ میری خوش بختی ہے کہ میں شہپر رسول صاحب کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کر رہا ہوں.)”میرا تخلیقی سفر” کے تحت محترمہ رضیہ حامد کی تقریر سے میں محروم رہ گیا.اس عنوان کے تحت قمر جمالی نے بہت ہی جذباتی گفتگو کی.انہوں نے اپنی بیس منٹ کی گفتگو میں اپنے تخلیقی سفر سے جڑے اہم نکات کی طرف اشارہ کیا.دوران گفتگو وہ جذباتی ہو جا رہی تھیں تب حال میں اتنا سناٹا سا ہو جا رہا تھاکہ اگر سوئی گرے تو شور مچ جائے .اس عنوان کے تحت جتنی بھی خواتین نے اپنے تخلیقی سفرناموں کا ذکر کیا انہوں نے اپنے شوہر کی محبت بھری حمایت کا خصوصی طور پر اعتراف کیا.محترمہ بلقیس ظفیر الحسن نے اپنے تجربات اور تخلیقی راستوں کے مسائل اور ان سے کامیابی سے آگے گزر جانے کی کہانی کو بڑے دلچسپ انداز میں بیان کیا. مجھے پورا یقین ہے اس سے نئ لکھنے والی خواتین کو کافی حوصلہ ملا ہوگا.
مہمان خصوصی کی حیثیت سے محترمہ شبینہ فرشوری اور ڈاکٹر اسلم جمشید پوری نے اس تنظیم سے منسلک تمام اراکین کی ہمت افزائی کی.
اپنے صدارتی خطبے میں رتن سنگھ اور پروفیسر شہپر رسول نے بنات کے کام کرنے کے طریقے کا ذکر کیا.یہ تنظیم اردو کی خدمت اور نسائی ادب کی روایت کو کیسے مضبوطی فراہم کر سکتی ہے ،اس حوالے سےانہوں نے بہت اہم مشورے دئے.

پہلے جلسے کے اختتام پر اظہار تشکر کے لئے محترمہ تسنیم کوثر نے اپنی پر شوکت آواز میں مشہور افسانہ نگار محترمہ افشاں ملک کا نام لیا. محترمہ افشاں ملک نے پروگرام میں شریک ہوئے سبھی لوگوں کا شکریہ ادا کیا ساتھ ہی ساتھ Feminism پر مختصر مگر بہت ہی جامع گفتگو کی. دوران تقریر انہوں نے بتایا کہ تحریک نسواں کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عورت کی زندگی میں مرد کی موجودگی کو غیر ضروری سمجھا جائے یا پھر مرد ذات کو ظالم ٹھہرایا جائے.انہوں نے عورت اور مرد دونوں کو ایک دوسرے کے لئے لازم ملزوم قرار دیا.دونوں کی زندگی ایک دوسرے کے بغیر ادھوری ہے.عورتوں کے حقوق کے سلسلے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے اسلام میں عورتوں کے حقوق کا بھی ذکر کیا .انہوں نے یہ بھی بتایاکہ تانیثیت اسلام کی ہی ایک شق ہے. اسلام نے عورتوں کے حقوق کی جتنی حفاظت کی ہے اس کا انہون نے برملا اظہار کیا.چلتے چلتے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک بھائی ایک شوہر اور ایک بیٹا کے طور پر مرد کے وجود کی اہمیت کو کیسے نکارا جا سکتا ہے. تحریک نسواں کے حوالے سے ان کی اس مضبوط فکر کو جان کر بے حد خوشی ہوئی.
جب افشان ملک اپنی گفتگو ختم کر چکیں تو مجھے ایسا لگا کہ شاید اب لنچ کا وقفہ ہوگا. وقت بھی تین بج چکا تھا.میں اور سامعین کے بارے میں حتمی طور پر یہ نہیں کہہ سکتا کہ انہیں بھوک لگی تھی یا نہیں لیکن مجھے میرے پیٹ کا حال معلوم تھا.میں مزید کچھ سننے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا.مجھے بھوکے پیٹ تو محمد رفیع کی آواز بھی بری لگنے لگتی ہے.میں اس انتظار میں تھا کہ اظہار تشکر کے بعد سب کھانے کے لئے جائیں گے.لیکن افشاں ملک کے اظہار تشکر کے بعد جب تسنیم کوثر نے پہلے اجلاس کی دوسری نشست یعنی “سنو کہانی میری زبانی” کی نظامت کے لئے محترمہ قمر قدیر ارم کا نام لیا تو مجھے یہ شنکا ہوئی کہ شاید انہوں نے کھانے کا پروگرام نہیں رکھا ہے.قمر قدیر ارم ایک ایک خاتون کہانی کار کا نام لیکر اسٹیج پر آنے کی دعوت دے رہی تھیں اور ادھر میں بھوک کی شدت سے ادھ مرا ہوتا جا رہا تھا.عرفانہ تزئین،شبینہ فرشوری اور نصرت شمسی اپنی اپنی جگہوں پر براجمان ہو چکی تھیں..لیکن میں اپنے دوست فیصل اقبال کے ساتھ چپکے سے ہال سے باہر کھسک گیا.باہر نکلتے ہی میں اچھا اور صاف ستھرا ہوٹل ڈھونڈنے لگا. نظام الدین بستی میں ممکں ہے کہیں اچھا ہوٹل ہو. لیکن غالب اکیڈمی سے جو سڑک نظام الدین بس اسٹاپ تک آتی ہے اس پر جتنے ہوٹل ہیں وہ سب “مسلمانی” قسم کے ہیں.میں اپنی بھوک دیکھتا یا ہائجنک ہوٹل …وہیں ایک ہوٹل میں گھس گیا اور چکن قورمہ کا آڈر دے دیا. یہ یاد نہیں کہ میں نے کتنی روٹیاں کھائیں.کھاتے وقت روٹی گننے کی عادت کو اچھا نہیں سمجھا جاتا.بس اتنا یاد ہے کہ جب کھاکراٹھا تو مجھے بھوک نہیں لگ رہی تھی.بل کاونٹر پر جب پیسے دینے گیا تو اس کے سامنے والی کرسی پر ایک بزرگ شخص اپنے ایک جوان بیٹے کے ساتھ بیٹھےتھے. دونوں کے سر پر ٹوپی تھی.ایک نئی جگہ پر کسی بھی انسان کے چہرے کی جو کیفیت ہو سکتی ہے وہ ان دونوں کے چہرے کی تھی. دیکھتے ہی صاف پہچان لئے جاتے کہ وہ وہاں پر پہلی بار آئیں ہیں.انہوں نے کھانے کے لئے جب آرڈر کیا تو مجھے ان کی آواز سنائی دی. ان کا آرڈر تھا. “دس روپیے کا گوشت اور دو روٹی.”
یہ سن کر آڈر لینے والے نے کہا “کم از کم پچاس کا گوشت لینا ہو گا.”
یہ سن کر ان کی زبان سے جو لفظ نکلا اس نے میرے وجود کو ہلا دیا.
“باپ رے اتنا مہنگا. ایسا کریں آپ دو روٹی دو کپ چائے کے ساتھ دے دیں.”
میں اپنا بل ادا کر چکا تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ ان سے یہ کہوں کہ آپ گوشت لے لیں پیسے میں دے دونگا.لیکن دوسرے ہی لمحے مجھے یہ یقین ہو گیا کہ وہ مجھے منع کر دین گے. میں ان کو چائے کے ساتھ روٹی کھاتے ہوئے دیکھتا رہا اور دیکھتے دیکھتے باہر نکل گیا.کچھ دیر چہل قدمی کی پھر غالب اکیڈمی کے آڈیٹوریم میں گیا. وہاں پہنچا تو معلوم ہوا کہ اجلاس کی دوسری نشست ختم ہو چکی ہے.محترم حقانی القاسمی وہاں موجود تھے. انہوں نے کہا کہ آپ جا کر کھا لیں. لنچ کا بیسمنٹ مین انتظام کیا گیا ہے.میں نے ان سے بتایا کہ ہم لوگ باہر سے کھا کر آ گئے ہیں مزید کی اب گنجائش نہیں ہے.دوسرے اجلاس کا آغاز تین بجے ہونا تھا لیکن شام کے پانچ بج گئے تھے.دوسرے اجلاس میں مشرف عالم ذوقی کا نام صدر کی حیثیت سے فہرست میں پڑھا تھا.لیکن محترمہ تسنیم کوثر نے بتایا کہ وہ کسی کی موت ہو جانے کی وجہ سے پروگرام میں شریک نہیں ہو رہے ہیں.
میرے کانوں میں ہوٹل والے شخص کا جملہ گونج رہاتھا.آنکھوں کے سامنے سے چائے کے ساتھ روٹی کھانے کا منظر ہٹ نہیں رہا تھا. مجھے یہ لگا کہ شاید ذوقی صاحب کو دیکھوں اور سنوں تو وہ سب کچھ بھول جاونگا جو ہوٹل کے اندر میں نے دیکھا اور سناتھا. لیکن ذوقی صاحب کے نہ آنے کی خبر سن کر میں غیر محسوس طریقے سے ہوٹل والے شخص کے بارے میں سوچنے لگا. اور اس سوچ نے اتنا بے چین کر دیا کہ مجھے پروگرام سے باہر نکلنا پڑا. جب میں آڈیٹوریم سے نکل رہا تھا تو اس وقت ڈاکٹر علی جاوید تقریر کر رہے تھے. یہ اپنی ہر تقریر میں مذہب کے خلاف ضرور کوئی شوشہ چھوڑتے ہیں. معلوم نہیں آج انہوں نے کیا شوشہ چھوڑا. ڈاکٹر مولا بخش کو دس منٹ سننا دس کتاب پڑھنے کے برابر ہے.ان کو نہ سن پانے کا افسوس ہے.حقانی القاسمی کو بھی اظہار خیال کرنا تھا.تنقید کی دنیا کا یہ ایک بہت معروف نام ہے . ان کو سننا بھی کئی کتابوں کا مطالعہ کرنے سے بہتر ہے..
تیسرا اجلاس شعری نشست کا تھا. امید ہے یہ بھی کامیاب رہا ہوگا..معین شاداب پروگرام میں نظر آئے تھے. دہلی کے اکثر وبیشتر مشاعرے کی نظامت یہی کرتے نظر آتے ہیں۔لیکن بعد میں نگار عظیم نے بتایا کہ وہ صرف سامع کی حیثیت سے وہاں موجود تھے۔شعری نشست کی نظامت وسیم راشد نے کی ۔شاعروں میں صرف خاتون شاعرہ تھیں۔خودنگارعظیم فکشن کے علاوہ اچھی شاعری کرتی ہیں .امید ہے بنات کے ذریعہ اس طرح کے پروگرام مستقبل میں بھی منعقد کئے جاتے رہیں گے.

Facebook Comments

31 COMMENTS

  1. Very good blog you have here but I was curious if you knew of any forums that cover the same topics talked about here? I’d really love to be a part of online community where I can get advice from other experienced individuals that share the same interest. If you have any recommendations, please let me know. Thank you!

  2. Hi, i read your blog occasionally and i own a similar one and i was just wondering if you get a lot of spam remarks? If so how do you protect against it, any plugin or anything you can advise? I get so much lately it’s driving me crazy so any help is very much appreciated.

  3. Hey there! Someone in my Facebook group shared this site with us so I came to look it over. I’m definitely enjoying the information. I’m bookmarking and will be tweeting this to my followers! Superb blog and amazing design and style.

  4. Hi there, i read your blog occasionally and i own a similar one and i was just wondering if you get a lot of spam responses? If so how do you stop it, any plugin or anything you can suggest? I get so much lately it’s driving me insane so any help is very much appreciated.

  5. Thanks a lot for providing individuals with an extremely superb chance to read in detail from this blog. It really is so awesome and stuffed with a good time for me and my office fellow workers to search your web site more than three times weekly to find out the latest guidance you have. Not to mention, I am just actually fulfilled for the good things served by you. Certain 3 facts in this posting are ultimately the most efficient we’ve had.

  6. I’m really enjoying the design and layout of your site. It’s a very easy on the eyes which makes it much more pleasant for me to come here and visit more often. Did you hire out a designer to create your theme? Outstanding work!

  7. Thank you a lot for giving everyone an extremely spectacular chance to discover important secrets from this site. It can be so enjoyable and also full of amusement for me and my office co-workers to search your web site minimum thrice in a week to study the latest issues you have. And indeed, I am certainly pleased considering the staggering advice served by you. Selected 2 tips on this page are without a doubt the most efficient I’ve ever had.

  8. First off I want to say wonderful blog! I had a quick question which I’d like to ask if you do not mind. I was interested to know how you center yourself and clear your head before writing. I’ve had a difficult time clearing my thoughts in getting my thoughts out there. I truly do enjoy writing however it just seems like the first 10 to 15 minutes are usually lost simply just trying to figure out how to begin. Any suggestions or hints? Many thanks!

  9. Howdy just wanted to give you a brief heads up and let you know a few of the pictures aren’t loading properly. I’m not sure why but I think its a linking issue. I’ve tried it in two different browsers and both show the same outcome.

  10. Hello! This is kind of off topic but I need some guidance from an established blog. Is it very difficult to set up your own blog? I’m not very techincal but I can figure things out pretty fast. I’m thinking about making my own but I’m not sure where to start. Do you have any points or suggestions? Thanks

  11. I do trust all of the ideas you have offered in your post. They’re really convincing and will certainly work. Still, the posts are too quick for newbies. May just you please extend them a bit from subsequent time? Thank you for the post.

  12. Write more, thats all I have to say. Literally, it seems as though you relied on the video to make your point. You definitely know what youre talking about, why waste your intelligence on just posting videos to your site when you could be giving us something informative to read?

  13. Attractive section of content. I just stumbled upon your website and in accession capital to assert that I acquire actually enjoyed account your blog posts. Any way I will be subscribing to your feeds and even I achievement you access consistently rapidly.

  14. Great post. I was checking constantly this blog and I am impressed! Very helpful information specially the last part 🙂 I care for such information a lot. I was seeking this certain info for a long time. Thank you and best of luck.

  15. Usually I do not learn article on blogs, however I would like to say that this write-up very pressured me to try and do so! Your writing taste has been surprised me. Thank you, very great post.

  16. Hmm it seems like your website ate my first comment (it was super long) so I guess I’ll just sum it up what I submitted and say, I’m thoroughly enjoying your blog. I too am an aspiring blog blogger but I’m still new to the whole thing. Do you have any tips for rookie blog writers? I’d definitely appreciate it.

  17. Undeniably believe that which you stated. Your favorite justification appeared to be on the net the simplest thing to be aware of. I say to you, I certainly get irked while people think about worries that they plainly don’t know about. You managed to hit the nail upon the top and defined out the whole thing without having side effect , people could take a signal. Will likely be back to get more. Thanks

  18. Very nice post. I just stumbled upon your weblog and wanted to say that I have really enjoyed browsing your blog posts. In any case I’ll be subscribing to your rss feed and I hope you write again very soon!

  19. Its like you read my mind! You seem to know a lot about this, like you wrote the book in it or something. I think that you could do with a few pics to drive the message home a bit, but instead of that, this is wonderful blog. A great read. I’ll certainly be back.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here