نئی دہلی:اآبرو ریزی کے ملزم مذہبی گرو داتی مہاراج کی مردانگی کا ٹسٹ کرایا جا سکتا ہے۔داتی مہاراج نے خود پر لگے الزامات کو پوری طرح سے خارج کردیا ہے۔داتی مہاراج کا کہنا ہے کہ وہ ناگا برادری سے تعلق رکھتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ جس دن یہ واقعہ ہوا اس دن وہ چھترپور آشرم میں نہیں تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی غیر حاضری کو لیکر کچھ ثبوت بھی پولس کو دیئے ہیں ۔پولس کا کہنا ہے کہ معاملہ ۲۰۱۶ کا ہے۔ایسے میں جانچ کرنے والی ٹیم صرف تکنیکی ثبوتوں اور چشم دید گواہوں کی بنیاد پر ہی جانچ کو آگے بڑھا سکتی ہے۔انٹر اسٹیٹ سیل کی آفس میں پوچھ تاچھ کے دوران اتی مہاراج نے اس معاملے میں ایک سابق معاون کی سازش کا الزام لگایا ہے۔داتی کا کہنا ہے کہ ان کا اس معاون کے ساتھ قریب ۳۲ کروڑ روپئے کو لیکر تنازعہ ہوا ہے۔پولس اس معاون کو بھی پوچھتاچھ کیلئے بلا سکتی ہے۔تاکہ داتی مہاراج کے الزام کی اصلیت کا اندازہ ہو سکے۔شکایت کرنے والی خاتون کا دعویٰ ہے کہ کچھ اور ایسی خواتین کو آشرم میں جانتی ہوں جنکا داتی مہاراج نے عزت لوٹی ہے لیکن ان کو داتی مہاراج کے حامی لوگوں نے دھمکی دی ہے ۔پولس ایک اور خانون سے پوچھتاچھ کر سکی ہے جو آشرم میں روزانہ کی سرگرمیوں کو دھیان میں رکھتی ہے۔خاتون نے بتایا کہ متاثرہ خاتون کو داتی مہاراج کے کمرے میں خدمت کیلئے بلایا جاتا تھا،داتی اور ان کے حامی لوگ ان کی آبروریزی کرتے تھے۔خاتون نے کہا کہ میں ان کی بہت گہری بھکت تھی اور خدمت کیلئے میں ان کے کمرے میں جانے کیلئے راضی ہوگئی تھی ،لیکن داتی نے میرا فائدہ اٹھایا۔ان تمام باتوں کے بیچ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پولس داتی مہاراج کے مردانگی ٹسٹ پر غور کر رہی ہے اور بہت ممکن ہے کہ جلد از جلد داتی مہاراج کی مردانگی کا ٹسٹ کروائے۔

Facebook Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here