اورنگزیب روڈ کا نام بدلوانے کے بدلے مہیش گری کو ملا ایوارڈ

0

نئی دہلی:گزشتہ روز اندرا گاندھی نیشنل آرٹ سینٹر میں ”دارا شکوہ”پر ایک پروگرام کے دوران بی جے پی لیڈر مہیش گری کو ایک اعزاز سے نوازا گیا۔اس پروگرام کے دوران صوفی ازم پر ایک سمینار کا انعقاد بھی کیا گیا ،نائب صدر جمہوریہ ایم وینکیا نائیڈو نے اس پروگرام کا افتتاح کیا اور مہیش گری کو اعزاز سے بھی نوازا۔یہ پروگرام فاونڈیشن فار ایڈوانسمنٹ آف کلچرل ٹائز اور انکریڈبلیٹی بھارت فاونڈیشن کے اشتراک سے منعقد کیا گیا تھا۔اس پروگرام میں ایران کے سابق صدر ڈاکٹر غلام علی حداد عادل بھی موجود تھے۔
پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے مہیش گری نے کہا کہ جب کبھی میں اورنگزیب روڈ کی طرف دیکھتا تھا تو مجھے بے حد تکلیف ہوتی تھی ،اورنگزیب نے ہماری پوری تہذیب کو برباد کرکے رکھ دیا ہے۔جب وہ سلطنت کی کرسی پر تھا تو اس نے کئی بے گناہ لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا ،ایسے کسی انسان کے نام پر کیسے کسی روڈ کو نامزد کیا جاسکتا ہے۔اس لئے میں نے فیصلہ کیاکہ اس روڈ کا نام بدلنا چاہیے،حالانکہ کہ اس کے سبب مجھے کئی مرتبہ دھمکیاں بھی ملی۔انہوں نے مزید کہا کہ اورنگزیب ایک دہشت گرد انسان تھا،لیکن لوگوں نے اسے بادشاہ قبول کر لیاتھا۔انہوں نے جو گناہ کیا ہے،اس کیلئے اس کو جو سزا ملنی چاہیے تھی وہ نہیں ملی ،اور ایسے شخص کے نام پر روڈ کا نام رکھنا کسی بھی طرح سے مناسب نہیں ہے۔وہیں انہوں نے اورنگزیب کے بھائی داراشکوہ کی جم کر تعریف کی۔ بتادیں کہ 28 اگست 2015 کو نئی دہلی میونسپل کارپوریشن نے اورنگزیب روڈ کا نام بدل کر ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام روڈ رکھ دیا ،اس سے پہلے مہیش گری نے پی ایم مودی کو خط لکھ کر اس روڈ کا نام بدلنے کی مانگ کی تھی،ساتھ ہی مزید کئی روڈ کا نام بدلنے کیلئے تجویز پیش کر چکے ہیں۔یاد رہے کہ مہیش گری مشرقی دہلی سے بی جے پی کے رکن اسمبلی ہیں۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.