ایران میں احتجاجی تحریک ،8000 افراد گرفتار

    67
    14
    People protest in Tehran, Iran December 30, 2017 in in this picture obtained from social media. REUTERS. THIS IMAGE HAS BEEN SUPPLIED BY A THIRD PARTY. - RC1F4C4949E0

    ایران کے مختلف شہروں میں نظام کے خلاف احتجاجی تحریک کا سلسلہ جاری ہے اور اس میں نوجوان پیش پیش ہیں جبکہ ایرانی فورسز نے بھی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن جار ی رکھا ہوا ہے اور اب تک کم سے کم آٹھ ہزار افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔

    ایرانی نظام گرفتار مظاہرین کی تعداد کو خفیہ رکھنے کی کوشش کررہا ہے لیکن بعض ارکان پارلیمان اور سیاست دان بڑے پیمانے پر ہونے والی اس پکڑ دھکڑ کا اعتراف بھی کررہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے پارلیمان کے ایک رکن محمود صادقی نے کہا تھا کہ اب تک کل 3700 سے زیادہ افراد کو احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔

    2 جنور ی کو تہران کے ڈپٹی گورنر نے صرف تین روز میں 450 افراد کی گرفتاریوں کی اطلاع دی تھی۔ایران کے وسطی صوبے کے مختلف شہروں میں 30 اور 31 دسمبر کو 396 ا فراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ان میں 65 کم عمر لڑکے تھے اور ا ن میں سے بیشتر کی عمریں 18 سال سے کم تھیں۔

    صوبہ گلستان کے ڈپٹی گورنر نے 3 جنوری کو یہ اطلاع دی تھی کہ گورگان میں قریباً 150 مزاحمت کاروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کے بعد شہر میں امن قائم ہوگیا ہے۔

    ایران میں جاری اس احتجاجی تحریک کا 28 دسمبر کو مشہد شہر سے آغاز ہوا تھا ۔اس شہر کے ڈپٹی پراسیکیوٹر کے بہ قول 3 جنوری تک 138 افراد کو گڑ بڑ پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔صوبہ کرمان میں پولیس نے 80 افراد کو گرفتار کر کے حکام کے حوالے کیا ہے۔اہواز اور صوبہ خوزستان کے دوسرے شہروں میں قریباً 1600 افراد پکڑے گئے ہیں۔

    دریں اثناء ایرانی مزاحمتی تحریک نے تمام شہریوں اور بالخصوص نوجوانوں پر زوردیا ہے کہ وہ گرفتار افراد اور ان کے خاندان کی حمایت کریں اور ان کی رہائی کے لیے سڑکوں پر نکلیں ۔

    اس نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس ، سلامتی کونسل ، یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کی حکومتوں کے علاوہ امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گرفتار مظاہرین کی رہائی کے لیے ایرانی حکومت پر دباؤ ڈالیں اور ایران میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کریں ۔

    اس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران کے مختلف شہروں میں قیدیوں سے ناروا سلوک اور دوران حراست تشدد سے متعدد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات منظرعام پر آئی ہیں۔اس نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور جنیوا میں قائم انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور قیدیوں پر تشدد کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی قائم کریں ۔

    Facebook Comments

    14 COMMENTS

    1. Youre so cool! I dont suppose Ive read anything like this before. So nice to find any individual with some authentic ideas on this subject. realy thank you for beginning this up. this website is something that is wanted on the internet, someone with a little originality. useful job for bringing one thing new to the internet!

    2. I’d need to test with you here. Which is not one thing I normally do! I get pleasure from studying a put up that may make people think. Additionally, thanks for permitting me to remark!

    3. I was suggested this website by my cousin. I’m not sure whether this post is written by him as nobody else know such detailed about my problem. You’re amazing! Thanks!

    4. A formidable share, I simply given this onto a colleague who was doing just a little analysis on this. And he in reality bought me breakfast as a result of I discovered it for him.. smile. So let me reword that: Thnx for the treat! However yeah Thnkx for spending the time to debate this, I feel strongly about it and love studying extra on this topic. If possible, as you develop into expertise, would you mind updating your blog with more particulars? It’s extremely helpful for me. Large thumb up for this blog publish!

    5. There are some attention-grabbing cut-off dates in this article however I don’t know if I see all of them heart to heart. There may be some validity however I will take maintain opinion until I look into it further. Good article , thanks and we would like extra! Added to FeedBurner as well

    6. Can I just say what a reduction to find someone who actually knows what theyre speaking about on the internet. You positively know learn how to carry a difficulty to light and make it important. Extra people must learn this and perceive this side of the story. I cant imagine youre not more common since you undoubtedly have the gift.

    7. There are some attention-grabbing cut-off dates in this article however I don’t know if I see all of them heart to heart. There may be some validity however I will take maintain opinion until I look into it further. Good article , thanks and we would like extra! Added to FeedBurner as well

    LEAVE A REPLY

    Please enter your comment!
    Please enter your name here