بہار میں مشکل دور سے گزر رہا ہے این ڈی اے،۲۰۱۹ میں ایک ساتھ رہنا ہوگا مشکل

122

پٹنہ:بہار میں ۲۰۱۹ کے لوک سبھا انتخابات کے لئے این ڈی اے میں سیٹوں کے بٹوارے پر بات الجھتی چلی جا رہی ہے۔اس بیچ جنتا دل یونائیٹیڈ نے ایک بڑا سیاسی داو چل دیا ہے۔انہوں نے تجویز رکھی ہے کہ گٹھبندھن میں شامل چاروں پارٹیوں (بی جے پی،جے ڈی یو،لوجپا،آر ایل ایس پی)کو ۲۰۱۵ کے  ریاستی انتخابات میں کئے گئے مظاہرے کی بنیاد پر سیٹیں دی جائیں۔دراصل ایسا ہونے پر سب سے زیادہ فائدہ جے ڈی یو کا ہوگا کیوں کہ اس کا مظاہرہ اس انتخاب میں کافی بہتر رہا ہے۔جے ڈی یو کا کہنا ہے کہ ۲۰۱۵ کا  انتخاب  سب سے تازہ مظاہرہ ہے۔اس لئے اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔حالانکہ جے ڈی یو کے اس مطالبے پر لوجپا اور آر ایل ایس پی والے کا اتفاق ناممکن ہے۔اب بھی ان چاروں پارٹیوں کے بیچ بہار کی چالیس سیٹوں کے بٹوارے کو لیکر باضابطہ طور پر بحث ومباحثہ ہونا باقی ہے۔حال میں جے ڈی یو کی طرف سے صاف کہا گیا تھا کہ بہار میں این ڈی اے کا چہرہ نتیش کمار ہوں گے اور پارٹی نے ۲۵ سیٹوں پر حق بھی جتایا تھا۔جے ڈی یو کے لیڈران کا کہنا ہے کہ بی جے پی کو سیٹ تقسیم کرنے کے معاملے میں جلد سے جلد مفاہمت کیلئے آگے آنا چاہیے۔تاکہ الیکشن کے وقت میں کوئی اختلاف نہ ہو۔آپ کو بتادیں کہ ۲۰۱۵ کے ریاستی انتخاب میں کل ۲۴۳ سیٹوں میں سے جے ڈی یو کو ۷۱ اور بی جے پی کو ۵۳ ،ایل جے پی اور آر ایل ایس پی کو دو دوسیٹیں ملی تھیں۔اس وقت آر جے ڈی اور جے ڈی یو کا اتحاد تھا اور دونوں نے مل کر سرکار بنا لی تھی۔جے ڈی یو کی طرف سے دیئے گئے اس فارمولے کو بی جے پی نے قبول کرنے سے قریب قریب انکار کردیا ہے۔ان کا یہ کہنا ہے کہ ۲۰۱۵ میں جدیو کا اچھا مظاہرہ راجد کے ساتھ گٹھبندھن ہونے کی وجہ سے تھا۔اگر صحیح طاقت کا اندازہ لگانا ہے تو ۲۰۱۴ کے لوک سبھا انتخابات کا نتیجہ دیکھ لیں۔جس میں جدیو کو صرف دو سیٹیں ملی تھیں۔اور زیادہ تر امیدوار کے ضمانت ضبط ہوگئے تھے۔غور طلب ہے کہ ۲۰۱۴ کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کو ۲۲ ،ایل جے پی کو چھ اور آر ایل ایس پی کو تین سیٹیں ملی تھیں۔اس سے پہلے ۲۰۱۳ تک جے ڈی یو اور بی جے پی گٹھبندھن میں ہمیشہ جے ڈی یو ہی آگے رہتی تھی اور زیادہ سیٹوں پر انتخاب لڑتی تھی۔۲۰۱۳ میں جے ڈی یو کو ۲۵ تو بی جے پی کو ۱۵ سیٹیں ملی تھیں۔لیکن ۲۰۱۴ کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کو ملی بڑی کامیابی نے سارا حساب کتاب ہی خراب کردیا ہے۔اب زیادہ سے زیادہ سیٹیں لینے کیلئے جدیو طرح طرح کی چال چل رہی ہے اور ایسا نہیں لگتا کہ بی جے پی اس کو قبول کرلے گی۔

You might also like More from author

122 Comments

  1. Tito says

    Hello mates, how is all, and what you want to say regarding this
    post, in my view its genuinely amazing in support of me.

  2. curry 5 says

    I enjoy you because of each of your effort on this blog. My daughter takes pleasure in doing investigations and it’s easy to see why. We know all relating to the powerful ways you create sensible guides through this web site and even increase contribution from some others on this content while our own girl has always been discovering so much. Take pleasure in the remaining portion of the year. You are always conducting a really great job.

  3. james harden shoes says

    Thanks so much for providing individuals with an exceptionally spectacular possiblity to read from this website. It is always so amazing and as well , stuffed with fun for me personally and my office fellow workers to search your blog the equivalent of three times in one week to find out the new issues you have got. And indeed, I am also certainly satisfied concerning the beautiful knowledge served by you. Certain 2 areas in this article are in truth the simplest we have all ever had.

Leave A Reply

Your email address will not be published.