چندن بارہ:جامعہ امام ابن تیمیہ ہندوستان اور عالم اسلام کا ایک مشہور دینی ادارہ ہے۔جہاں سے ہر سال درجنوں طلبہ وطالبات اپنے اپنے کلیہ سے فارغ ہوتیں اور ملک وملت کو اپنے علم سے بہرور کرتی ہیں۔
جامعہ کے ذیلی تعلیمی شعبوں میں سے ایک فعال ومتحرک شعبہ، شعبہ حفظ بھی ہے جو (معہد زید بن ثابت) کے نام سے مشہور ہے۔اس کے فارغین ملک کے کونے کونے میں امامت وخطابت، تراویح اور کئی ایک باضابطہ اپنے فن کے ماہر مدارس وجامعات میں علوم قرآن کی تدریس وتفہیم میں مشغول ہیں۔
ہر سال کی طرح امسال بھی شعبہ حفظ سے 28 بچوں نے قرآن شریف مکمل کیا۔کئی دور پورا کرنے کے بعد انہیں اب جامعہ سے حفظ کا شہادہ ملے گا۔
ان فارغین کے لئے جامعہ میں یہ سہولت ہے کہ اگر وہ آگے عربی کی تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو وہ عربی درجات میں داخلہ لے کر اپنے خواب کو شرمندہ تعبیر کرسکتے ہیں۔
آج حفاظ کرام کی فراغت کی مناسبت سے ایک چھوٹا سا پروگرام انہیں کے شعبہ میں زیر اشراف نائب مشرف اعلی جامعہ ومرکز ( شیخ عبد الرحمن تیمی) منعقد ہوا۔جس میں ان طلبہ کے سامنے قرآن وحدیث کی روشنی میں قرآن کی فضیلت اور اس کی غیر معمولی اہمیت کو بیان کیا گیا۔
قرآن اللہ کی آخری آسمانی کتاب ہے،جو سراپا پوری انسانیت کے لئے رشد وہدایت ہے۔انسانیت کی کامیابی وترقی اسی آسمانی کتاب سے جڑی ہوئی ہے۔ محرومی و نامرادی قرآن سے رشتہ توڑ لینے میں ہے۔جیسا کہ اس زمانے میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔حفاظ کرام اللہ کے خاص بندوں میں سے ہیں۔قرآن کی تلاوت سے دل کو سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے۔بے چینی وبے اطمینانی دور ہوتی ہے۔ایک حرف کے پڑھنے پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن سے غیر معمولی محبت تھی۔ آپ خود بکثرت قرآن کی تلاوت کرتے اور گاہے بہ گاہے اپنے صحابہ سے بھی قرآن سنا کرتے اور سن کر آنسو بہایا کرتے تھے۔
قرآن پڑھنا پڑھانا،سننا سنانا دنیا کا سب سے بہترین مشغلہ ہے۔اس سے اچھا کوئی مشغلہ نہیں ہوسکتا۔قرآن کا بار بار دہرانا قرآن کو یاد رکھنے کے لئے ضروری ہے۔اس لئے جہاں وقت ملے بطور خاص نماز کے اوقات اور دوران سفر ضرور قرآن پڑھیں تاکہ قرآن بھول نہ جائیں۔
اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری باتیں اس پروگرام کے دوران شیخ آصف تنویر تیمی(استاذ جامعہ) نے کہیں۔
اخیر میں تمام ذمہ داران جامعہ نے فارغ ہونے والے طلبہ کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دیں،ان کے روشن مستقل کےلئے دعائیں کیں۔اس مناسبت سے دیگر سامعین کے ساتھ شعبہ کے تمام اساتذہ بھی موجود تھے۔

Facebook Comments

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here