اسلام خطر ےمیں ہے ۔۔۔۔۔۔

0

ثناءاللہ صادق تیمی

میرے دوست بے نام خاں ہانپتے کانپتے میرے گھر پہنچے ۔ ان کی آنکھیں انگارے برسارہی تھیں  ، پورا جسم پسینہ سے شرابور تھا اور وہ اسی عالم میں شروع تھے ۔مولانا ! اسلام خطرے میں ہے ۔ پتہ ہے ٹرمپ نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ ایک ایک مسلمان ملک کو مٹاکر دم لے گا ، ادھر یوگی نے صاف لفظوں میں مسلمانوں کو وارننگ دی ہے کہ اگر انہيں یہاں رہنا ہے تو یوگی کے مطابق رہنا ہوگاورنہ مار  کھدیڑ کر بھگا دیا جائے گا ۔ مودی کو تو اسی لیے پرائم منسٹر بنایا گیا تھا کہ و ہ مسلمانوں کو ان کی اوقات یاد دلا سکے ، اس نے آرایس ایس کے ساتھ ایک خفیہ میٹنگ کی ہے کہ کس طرح مسلمانوں کا ہندوستان سے صفایا کیا جاسکتا ہے ۔ مولانا ! اسلام خطرے میں ہے اور مسلمان ہیں کہ انہیں خبر ہی نہیں ۔ کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا مولانا ۔

 میں نے بے نام خاں کو ٹھنڈا شربت پیش کیا اور کہا  : خان صاحب ! ویسے اسلام کو کوئی پہلی مرتبہ خطرہ تھوڑی ہی لاحق ہوا ہے ، اسلام ہمیشہ خطرے میں ہی رہا ہے اور خطرے میں ہی رہے گا ۔ بے چارا اسلام !

خان صاحب نے مجھے گھور کر دیکھا ، شربت وہ پی چکے تھے ورنہ سیدھا میرے منہ پر دے مارتے اور پھر کہا : تم مولویوں کی وجہ سے ہی تو یہ صور ت حال ہے ، میں تمہیں کتنی خطرناک خبریں سنا رہا ہوں اور تم ہو کہ تم پر کوئی اثر ہی نہیں ، الٹے میرا مزہ لے رہو ہو ۔ مولانا صاحب ! سعودی میں ایک ایسا ادارہ کھل رہا ہے جہاں حدیثوں کو بدلا جائے گا ، امریکہ ریڈیکل اسلام کے نام پر کسی بھی صحیح اسلام کے ماننے والے کو نہیں چھوڑے گا اور عرب کے دم چھلے حکمران اس کی ہاں میں ہاں ملائیں گے اور ایک ایک کرکے امریکہ سب کا ستیاناس کردے گا ، مودی صوفی بریلوی کے ساتھ مل کر بقیہ دوسرے ہندوستانی مسلمانوں کو پہلے کمزور کرے گا اور پھر آہستہ آہستہ سب کا صفایا کردے گا ، ترکی ، ایران اور سعودی سب شام کے مسئلے میں الجھائے جائیں گے اور پھر سب کا حشر یکساں ہوگا ۔  طالبان ، القاعدہ ، داعش اور بوکو حرام کے نام پر ایک ایک کرکے سب کی گردن مروڑی جائے گی ۔کہیں اسلام کے ماننے والے چین سے نہيں رہیں گے اور تم ہو کہ میری باتوں کو سنجیدگی سے لیتے ہی نہیں ۔

میں نے خان صاحب کو ایک اور گلاس شربت پیش کیا اور وہ غٹاغٹ پی گئے اور پھر میری طرف اپنے افکار کی تائید کے لیے امید بھری نگاہوں سے دیکھا ۔ اب میرے پاس بھی کوئی چارہ نہیں تھا سو ہم نے کہا :خان صاحب ! بات یہ ہے کہ اسلام کے خلاف دشمنوں کی کوششیں اول دن سے جاری رہی ہیں لیکن کیا اسلام کا ان کوششوں سے کوئی نقصان ہوا ؟ ایک محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دین کو پھیلانا شروع کیا اور کیا کیا پریشانیاں ان کی را ہ میں نہ آئیں اور پھر دیکھو کہ اسلام کہاں کہاں نہیں پہنچا ۔ تم ایک جذباتی آدمی  ہو ، اس لیے تمہیں اس بات سے سروکار نہيں رہتا کہ جو باتیں پھیلائی گئی ہیں وہ درست ہیں بھی یا نہیں ۔ تم نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی ٹرمپ نے یہ بات کہاں کہی ، کب کہی اور کس معتبر نیوز ایجنسی کے ذریعے وہ خبر تم تک پہنچی ؟ یوگی نے کب ، کہاں اور کس سے وہ بات کہی ؟ مودی کی اس خفیہ میٹنگ کی جان کاری تم تک کہاں سے پہنچی ؟ وہ ذرائع قابل اعتبار تھے یا نہیں ؟

  یہ سوشل میڈیا کا دور ہے ، بہت سی بے سر پیر کی باتیں گرد ش کرتی رہتی ہیں اور تم انہیں من و عن قبول کرلیتے ہو اور بے مطلب پریشان ہوتے ہو ، ہمیں مٹانے کا خواب دیکھنے والے ان شاءاللہ ایک دن خود ہی مٹ جائیں گے ، ہماری پوری تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ ہم مٹے نہيں ، ہم نے ظالموں کو مٹایا ہے ۔ سعودی عرب میں ایک ادارہ کھلے گا لیکن یہ کہنا بے انتہا لچر اور بے بنیاد بات ہے کہ وہاں حدیثوں کو بدلا جائے گا ، یہ سب پروپیگنڈہ ہیں اور ہمیں جب تک معتبر ذرائع سے جانکاری نہ ملے ، اس قسم کی گھٹیا باتیں نہیں کرنی چاہیے ۔

آرایس ایس آج سے نہيں آزادی سے بہت پہلے سے مسلمانوں کے بیچ پھوٹ ڈال کر انہیں کمزور کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے ، وہ اپنی کوشش کرتے رہیں گے  اور ہمیں اپنی کوشش کرتے رہنا چاہیے ، ان کی معاندانہ کوششوں سے یہ سمجھنا کہ اسلام خطرے میں ہے ، در اصل مرعوبیت اور خوف کی دلیل ہے ، ان کی شیطانی کوششوں کو مات دینے کے لیے آپ ربانی طرز کی کوششیں بڑھا دیجیے ، ان شاءاللہ وہ خود اپنے بچھائے ہوئے جال میں پھنس جائیں گے ۔ امریکہ ہو یا دنیا کی کوئی بھی دوسری طاقت وہ اسلام کو اپنے لیے خطرہ تو سمجھتی ہی ہے ، در اصل وہ خود کو بچانے کی کوشش میں اس قسم کی حرکت کرتی ہے ، ہم کمزور عقیدے کے مسلمان ان حرکتوں سے ڈر جاتے ہیں اور ان کے پھیلائے ہوئے جال میں پھنس جاتے ہیں ورنہ سچ تو یہ ہے کہ ہم ان سے جتنا نہیں ڈرتے اس سے کہیں زیاد ہ وہ ہم سے ڈرتے ہیں ۔ ایک مسلمان کا ایمان اور اس کا اسلامی طرز حیات کافر کے اندرون تک کو ہلا دیتا ہے ۔ عرب حکمران ہوں یا غیر عرب دوسرے مسلم حکمران سب اپنی اپنی کشتی کو بچانےکی کوشش میں مصروف ہیں اور اس چکر میں کسی کی نہیں بچ پارہی ، جس دن وہ مل کر ایک دوسرے کی کشتی بچانے لگیں گے ، دشمن کا سارا نشہ اتر جائے گا ۔لیکن خان صاحب ! ا س کے لیے گالی دینا ، دم چھلے کہنا ، آپس میں بیٹھ کر بھڑاس نکالنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ بہتر صور ت یہ ہے کہ ہم حکمرانوں کے لیے اللہ پاک سے دعا کریں کہ اللہ انہیں صحیح سمجھ عطا کرے ، ساتھ ہی ہماری جو سمجھداری بنتی ہے اسے سلیقے سے ان حکمرانوں تک مستند اور معتبر چینل سے پہنچانے کی کوشش کریں ۔

 ایک بات ہمیشہ یاد رہے کہ اسلام کبھی خطرے میں نہیں رہتا ، وہ اللہ کی اتاری ہوئی سچائی ہے ، اسے بھلا کیا خطرہ ہو سکتا ہے ہاں ہم اپنی بد اعمالیوں ، کمزوریوں اور ضمیر فروشیوں کی وجہ سے خطرے میں ہوسکتے ہیں اور ہم سے خطرہ تبھی ٹلے گا جب ہم اسلام کے مطابق جینے لگیں گے ، ہم خود اپنے بیچ انصاف کے عمل کو بروئے کار لائیں گے اور حالات کے مطابق بہتر تیار ی سے کام لیں گے ۔ بے نام خاں صاحب ! کمزور قوموں کا مقدر ذلت ہے ہی ، آپ گاؤں دیہات میں نہيں دیکھتے کہ مضبوط کے خلاف کوئی نہیں ہوتا اور کمزور کی جوری سب کی بھوجائی ہوتی ہے ۔

اس  خطرے کی  ذہنیت سے نکلیے اور اپنی نسل بنانے کی کوشش کیجیے ، آپ جس ملک میں رہتے ہیں وہاں مواقع بھی کم نہیں ہیں لیکن یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ آپ کی قوم کے زياد ہ سرمایے شادی ویواہ کی رسموں ،  بے فائدہ بڑے بڑے جلسوں اور آپسی لڑائی جھگڑوں کی نذر ہو جاتے ہیں ۔ بے نا م خاں صاحب ! ہوش کے ناخن لیجیے ، اسکول ، کالجیز کھولیے ، پیسے یہا ں لگائیے جہاں تہاں نہیں ، بچوں کو کمپٹیشن کی تیاری کروائیے ، سیاست میں پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگوں کو آگے بڑھائیے ، اچھے وکیل پیدا کیجیے ، بہتر دینی ادارے کھولیے اور جو پہلے سے چل رہے ہیں انہیں اور بھی مضبوط کیجیے ، رفاہی کاموں کو ایمانداری سے انجام  دیجیے ۔ ایک وقت آئے گا جب دشمن  دانت پیس کر رہ جائے گا  اور دشمنوں کی معاندانہ کوششوں سے اس لیے مت گھبرائیے کہ یہ سلسلہ بہت پرانا ہے ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے ہمیں مٹانے کی کوشش نہیں کی اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انہیں منہ کی نہ کھانی پڑی ہو ۔

باطل سے دبنے والے اے آسمان نہیں ہم

سو بار کر چکاہے تو امتحاں ہمارا

بے نام خاں کا غصہ اب فرو ہو چکا تھا اور وہ مجھ سےکہ رہے تھے کہ مولانا اب شربت کی بجائے ذرا چائے پلوائیے اور ہاں الشای بدون فلفل ہی لائیے گا ۔۔۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.