پٹنہ:بہار میں ۲۰۱۹ کے لوک سبھا انتخابات کے لئے این ڈی اے میں سیٹوں کے بٹوارے پر بات الجھتی چلی جا رہی ہے۔اس بیچ جنتا دل یونائیٹیڈ نے ایک بڑا سیاسی داو چل دیا ہے۔انہوں نے تجویز رکھی ہے کہ گٹھبندھن میں شامل چاروں پارٹیوں (بی جے پی،جے ڈی یو،لوجپا،آر ایل ایس پی)کو ۲۰۱۵ کے  ریاستی انتخابات میں کئے گئے مظاہرے کی بنیاد پر سیٹیں دی جائیں۔دراصل ایسا ہونے پر سب سے زیادہ فائدہ جے ڈی یو کا ہوگا کیوں کہ اس کا مظاہرہ اس انتخاب میں کافی بہتر رہا ہے۔جے ڈی یو کا کہنا ہے کہ ۲۰۱۵ کا  انتخاب  سب سے تازہ مظاہرہ ہے۔اس لئے اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔حالانکہ جے ڈی یو کے اس مطالبے پر لوجپا اور آر ایل ایس پی والے کا اتفاق ناممکن ہے۔اب بھی ان چاروں پارٹیوں کے بیچ بہار کی چالیس سیٹوں کے بٹوارے کو لیکر باضابطہ طور پر بحث ومباحثہ ہونا باقی ہے۔حال میں جے ڈی یو کی طرف سے صاف کہا گیا تھا کہ بہار میں این ڈی اے کا چہرہ نتیش کمار ہوں گے اور پارٹی نے ۲۵ سیٹوں پر حق بھی جتایا تھا۔جے ڈی یو کے لیڈران کا کہنا ہے کہ بی جے پی کو سیٹ تقسیم کرنے کے معاملے میں جلد سے جلد مفاہمت کیلئے آگے آنا چاہیے۔تاکہ الیکشن کے وقت میں کوئی اختلاف نہ ہو۔آپ کو بتادیں کہ ۲۰۱۵ کے ریاستی انتخاب میں کل ۲۴۳ سیٹوں میں سے جے ڈی یو کو ۷۱ اور بی جے پی کو ۵۳ ،ایل جے پی اور آر ایل ایس پی کو دو دوسیٹیں ملی تھیں۔اس وقت آر جے ڈی اور جے ڈی یو کا اتحاد تھا اور دونوں نے مل کر سرکار بنا لی تھی۔جے ڈی یو کی طرف سے دیئے گئے اس فارمولے کو بی جے پی نے قبول کرنے سے قریب قریب انکار کردیا ہے۔ان کا یہ کہنا ہے کہ ۲۰۱۵ میں جدیو کا اچھا مظاہرہ راجد کے ساتھ گٹھبندھن ہونے کی وجہ سے تھا۔اگر صحیح طاقت کا اندازہ لگانا ہے تو ۲۰۱۴ کے لوک سبھا انتخابات کا نتیجہ دیکھ لیں۔جس میں جدیو کو صرف دو سیٹیں ملی تھیں۔اور زیادہ تر امیدوار کے ضمانت ضبط ہوگئے تھے۔غور طلب ہے کہ ۲۰۱۴ کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کو ۲۲ ،ایل جے پی کو چھ اور آر ایل ایس پی کو تین سیٹیں ملی تھیں۔اس سے پہلے ۲۰۱۳ تک جے ڈی یو اور بی جے پی گٹھبندھن میں ہمیشہ جے ڈی یو ہی آگے رہتی تھی اور زیادہ سیٹوں پر انتخاب لڑتی تھی۔۲۰۱۳ میں جے ڈی یو کو ۲۵ تو بی جے پی کو ۱۵ سیٹیں ملی تھیں۔لیکن ۲۰۱۴ کے لوک سبھا الیکشن میں بی جے پی کو ملی بڑی کامیابی نے سارا حساب کتاب ہی خراب کردیا ہے۔اب زیادہ سے زیادہ سیٹیں لینے کیلئے جدیو طرح طرح کی چال چل رہی ہے اور ایسا نہیں لگتا کہ بی جے پی اس کو قبول کرلے گی۔

Facebook Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here