The President, Shri Ram Nath Kovind administering the oath of office to Shri Justice Ranjan Gogoi, as Chief Justice of India, at a swearing-in ceremony, at Rashtrapati Bhavan, in New Delhi on October 03, 2018.

نئی دہلی:سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج رنجن گوگوئی نے ملک کے 46ویں چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی ) کے طورپر آج حلف لیا۔صدر رامناتھ کووند نے راشٹرپتی بھون کے تاریخی دربار ہال میں کئی معزز شخصیات کی موجودگی میں انہیں سی جے آئی کے عہدہ کا حلف دلایا۔ وہ جج دیپک مشرا کی جگہ لیں گے جو بدھ کو ریٹائر ہوئے ہیں۔جسٹس گوگوئی کی مدت کار 13مہینہ سے تھوڑی زیادہ ہوگی اور وہ آئندہ برس 17نومبر کو ریٹائر ہوں گے۔ حلف برداری کی تقریب میں پر وزیراعظم نریندر مودی، سابق وزیراعظم منموہن سنگھ ، ایچ ڈی دیوے گوڑا، لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن، وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ، وزیرخارجہ سشما سوراج، وزیر خزانہ ارون جیٹلی، ریلوے کے وزیر پیوش گوئل، قانون و انصاف کے وزیر روی شنکر پرساد، سائنس و تکنالوجی کے وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن، سماجی انصاف اور اختیارات کے وزیر تھاورچند گہلوت، فوڈ پروسیسنگ صنعت کی وزیر ہرسمرت کوربادل، وزیراعظم دفتر میں وزیرمملکت جتیندر سنگھ، انسانی وسائل کو فروغ کے وزیر پرکاش جاوڈیکر، سپریم کورٹ اور دہلی ہائی کورٹ کے کئی جج اور اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال موجود تھے۔لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ملک ارجن کھڑگے او رراجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر غلام نبی آزاد بھی تقریب میں موجود تھے۔آپ کو بتادیں کہ عدالت کی موجودہصورتحال سے پریشان ہوکر جن چار ججوں نے پریس کانفرنس کر کے عدالت کے اندر کی خراب صورتحال کو روشنی میں لانے کی کوشش کی تھی ان چار ججوں میں سے ایک رنجن گوگوئی بھی ہیں ۔الزام سیدھے طور پر جسٹس دیپک مشرا پر لگا تھا کہ وہ اپنی پسند کے بینچ کو ہی ترجیح دیتے ہیں ۔اور اشارہ یہ بھی تھا کہ سرکار کے اشارے پر کچھ حد تک کام ہورہا ہے۔اب جب کہ جسٹس گوگوئی چیف جسٹس بن گئے ہیں ایسے میں سرکاری مداخلت کی گنجائش شاید نہ کے برابر ہو اور ایسے میں مودی سرکار کا بے چین ہونا لازمی ہے۔

Facebook Comments