پٹنہ:مودی سرکار کے وزیر اور بہار کے نوادا لوک سبھا سے بھاجپا کے رکن پارلیمنٹ گری راج سنگھ نے بہار کے سی ایم نتیش کمار کی سرکار پر نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ اس سرکار میں ہندوں کا خوب مزاق اڑایا جارہا ہے۔ان کی توہین کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوں کے تئیں اپنے نظریے کو تنگ کر کے مذہبی خوشحالی کی بات نہیں کی جاسکتی ہے۔ہندوں کو طاقت کی بنیاد پر دبا کر بھلائی نہیں کی جاسکتی ۔گزشتہ روز گری راج سنگھ نوادا جیل میں بند بجرنگ دل کے ضلع انچارج جتندر پرتاپ سے ملنے گئے تھے اور وہاں انہوں نے اس قیدی کی حمایت کا اعلان بھی کیا ہے۔جیل میں ملاقات کرنے کے بعد باہر نکلتے ہوئے مرکزی وزیر نے نتیش کمار کی سرکار پر حملہ کیا ۔انہوں نے کہا کہ بجرنگیوں کو گرفتار کر نتیش سرکار کی پولس نے لوگوں کو اکسانے کا کام کیا ہے۔یہ لوگ ہاتھ جوڑ کر دوکانوں کو بند کرا رہے تھے اور انصاف کی بات بتا رہے تھے ،اس کے باوجود انہیں گرفتار کرلیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سرکار سختی سے نہیں چلتی بلکہ یہ آپسی مفاہمت کے ساتھ چلتی ہے۔گری راج نے یہ بھی کہا کہ نوادا کے اکثریتی سماج کے لوگوں نے سماجی بھائی چارے کو قائم رکھنے کی ہمیشہ کوشش کی ہے۔اس کے باوجود انہیں لوگوں پر شہر کا ماحول خراب کرنے کا الزام لگا کر انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔یہ سراسر ناانصافی ہے۔اکثر متنازع بیان دینے والے بھاجپا لیڈر گری راج سنگھ نے یہ بھی کہا کہ تحریک چلانا اور مدد کرنا ملک کی عوام کا قانون حق ہے۔لیکن یہاں کی پولس اس بات کو درکنار کر من مانی کررہی ہے۔بہار سرکار کے من میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ مذہبی خوشحالی تبھی آئے گی جب ہندوں کو دبایا جائے گا۔بجرنگ دل اور وشوہندو پریشد کے کارکنان کے خلاف جو کارروائی ہوئی ہے وہ ہندوں کو اکسانے والی ہے۔اور یہ پوری طرح سے غلط ہے۔یاد رہے کہ تین جولائی ۲۰۱۷ کو بہار پولس نے فساد کرانے کے الزام میں بجرنگ دل کے ضلع انچارج جتندر پرتاپ کو گرفتار کر جیل بھیج دیا تھا۔

Facebook Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here