نیو ہورائزن اسکول میں اساتذہ کا ہو رہا ہے استحصال

0

نئی دہلی:بستی حضر نظام الدین اولیا میں واقع نیو ہورائزن پبلک اسکول میں اساتذہ کا استحصال برسوں سے جاری ہے ۔ ان کی محنت کی کمائی پر مینیجر ، چیئر مین اسکول کے عہدیداران مسلسل سیندھ لگا رہے ہیں اور منظم طریقے سے ان کی تنخواہ ہڑپ رہے ہیں۔ نیو ہورائزن پبلک اسکول کا قیام 1978 میں ورلڈ ایجوکیشن اینڈ ڈیوپلمنٹ آرگنائزیشن کے تحت عمل میں آیا۔ جس کا مقصد اقلیتی اور پسماندگان بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنا تھا۔مگر دھیرے دھیرے اب وہ کارپوریٹ سیکٹر کی طرح صرف اور صرف مالی منافع پر نظریں جما چکا ہے۔خواہ لوگوں کا حق مارکر ہی کیوں نہ حاصل ہو۔ جب تعلیم گاہوں میں اس قدر بد عنوانی ہے تو دیگر اداروں سے اورکیا امید کی جاسکتی ہے۔ یہاں کے اساتذہ ایک عرصے سے استحصال ہورہے ہیں اور بدعنوانی کے شکار ہیں۔ مگر اس کے باوجود وہ اساتذہ اپنے بچوں کو بد عنوانی کے خلاف درس دیتے ہیں۔ خود استحصال کے شکار ہیں لیکن اپنے بچوں کو کسی کا حق نہ مارنے کا سبق پڑھاتے ہیں۔ ان کے اندر بھی بدعنوانی کے خلاف غصہ ہے لیکن وہ معاشی جکڑ بندیوں کے آگے مجبور ہیں۔یہ عظیم اساتذہ نیو ہورائزن اسکول میں اپنے طلبا کو سچ کا سبق پڑھانے پر مجبور ہیں حالاں کہ ایک سچ ان کے حلق میں بھی پھنسا ہوا ہے جسے وہ نگل پارہے ہیں اور نہ ہی اگل پارہے ہیں۔ واضح رہے کہ اقلیتی اسکول کے نام پر فنڈ حاصل کرنے کے علاوہ اس کی فیس بھی بہت مہنگی ہے اس کے باوجود اساتذہ کو کم سے کم تنخواہ دی جاتی ہے۔ان کے بینک کھاتے میں سی بی ایس ای(CBSE) ریگولیشن کے مطابق تنخواہ کے نام پر تقریبا (36000چھتیس ہزار روپے) ٹرانسفر کیے جاتے ہیں اور ان اساتذہ سے آدھے سے زیادہ پیسے بلینک چیک کے ذریعے واپس لے لیے جاتے ہیں۔ان اساتذہ کے پاس کوئی ثبوت تک نہیں چھوڑتے کہ وہ اپنے حق کی آواز بلند کرسکے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق تو ان کو پوری تنخواہ دے دی جاتی ہے جب کہ ٹرانسفر کرنے سے پہلے ان سے سادہ چیک پر سائن کرواکرآدھے سے زیادہ پیسے واپس لے لیے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ سی بی ایس سی ریگولیشن کے مطابق اساتذہ کی تنخواہ کم سے کم تقریبا 35 ہزار کے آس پاس ہونی چاہیے ۔ اس قانون کے مد نظر نیو ہورائزن اسکول کی طرف سے اپنے اساتذہ کے کھاتے میں پورے پیسے ٹرانسفر کردیے جاتے ہیں پھر بعد میں ان سے زبردستی آدھے سے زیادہ پیسے واپس لے لیے جاتے ہیں۔ اسکول کے مینیجر کمال فاروقی، چیئرمین ڈاکٹر صلاح الدین، پرنسپل اور دیگر انتظامیہ سے گزارش ہے کہ وہ اساتذہ کے ساتھ کر رہے استحصال کو فورا بند کریں اور ان کوعزت کے ساتھ ان کا حق دیا جائے تاکہ وہ اساتذہ دل جمعی سے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دے سکیں اوربد عنوانی و استحصال کے خلاف انھیں تیار کرسکیں۔ذرائع کے مطابق دہلی کے دیگر اقلیتی اسکولوں میں بھی تنخواہ ہڑپنے کی اسکیم مسلسل جاری ہے۔

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.