بھاجپہ ہمارے پارٹی ممبران کو خریدنے کی کوشش کر رہی ہے: کمار سوامی

0

(نئی دہلی): کرناٹک میں حکومت سازی پر سسپنس بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ وہیں جے ڈی ایس کے ممبران کمیٹی کی میٹنگ میں پارٹی کے دو ممبر کی غیر موجوگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے جے ڈی ایس نے بھاجپا پر ممبران کے خرید و فروخت کا الزام لگایا ہے۔ جے ڈی ایس کی میٹنگ میں کمار سوامی کو ممبر کمیٹی کا رہنما منتخب کیا گیا، اور اس کے بعد انہوں نے کہا کہ بھاجپا میری پارٹی کے ممبران کو 100 کروڑ اور مرکزی عہدے کا لالچ دے کر خریدنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سوامی نے بھاجپا پر سنگین الزامات لگاتے ہوئے مزید کہا کہ ایسا پہلی بار ہو ا ہے کہ جب کوئی پارٹی حزب اختلاف کو اس حد تک دھمکی دے رہی ہے۔ کمار سوامی پارٹی ممبر کی خرید و فروخت کے معاملے کو اٹھاتے ہوئے مزید انکشاف کیا کہ ’’مجھے دونوں جانب سے آفر مل رہے ہیں، میں بلا وجہ اس بات کو نہیں بول رہا ہوں،کیوں کہ اس سے سیاسی کریئر داغ دار ہو جاتے ہیں۔ میرے والد کے کیرئیر کو اس لیے داغ دار کیا گیا کیوں کہ وہ  2004 اور 2005 میں بھاجپا میں شامل ہو گئے تھے۔ اب بھگوان نے مجھے اس داغ کو مٹانے کا ایک موقع دیا ہے۔ اس لئے میں کانگریس کے ساتھ جا رہا ہوں۔

غور طلب ہے کہ سوامی نے بھاجپا کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مزید کہا کہ آپ آپریشن کمل کو بھول جائیے ، ایسے کئی لوگ ہیں جو بھاجپا کو چھوڑ کر ہمارے ساتھ آنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ ہمارے لوگوں کو متاثر کریں گے تو ہم بھی ویسا ہی کر سکتے ہیں۔ ہم تو آپ سے بھی زیادہ ممبران کو اپنی جانب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، میں گورنر سے بھی کہہ رہا ہوں ایسا کوئی فیصلہ نہ لیں جس سے ہارس ٹرینڈنگ کو پنپنے کا موقع ملے۔

کمار سوامی نے کہا کہ اگر وہ ہمیں نقصان پہنچائیں گے اور ہمارے ممبران کو اپنی طرف کر نے کی کوشش کریں گے تو ہم بھی ان کے ممبران کو اپنی جانب لائیں گے اور اس کے لئے ہمیں جو بھی کرنا پڑے گا ہم کریں گے۔ انہوں نے کہا بھاجپا کو 104 نششتیں ملنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ کرناٹک کی عوام بھاجپا کو حکومت میں دیکھنا چاہتی ہے۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.