حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کا سانحہءارتحال ایک دور کا خاتمہ:مفتی عطاءالرحمن قاسمی

0

نئی دہلی:حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صدر مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند اور چیرمین سپریم کونسل آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے انتقال پر ملال پر اظہار رنج و غم کرتے ہوئے شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ کے چیرمین مولانا مفتی عطاءالرحمن قاسمی نے کہا کہ حضرت مولانامحمد سالم صاحب نہ صرف مولانا محمد قاسم نانوتوی اورقاری محمد طیب کی نسبی و فکری یادگار تھے بلکہ مختلف مکاتب فکر و مسالک کے ما بین اتحادو اتفاق کی علامت و استعارہ کی حیثیت رکھتے تھے ،انھوںنے کلمہ کی نبیاد پوری ملت و امت کی شیرازہ بندی اور چمن بندی کرنے کی غیر معمولی جددوجہد کی تھی۔
مولانا مفتی عطاءالرحمن قاسمی اور محمد ادیب سابق ممبر پارلیمنٹ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ حضرت مولانامحمد سالم قاسمی کے سانحہ ارتحال سے صحیح معنی میں ایک دور کا خاتمہ ہوگیا ہے اور ملک و ملت کاایک ستون گر پڑا ہے اور دور دور تک آپ جیسی شخصیت نظر نہیں آتی ہے ،آپ اس دور قحط الرجال میں تن تنہا عالم دین تھے جن کے علم و فکر پر اعتماد کیا جاتا تھا ۔
مولانا مفتی عطاءالرحمن قاسمی اور محمد ادیب سابق ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ جب شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے ان کی خدمت میں شاہ ولی اللہ ایوارڈ ۳۱۰۲ دینے کا فیصلہ کیا گیا اور جب اس کی اطلاع حضرت والا کو دی گئی توانھوںنے نہ صرف اس کی منظوری عنایت فر مائی بلکہ اس ایوارڈکو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایک موقراجلاس میں دہلی کے اس وقت کے لیفٹینٹ گورنر نجیب جنگ کے ہاتھو ں سے قبول کر کے ہماری حوصلہ افزائی فرمائی تھی اور بڑی مسرت کا اظہار فرمایا تھا۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی حضرت مولانا کی مغفرت فرمائے اور ان کے پسماند گان و لواحقین کو صبر جمیل عطاءفر مائے ۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.