کرناٹک میں سیکولر اتحاد کی کامیابی کا سہرا مسلمانوں کے سر بھی جاتا ہے

0

 

پی ایف آئی نے سیکولرطاقتوں کی جیت کویقینی بنانے کے لئے سیاسی قربانی دی،سیکولرپارٹیوں پرسخت دباؤ بھی بنایا

سہیل اختر قاسمی

نئی دہلی:کرناٹک میں بی جے پی کودھول چٹانے اورکانگریس اور جے ڈی ایس کے درمیان سیکولراتحادکے قیام کی کوششوں کی کامیابی کے پس پردہ کانگریس اورجے ڈی ایس کے قائدین کی دانشمندی ہی اہم وجہ نہیں تھی بلکہ کچھ ایسے محرکات بھی تھے جس کاذکرنہیں ہوپایا۔اترپردیش میں ووٹ بٹوارے سے سبق لیتے ہوئے جنوبی ہندکے مسلمانوں نے بساط سے آگے بڑھ کرووٹ کومنتشرہونے سے بچایااوراس بات کویقینی بنایاکہ کوئی سیکولرامیدوارہی فتح سے ہمکنارہو۔جنوبی ہندکی مشہورتنظیم پاپولرفرنٹ آف انڈیانے علاقائی سطح پرمہم چلائی اورمسلمانوں کے درمیان سیاسی سوجھ بوجھ کے ساتھ حق رائے دہی کے استعمال کے تئیں بیداری پھیلائی۔پی ایف آئی کی اعلیٰ قیادت کامانناہے کہ کرناٹک میں جس سیکولراتحادکوبرتری ملی ہے اوروہ اب حکمرانی کررہی ہے،اس میں کرناٹک کے مسلمانوں کی دانشمندی،مقامی قیادت کے ذریعہ کانگریس اورجے ڈ ی ایس پردباؤبناناوغیرہ شامل ہے۔
پی ایف آئی کے قومی سکریٹری انیس احمدنے کل یہاں نئی دہلی میں روزہ افطارکی ایک تقریب میں نمائندہ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ’کرناٹک میں سیکولراتحادکی کامیابی کے لئے جنوبی ہندوستان کے مسلمانوں کوبھی کریڈٹ دیناچاہئے کہ ان کی دانشمندی کی وجہ سے سیکولراتحادکاموقع میسرہوا۔‘انہوں نے پی ایف آئی کے ذریعہ کرناٹک انتخاب میں اہم رول اداکرنے کادعویٰ کرتے ہوئے کہاکہ’ریاست میں ہماری پوزیشن مضبوط ہے،ہماراکیڈرہے،ہمارے لوگ ہیں،مگرجب الیکشن سرپرآئے اورمقابلہ سیکولربنام غیرسیکولرنظرآیاتوہم نے سیکولرطاقتوں کی فتح یابی کے لئے سیاسی قربانی دینے تک سے گریزنہیں کیا۔سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا(ایس ڈی پی آئی)کو ۲۶؍حلقوں میں امیدواروں کوالیکشن لڑاناتھا،مگرایس ڈی پی آئی نے فرقہ پرستوں کوناکام کرنے کی غرض سے صرف۳؍حلقوں کے اسمبلی انتخابات میں حصہ لیا۔ایس ڈی پی آئی جیسی پارٹی کے لئے یہ بڑی قربانی تھی،کیونکہ ہمیں لگتاہے کہ ایس ڈی پی آئی کاجنوبی ہندکے مسلم علاقوں میں اچھااثرہے،اس کافائدہ ہم اٹھاسکتے تھے،مگرہمیں یہ اندیشہ بھی تھاکہ کہیں ہم سیکولرووٹ کے انتشارکی وجہ نہ بن جائیں اس لئے ایس ڈی پی آئی نے مقامی قیادت کے ساتھ بڑے پیمانے پرصلاح ومشورہ کیااورممکنہ اندیشوں کومدنظررکھتے ہوئے ایک بڑی سیاسی قربانی دی۔‘پی ایف آئی کے نوجوان اورفعال سکریٹری انیس احمدنے نمائندہ کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے کہاکہ’پی ایف آئی صرف ایک تنظیم نہیں ہے بلکہ وہ ایک اتحادی پلیٹ فارم ہے،جوجنوبی ہندکی ۳؍بڑی مسلم تنظیموں سے تشکیل پائی ہے۔زمینی سطح پرہماراکام ہے،کرناٹک الیکشن میں ہم نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے کہ مسلم ووٹ نہ بٹے،سیکولرپارٹیوں میں ووٹ بٹوارے کافائدہ فرقہ پرستوں کانہ ہو،جس میں ہمیں کامیابی ملی،مگرایک نقصان یہ ہواکہ غیرمسلمو ں میں اسکابرااثرپڑا۔‘مسلم ووٹوں کے اتحادسے منفی اثرات مرتب ہونے سے متعلق ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے انیس احمدنے مزیدکہاکہ’میں مانتاہوں کہ اس کامنفی اثرمرتب ہوتاہے،مگراس کے لئے ہم ذمہ دارنہیں ہیں،ہم ایساکررہے ہیں تاکہ آئین محفوظ رہے اورردعمل کے طورپرجوہوااورجن کوفائدہ پہنچاوہ ہندوستانی آئین اورقومی یکجہتی پروارکررہے ہیں۔‘
واضح ہوکہ کرناٹک میں حال ہی میں اسمبلی انتخاب ہوا،جس میں بی جے پی کوشکست دینے میں کانگریس اور جے ڈی ایس اتحاد کی کامیابی نے اپوزیشن میں ایک نئی جان ڈال دی ہے۔کانگریس نے جنوبی ہندکی اس ریاست میں جے ڈی ایس کے ساتھ اتحادکیااوروہاں حکومت سازی کے لئے پہل کی۔اس اتحادکی ہرجگہ ستائش ہورہی ہے ا وراس کاسہراکانگریس کی قیادت اورجے ڈی ایس کے لیڈروں کودیاجارہاہے۔لیکن پاپولرفرنٹ کامانناہے کہ صرف سیاسی ضرورتوں کی وجہ سے ہی یہ اتحادنہیں ہوابلکہ اس اتحادکے پس پردہ جنوبی ہندکے مسلمانوں سوجھ بوجھ اوران کی دانشمندانہ کوششیں بھی شامل ہیں جس کی وجہ سے کانگریس اورجے ڈی ایس آپسی اختلافات بھلاکراتحادکرنے پرراضی ہوئی۔

سہیل اختر قاسمی روزنامہ انقلاب کے نامہ نگار ہیں 

suhailakhtar@inquilab.com

You might also like More from author

Leave A Reply

Your email address will not be published.