اپنے پہلے چانسلر حکیم اجمل خان کو جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کیا یاد

0

نئی دہلی:(پریس ریلیز) جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پہلے چانسلر اوربانیان میں سے ایک حکیم اجمل خان کی 150ویں سالگرہ پر جامعہ کے پریم چند آرکائیز اور لٹریری سینٹر کی جانب سے ایک نمائش کا اہتمام کیا گیا ۔ اس نمائش میں جنگ آزادی کے درمیان کی گئی ان کی تقاریر ، علمی و ادبی سرگرمیوں اور ان سے متعلق تاریخی چیزوں کو دکھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔
شیخ الجامعہ پروفیسر طلعت احمد کے ساتھ حکیم اجمل خان کے پڑ پوتے مسرور احمد خان نے آج اس نمائش کا افتتاح کیا ۔ سینٹر کی ڈائریکٹرڈاکٹر سبیحہ انجم زیدی نے نمائش کی تفصیلات اور اس کی تاریخی پس منظر کے بارے میں ناظرین کی رہنمائی کرتے ہوئے حکیم اجمل خان کی خدمات اور منظر نامہ پر روشنی ڈالی ۔ اس موقع پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباءاور اساتذہ سمیت بڑ ی تعداد میں محبان جامعہ موجود تھے ۔
شیخ الجامعہ پروفیسر طلعت احمد نے کہا کہ حکیم اجمل خان کی ملک اور قوم کے لئے خدمات نا قابل فراموش ہیں ، ہم نے ان کے انھیں خدمات کے اعتراف میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پوسٹ گریجویٹ اور یونانی میں پی ایچ ڈی کے مواقع میسر کئے ۔ انھوں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس نمائش کے ذریعہ جامعہ کے طلباءاور اساتذہ اپنے محسنین کی قربانیوں اور خدمات سے واقف ہو سکیں گے ۔ اس موقع پر حکیم اجمل خان کی شاعری سے منتخبہ غزلیں بھی دیوار بھی آویزاں کی گئی ہیں ، حکیم اجمل خان شیدا تخلص رکھتے تھے ۔
منصور احمد خان ، صدر حکیم اجمل خان میموریل سوسائٹی نے تاثراتی ڈائری میں اپنے احساسات رقم کرتے ہوئے کہا کہ :”حکیم اجمل صاحب کے کارنامے زندہ جاوید ہیں “۔انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جامعہ اور ہم سب کے لئے یہ فخر کی بات ہے کہ انھوں نے تمام یادوں کو سہیج اور سمیٹ کر رکھا ہے ۔
اس نمائش میں مشہور شاعر مرزا غالب کے اس دیوان کو بھی رکھا گیا ہے جسے حکیم اجمل خان نے اپنی نگرانی میں شائع کرایا تھا ۔ اس نمائش میں حکیم اجمل خان کے بارے میں معروف شخصتیوں جن میں موہن داس کرم گاندھی ، اندرا گاندھی ، جواہر لال نہرو جیسی شخصیات شامل ہیں کے تاثرات کو بھی نقل کر کے اہتمام سے آویزاں کیا گیا ہے ۔
معروف قومی رہنما ،حکیم ، مجاہد آزادی اور فلسفی حکیم اجمل خان کی پیدائش 11فروری کو 1868 کو دہلی کے شریف خانی فیملی میں ہوئی تھی ۔ اجمل خان کے والد حکیم محمود خان شاہ عالم کے طبیب خاص حکیم محمد شریف خان کے پوتے تھے۔ حکیم اجمل خان نے قرآن حفظ کرنے کے بعد عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں اپنے بڑے بھائی حکیم محمد واصل خاں سے طب پڑھی۔ اور اس علم میں اتنی دست گاہ پیدا کی کہ ملک کے طول و عرض میں مشہور ہوگئے۔ 1892ءمیں نواب رام پور کے طبیب مقرر ہوئے۔ 1906ءمیں طبی کانفرنس کی بنیاد رکھی۔ 1908ءمیں حکومت ہند نے حاذق الملک کا خطاب دیا۔ دو مرتبہ یورپ کا سفر کیا۔ 1912ءمیں طبیہ کالج قائم کیا اور 1920ءمیں جامعہ ملیہ کے منتظم اعلٰی مقرر ہوئے۔
کانگرس کی مجلس عاملہ نے حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک آپ ہی کی صدارت میں منظور کی تھی۔ 1921میں خلافت کانفرنس کی صدارت کی۔ قوم نے آپ کو مسیح الملک کا خطاب دیا تھا اور آپ دہلی کے بے تاج بادشاہ کہلاتے تھے۔ہندو مسلم اتحاد کے پرجوش حامی تھے۔ ملکی سیاست میں آپ کی رائے خاص اہمیت رکھتی تھی۔ سیاسی مضامین کے علاوہ طب پر کئی کتابیں تصنیف کیں۔جامعہ ملیہ اسلامیہ میں یہ نمائش 28 فروری تک رہے گی، جہاں تاریخ و ثقافت سے متعلق علم و ادب کے بیش بہا خزانے کے متعلق معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.