مولانا عبدالوہاب خلجی کا سانحۂ ارتحال ایک عظیم دینی ،جماعتی و ملی خسارہ : مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی

0

مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکی پریس ریلیز کے مطابق جماعت اہل حدیث کے ایک فعال ومتحرک قائد اور ملی وسماجی حلقوں میں حرکت وعمل کے لیے معروف ومشہور شخصیت نامور عالم دین اورسابق ناظم عمومی مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند حضرت مولانا عبدالوہاب صاحب خلجی طویل علالت کے بعدآج پونے چار بجے بعمر۶۳سال دار فانی سے دار بقاکی طرف رحلت فرماگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
جمعیت کے مطابق جناب عبد الوہاب کے انتقال کی خبر سے نہ صرف ملک کے جماعتی وملی حلقوں میں صف ماتم بچھ گئی ہے بلکہ موصوف کے انتقال کی خبر سے بیرون ملک میں ان کے چاہنے والوں کو بھی گہرا صدمہ لگا ہے۔ بلاشبہ موصوف کی وفات سے ملی و جماعتی حلقوں میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جس کا پر ہونا بظاہر مشکل نظر آتاہے۔ 

مولاناعبدالوہاب خلجی۴؍جنوری ۱۹۵۶ء کو پنجاب کے مشہور ومعروف شہر مالیر کوٹلہ میں پیدا ہوئے ۔ ابتدائی تعلیم مالیر کوٹلہ ہی میں حاصل کی ۔ پھر اعلیٰ تعلیم کے حصول کی غرض سے دہلی کے لئے عازم سفر ہوئے اور مدرسہ سبل السلام (پھاٹک حبش خاں ) دہلی میں داخلہ لیا اوریہاں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کی ۔دہلی سے جامعہ رحمانیہ بنارس کے لئے رخت سفر باندھا اوروہاں داخلہ لیا ۔ وہاں کچھ عرصہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد مدینہ منورہ کا رخ کیا اورمدرسہ دارالحدیث اور پھر جامعہ اسلامیہ سے فراغت حاصل کی ۔
آپ کے اساتذہ میں مولانا عبدالصمد رحمانی ، مولانا فضل الرحمن بن رحم اللہ ، مولانا عزیز احمد ندوی ، مولانا عبدالسلام رحمانی، مولانا امراللہ رحمانی ، شیخ عمر محمد فلاتہ اور شیخ عبدالصمد الکاتب کے اسماء گرامی قابل ذکر ہیں ۔ 
جماعتی اور تنظیمی ذوق وشوق کی بنیاد پر جامعہ اسلامیہ سے فراغت کے بعد ہی جماعت سے وابستہ ہوگئے اور مولانا عبدالوحید سلفی کے دور امارت میں جب کہ مولانا عبدالسلام رحمانی ناظم اعلیٰ تھے موصوف نائب ناظم کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ پھر ۱۹۸۷ء میں قائم مقام ناظم اعلیٰ بنے ۔ حضرت مولانا عبدالوحید سلفی ؒ کے انتقال کے بعد ۲۷؍مئی ۱۹۹۰ء کو مولانا مختار احمدندوی صاحب امیر اور آپ ناظم عمومی منتخب ہوئے ۔ چنانچہ ۱۷؍مئی ۱۹۹۰ء سے ۱۴؍اکتوبر ۲۰۰۱ء تک مرکزی جمعیت کے ناظم عمومی کے جلیل القدرعہدہ پر فائز رہے ، اس طرح آپ لگ بھگ ۱۷؍سال تک مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے نائب ناظم،قائم مقام ناظم اعلیٰ اور ناظم عمومی کے عہدوں پرفائزرہے۔
آپ کے دور نظامت میں متعدد اہم اجلاس اور کانفرنسیں ہوئیں اور کئی اہم مسابقے ہوئے جن میں ’’ حرمت حرمین شریفین‘‘ کانفرنس، ’’ کل ہندمسابقہ حفظ حدیث شریف ‘‘ اور ’’ کل ہندمسابقہ حفظ وتجوید قرآن کریم ‘‘جیسے اہم دینی پروگرام خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔ ’’حالات حاضرہ پر علماء اہل حدیث کانفرنس‘‘ منعقد کی اور اس موقعہ پر علماء اہل حدیث کی خدمات پر مشتمل ایک یادگاری مجلہ ’’ نقشِ فکر وعمل ‘‘ شائع کیا ۔آپ کے دور نظامت میں ’’ صوت الاسلام ‘‘ لائبریری قائم ہوئی۔ پندرہ روزہ جریدہ ترجمان ہفت روزہ شائع ہوا۔ ہندی داں طبقہ کے لیے ماہنامہ ’’ اصلاح سماج ‘‘ کا اجراء عمل میں آیا ۔ بیرون ملک مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کو متعارف کرایا۔ اس سلسلے میں ملک وبیرون ملک کے بے شمار دینی ودعوتی دورے کئے۔ ناظم عمومی کی حیثیت سے آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔
پریس ریلیز کے مطابق مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے علاوہ بھی اور دیگر اسلامی اداروں اور تنظیموں سے وابستہ رہے ۔ چنانچہ آپ جامعہ سلفیہ بنارس کی مجلس انتظامیہ ، عالمی اسلامی کونسل لندن کی مجلس عاملہ ، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن ، کل ہند مسلم مجلس مشاورت کے رکن نیز آل انڈیاملی کونسل کے نائب صدر رہے۔ 
آپ نے اپنا ایک علمی اور تحقیقی ادارہ ’’ الدارالعلمیہ ‘‘ کے نام سے قائم کیا جس سے مختلف زبانوں میں سو سے زائد بیش بہا علمی اور تحقیقی کتابیں شائع ہوئیں اورعالمی سطح پر اس کی ایک پہچان قائم ہوئی۔
موصوف کا شمارجماعت کے انتہائی سرگرم وفعال قائدین میں ہوتاہے ۔کئی سال قبل فالج کا حملہ ہوا جس سے ان کی سرگرمیاں سرد پڑگئیں کسی قدر افاقہ ہواتو پھر ملی وسماجی کاموں میں حصہ لینے لگے لیکن گزشتہ ماہ پھر فالج کا حملہ ہوااورکلی طورپر صاحب فراش ہوگئے۔ ہاسپیٹل میں عیادت کے وقت ان کی حالت دیکھ کر اندازہ ہورہاتھا کہ اللہ کی رحمتوں پر یقین کامل رکھنے کے باوجود طیبعت حوصلہ افزا نہیں ہے۔گزشتہ دنوں پنت ہاسپٹل،دہلی میں زیرعلاج ہی تھے کہ دل کا دورہ پڑا اورآرٹی مج ہاسپٹل گڑگاؤں میں علاج کی غرض سے منتقل کیاگیا لیکن طبیعت سنبھل نہ سکی اورڈاکٹروں نے گھرپر ہی رکھنے کا مشورہ دیا جہاںآج تقریبا پونے چار بجے دن اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ اللہ تعالیٰ ان لغزشوں کو نیکیوں میں بدل دے ،جماعتی وملی خدمات کو شرف قبولیت بخشے اورجنۃ الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاکرے اورپسماندگان خصوصا ان کی اہلی محترمہ جو شریک حیات کے ساتھ شریک دعوت رہیں، ان کے صاحبزادگان محمدوعبید اورصاحبزادیوں نیزجملہ پسماندگان کو صبر جمیل عطاکرے۔ آمین یا رب العلمین
تدفین قبرستان قوم پنجابیان شیدی پورہ نزد عید گاہ دہلی میں کل صبح آٹھ بجے عمل میں آئے گی ۔پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ چار بیٹیاں اوردو بیٹے محمد خلجی اور عبیدخلجی ہیں۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے امیرمحترم جناب مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی ان کے نائبین ناظم عمومی مولانا محمدہارون سنابلی،ان کے نائبین اورناظم مالیات الحاج وکیل پرویز وجملہ ارکان شوریٰ وعاملہ وکارکنان دفترمرکزی جمعیت نے ان کی وفات پر اپنے غم وافسوس کا اظہارکیاہے اورموصوف کے اپسماندگان وجملہ اہل جماعت وجمعیت نیزعام مسلمانوں سے اظہار تعزیت کیاہے اورموصوف کی مغفرت وبلندئ درجات کی دعاکی ہے۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.