وارانسی حادثے میں لوگ مدد کرنے کے بجائے مرنے والوں کی ویڈیو بناتے رہے

0

وارانسی:منگل کے روز یو پی کے بنارس کینٹ علاقہ میںتعمیر ہو رہے فلائی اوور کا ایک حصہ گرنے سے ۸۱ لوگوں کی جان چلی گئی ۔ حالانکہ مقامی لوگ مرنے والوں کی تعداد زیادہ بتا رہے ہیں ، حادثہ کے اگلے دن بھی جائے وقوع پر راحت و بچاﺅ کا عمل جاری رہا۔سلیم نام کے ایک شخص نے بتایا کہ جب حادثہ ہوا تو وہ وہاں پہنچے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حادثہ منگل شام ۵۳:۵ پر ہوا تھا۔بیم جب گرا تو کافی گاڑیاں دب گئی تھیں۔ انتظامیہ تب تک نہیں پہنچ پائی تھی لیکن علاقے کے لڑکے نے خود ہی امدادی عمل شروع کر دیا تھا۔ ایک شخص نئی گاڑی خرید کر جا رہا تھا۔ وہ بھی اس کی زد میں آگیا اس کی گردن دبی ہوئی تھی لیکن ہم اسے حوصلہ دے رہے تھے کہ ہم اسے بچا لینگے۔سب سے زیادہ شرم کی بات تو یہ رہی کہ لوگ مدد کرنے کے بجائے ویڈیو بنا رہے تھے ، ایک خاتون کو بچانے گئے تو اس نے اپنے بچے کو بچانے کو کہا لیکن اس دوران دونوں کی موت ہو گئی۔بنارس کینٹ میں چوڑا گھاٹ لہرتارا فلائی اوور کے توسیعی عمل کا کا م اکتوبر ۵۱۰۲ سے چل رہا ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس عمل میں حفاظتی انتظام کو نظر انداز کیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہاں روز انہ جام لگتا تھا۔ ایک چشم دید نے بتایا کہ جب لیڈر یہاں آتے ہیں تب جام ہٹا یا جاتا ہے لیکن اس کے بعد یہاں جام لگنا عام بات ہے۔ایک اور چشم دید کا کہنا تھا کہ انتظامیہ پورے ایک گھنٹے دیر سے آئی تھی لیکن اس سے پہلے یہاں کے مقامی لوگوں نے امدادی کام شروع کر دیا تھا۔ چشم دیدوں نے انتظامیہ پر بچاﺅ کے دوران لاپرواہی کا الزام بھی لگایا ہے ، ڈیڈھ کلو میٹر لمبے فلائی اوور کا تعمیری عمل ۰۳ دن میں پورا ہونا تھا۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تعمیری عمل کے دوران فلائی اوور کے نیچے کوئی بیریکیٹنگ نہیں تھی۔ لوگوںکا کہنا ہے کہ فلائی اوور کے نیچے کوئی گھیرا بندی بھی نہیں ہے جس سے اس کے نیچے کھڑے ہونے سے ڈر لگ رہا ہے۔ایک شخص نے بتایا کہ یہاں کام کرنے والوں کو حفاظتی آلات نہیں دئے گئے تھے۔بنارس وزیر اعظم مودی کا پارلیمانی حلقہ بھی ہے۔ اس حادثہ کے بعد وزیر اعظم اور صوبہ کے وزیر اعلی یوگی نے حادثہ پر افسوس ظاہر کیا ہے۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.