مسلکی شیرازہ بندی وقت کی اہم ضرورت۔عبیداللہ اعظمی

0

 مسلم پرسنل لا بورڈ کا 26 واں اجلاس عام 

 حیدرآباد میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا  26ویں سہ روزہ  اجلاس عام  کا آج آخری دن تھا جس میں ملک میں مسلمانوں کو در پیش مسائل پر تبادلہ خیالات اور مقررین کے بیانات ہو ئے ۔تین طلاق اور بابری مسجد کا مسئلہ اس اجلاس میں گفتگو کے اہم موضوعات میں سے ہیں،۔ادھر مولانا سلمان ندوی نے بابری مسجد تنازع میں صلح جویانہ موقف اختیار کرتے ہوئے  باغیانہ تیور دکھا یا تو  مسلم پرسنل لا بورڈ  نے انہیں بورڈ سے باہر کا راستہ دکھا دیا۔

سابق ممبر پارلیمنٹ اور مذہبی جلسوں کے مشہور مقرر، مولاناعبید اللہ خان اعظمی مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے ایک عرصے کے بعد اپنے پرانے انداز میں نظر آئے ۔اعظمی صاحب نے اپنے خطاب میں پی ایم مودی پر نشانہ سادھتے ہوئے کھلے لفظوں میں  کہا کہ جس طرح آپ کو  مسلم بہنوں کا درد ستا رہاہے ویسے ہی مجھے اپنی ایک ہندو بہن کا درد ستا رہاہے ۔جو بد قسمتی سے آپ کی بیوی ہے جس کا نام جشودا بین ہے ۔

مولانا اعظمی نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ مسٹر مودی ایک ایسے پی ایم ہیں جو  مداری کی طرح لوگوں کو اپنے مکر وفریب میں پھنسا رہے ہیں ۔ ہمارے ملک کا ہندو،اتنا بھی بے وقوف نہیں ہے کہ وہ ملک کو بانٹنے والے اور ترقی کی راہ پر لے جانے والے کے درمیان فرق نہ کر سکے ۔ جمہوریت میں کثرت رائے سے وزیر اعظم کا انتخاب  ضرور ہوتا ہے لیکن فی الحال  ملک کا وزیر اعظم ایک چائے والے کو بنا دیا گیاہےجب کہ پہلے کے وزیر اعظم پڑھے لکھے لوگ ہوا کرتے تھے ۔مولانا اعظمی نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب ایک چائے والے کو پی ایم بنایا جاسکتا ہے  تو کسی مونگ پھلی بیچنے والے یا پکوڑی بنانے والے کو بھی  پی ایم بنایا جا سکتا ہے اور اس سے بہتر تو یہ ہوتا کہ  کسی پان والے کو  پی ایم بنا دیتے جوکم از کم  چونا تو پوچھ کر  لگاتا۔

مسلکی ہم آہنگی پر اظہار خیال کرتے ہوئے عبیداللہ خان اعظمی نے کہا کہ مسلکی شیرازہ بندی بہت ضروری ہے ۔کیوں کہ مسلکی انتشار میں الجھنے سے ملت کا بھلا نہیں ہوگا ۔شیعہ ،وہابی ،دیوبندی،بریلوی سب اپنے اپنے مسلک پہ قائم رہتے ہوئے بھی اسلام کی خاطر ایک تو ہو سکتے ہیں۔کون وہابی ہے جو اسلام کا بھلا نہیں چاہتا ہے ،کون دیوبندی ہے جو اسلام کا بھلا نہیں چاہتا ،کون بریلوی ہے جو اسلام کا بھلا نہیں چاہتا۔وقت کا تقاضا ہے کہ سب اپنے مسلک پر قائم رہتے ہوئے بھی ملت کے مفاد میں متحد  ہو کر کام کریں

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.