ملک شام کے یتیم بچوں کا درد،ہم زندہ رہنے کیلئے بھیک مانگتے ہیں

8

موصل:عراق میں داعش نے جو قتل وغارت گری کا کھیل کھیلا ہے اس کو انسانی تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ۔ان درندوں نے ہزاروں بچوں کو یتیم اور عورتوں کو بیوہ کردیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اپنی زندگی کا بوجھ خود اپنے کاندھے پر اٹھانے کیلئے مجبور معصوم یتیم بچوں کی تعداد موصل کی سڑکوں پر کافی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے جو یا تو آنے جانے والوں سے بھیک مانگ رہے ہیں یا پھر قلم ،پانی بوتل اور ٹیشو پیپر بیچ کر دو وقت کی روٹی کا انتظام کر رہے ہیں۔داعش کے تین سالہ درندگی کے دور نے موصل کو تہس نہس کرکے رکھ دیا اور نہ جانے کتنے معصوم اور بے قصور مسلمانوں کے خون سے موصل کی زمین کو سیراب کر دیا۔عراق کے موصل کا محمد سلیم نامی ایک معصوم بچہ جو روزانہ چند ٹیشو پیپر کا بنڈل لیکر موصل کی سڑکوں پر بیچنے کیلئے نکلتا ہے ،انہوں نے داعش کے درندوں کے ہاتھوں اپنے والد کی شہادت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد کو داعش کے لوگوں نے مار دیا ،مجبوری ہے میری کہ مجھے زندہ رہنے کیلئے یہ سب کرنا پڑ رہا ہے۔میں ٹیشو پیپر بیچتا ہوں ،میں روز صبح سات بجے سڑکوں پر آجاتا ہوں اور رات کے دس بجے تک ٹیشو پیپر بیچتا رہتا ہوں۔بارہ سال کے محمد سلیم نے اپنے چہرے سے گرد و غبار کو صاف کرتے ہوئے کہا کہ میں یہیں مغربی موصل کے نبی یونس جنکشن کے پاس ٹیشو پیپر بیچتا رہتا ہوں۔سلیم اپنی ماں کا اکیلا بیٹا ہے اور وہ اپنی ماں کو اس دلدل سے نکال کر باہر لانا چاہتا ہے۔نائینوے میں واقع آرفنس جوائے نامی گروپ کے مطابق یہاں کوئی سرکاری اعداد و شمار نہیں پیش کیا گیا ہے کہ اب تک کتنے بچے اپنے والدین کے سایہ سے محروم کیے جاچکے ہیں۔لیکن اس گروپ کے ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ ۶۲۰۰ یتیم بچے نائینوے میں ہیں جن میں ۳۲۸۳ کے والدین حالیہ دنوں ہوئے موصل میں قتل عام کے دوران شہید کردیے گئے۔آرگنائزیشن کے ہیڈ کیدار محمد نے کہا کہ موصل میں دو قسم کے گروپ یتیم بچوں کے ہیں۔ایک لڑکوں کا اور دوسرا لڑکیوں کا۔ہم نے کثیر تعداد میں چھ سال سے ۱۸ سال کے بچوں کو سڑکوں پر دیکھا ہے۔جو اپنے لئے دو وقت کی روٹی کی تلاش میں دھول پھانکتے رہتے ہیں۔ہر روز درجنوں بچے آپ کو ٹریفک سنگل پر نظر آجائیں گے۔جو لوگوں سے بھیک مانگ رہے ہوتے ہیں۔ٹریفک پر کھڑی گاڑیوں کے وہ کبھی شیشے صاف کرکے پیسے مانگتے ہیں تو کبھی ٹیشو پیپر بیچ کر پیسے جما کرتے ہیں۔اور کوئی پانی بیچ کر بھوک مٹانے کا انتظام کر رہا ہوتا ہے۔دس سالہ علی بنیان کا کہنا ہے کہ میرے گھر والوں کو مار دیا گیا اور میرے گھر میں آگ لگا دی گئی ۔میرا گھر اولڈ سٹی میں تھا جس کو بم کے ذریعے تہس نہس کردیا گیا۔میرا اب کوئی بھی رشتہ دار نہیں ہے۔میں زندہ رہنے کیلئے بھیک مانگتا ہوں۔مجھے کام کی تلاش ہے تاکہ میں اپنے آپ کو زندہ رکھ سکوں۔وہیں آرگنائزینش کا کہنا ہے کہ اب بھیک مانگ رہے ان بچوں کو نوجوانوں کی ایک ٹیم نے گروپ میں شامل کرنا شروع کردیا ہے اور انہیں اب اس بات کیلئے مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ بھیک مانگ کر کچھ پیسے انہیں بھی دے۔موصل میں مقیم ۳۵ سالہ ابو حامد نے کہا کہ میں ایک دن میڈیکل میں اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا ،میں نے اسپتال کے ایک عملہ کو دیکھا کہ اس نے ایک بچی کو اسقبالیہ کے پاس سے بھگا دیا،جو کہ ان سے بھیک مانگ رہی تھی۔جب وہ باہر نکلی تو اس نے مجھ سے کہا کہ میں نے ہفتہ بڑھا کر دینے سے گروپ کو انکار کردیا تھا اس لئے اس نے مجھے بھگا دیا ۔سماجی ریسرچر فاطمہ خلف کے مطابق اگر بچے اسی طرح سڑکوں اور گلیوں میں بھیک مانگتے رہے اور ہم نے ان کی مدد نہیں کی تو یہ بھی ایک نہ ایک دن مجرمانہ واردات کی طرف قدم بڑھانا شروع کردیں گے۔

You might also like More from author

8 Comments

  1. best seo agency says

    Major thanks for the post.Much thanks again. Much obliged. sex animation

  2. #buffet says

    I really liked your article post.Thanks Again. Cool.

  3. SEO says

    I truly appreciate this article.Really thank you! Really Cool.

  4. bangkok wedding studio says

    It as arduous to search out knowledgeable individuals on this topic, but you sound like you already know what you are speaking about! Thanks

  5. balenciaga speed says

    I must get across my love for your kind-heartedness in support of folks who require assistance with this particular area of interest. Your special commitment to passing the message up and down had become amazingly good and has empowered most people like me to achieve their targets. Your own useful instruction signifies a lot a person like me and even more to my colleagues. Warm regards; from all of us.

  6. jordan 11 says

    I must express thanks to this writer just for rescuing me from this particular scenario. Right after looking out throughout the internet and coming across opinions which were not productive, I believed my entire life was well over. Living devoid of the strategies to the difficulties you have sorted out by way of your short article is a serious case, as well as ones that would have in a wrong way affected my career if I had not come across the website. Your own personal natural talent and kindness in taking care of the whole thing was helpful. I don’t know what I would have done if I had not come upon such a point like this. It’s possible to at this moment look forward to my future. Thank you very much for the specialized and sensible guide. I will not think twice to recommend the website to anyone who would like counselling about this matter.

  7. nfl store says

    I actually wanted to jot down a simple message to say thanks to you for these lovely items you are posting here. My particularly long internet search has finally been rewarded with reasonable suggestions to write about with my best friends. I would say that we visitors actually are unequivocally endowed to live in a superb website with very many awesome individuals with interesting principles. I feel extremely blessed to have used the webpage and look forward to many more pleasurable times reading here. Thank you once more for everything.

  8. yeezy boost says

    I would like to express my gratitude for your kind-heartedness supporting people that have the need for help on the concept. Your personal dedication to passing the solution all around has been remarkably powerful and has always permitted individuals just like me to achieve their pursuits. This warm and friendly facts signifies this much a person like me and substantially more to my fellow workers. Thanks a ton; from all of us.

Leave A Reply

Your email address will not be published.