’’آصفہ کو انصاف دو ‘‘ علی گڑھ میں احتجاجی مظاہرہ

0

جموں کے کھٹوعہ میں ننھی آصفہ کی دردناک اور وحشت ناک عصمت دری کے بعد قتل کے ملزمین کے خلاف  گزشتہ دنوں چارج شیٹ داخل کرنے جارہی پولیس کو جموں کے وکلا نے گھیرا اور وکلا کے ساتھ دائیں بازو کے لیڈروں اور کارکنوں نے بھی اس ہولناک واقعہ کو انجام دینے والوں کوبچانے کی کوشش کی ۔وکلا اور دائیں بازو کے لیڈروں کی اس شرمناک حرکت پر پورے ملک میں غصے اور احتجاج کی لہر پھیل گئی ہے ،اس پورے واقعے کو اب سیاسی اور مذہبی رنگ دے دیا گیا ہے ۔اس حادثے کے بعد سے ہی جموں علاقے سے کئی سماجی کارکنوں نے احتجاج کیا ۔لیکن ابھی جب پولیس محکمہ نے اپنی تفتیش پوری کر کے ملزمین پر چارج شیٹ فائل کر نے کی کوشش کی تو دائیں بازو کے لیڈروں کی بڑی تعداد ان ملزمین کی حمایت میں اتر آئی۔ اس لیے اب انصاف پسند سماج کے افراد قصور واروں اور قصور واروں کی حمایت کرنے والوں کے ساتھ حکومت وقت کے خلاف سوشل میڈیا سے لے کر سڑکو ں پر بھی بڑی تعداد میں احتجاج پر  اتر آئے ہیں ۔

علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں بھی طلبا یونین کے زیر اہتمام آج بعد نماز جمعہ ایک زبردست احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیاگیا ۔یونی ورسٹی کیمپس کے سر سید نارتھ کی مسجد سے باب سید تک ریلی نکالی گئی ۔جس میں طلبا یونین کے صدر مشکور احمد عثمانی اور دیگر طلبا لیڈروں نے خطاب کیا اور بر سر اقتدار پارٹی کی سر د مہری کو نشانہ بناتے ہو ئے اس حوالے سے فوری اور موثر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔مشکور عثمانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کی مہم چلانے والی حکومت بیٹی کی عصمت دری کرنے والوں کو پناہ فراہم کر رہی ہے ۔

طلبا لیڈر سید حسان الحق نے اپنی تقریر میں کہا کہ مودی حکومت اور جموں کشمیر  سے لے کر یوپی میں یوگی حکومت اور جموں کشمیر میں  مودی کی اتحادی پارٹی کی حکومت عصمت دری کے واقعے پر خاموش ہیں ۔ اسی پارٹی کے کارکنان اور لیڈران عصمت دری کی ہولناک واردات انجام دے رہے ہیں ۔کیا مودی جی کے ’بیٹی پڑھاؤ بیٹی بچاؤ ‘ کے نعرے کا یہی مطلب تھا ۔ مودی کا نام جپنے والے وکیلوں کی غنڈہ گردی بھی قابل حیرت ہے کہ انصاف کی حمایت اور سر بلندی کی بجائے ایک ملزم اور قصوروار کی حمایت میں یہ انصاف کے رکھوالے ریلیاں نکالتے نظر آرہے ہیں۔علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے احتجاج میں بڑی تعداد میں یونی ورسٹی کے طلبا بینر اور پلے کارڈ کے ساتھ  شریک ہوئے جن پر آصفہ کی عصمت دری کر نے والوں کوپھانسی دو اور عصمت دری کے جرم کو فرقہ وارانہ رنگ دینا بند کرو جیسے نعرے لکھے تھے ۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.