ریاض: ان دنوں سعودی عرب اور امریکہ کے مابین زبانی جنگ جاری ہے۔امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد دونوں ملکوں کے رشتوں میں تلخی مزید بڑھ گئی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہماری مدد کے بغیر سعودی عرب دوہفتہ سے زیادہ نہیں رہ سکتا ہے۔اس پر سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا تھا کہ کہ ہم دو سو سال تک بغیر کسی ملک کی مدد کے رہ سکتے ہیں۔وہیں تازہ جانکاری یہ ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ ہم سعودی قوم کے دفاع اور اس کی حفاظت کے لیے کسی سے مفت میں کچھ نہیں لیتے اور اپنے دفاع کے بدلے میں کسی کو کچھ دیں گے بھی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہمارے تعلقات مثالی ہیں۔ سعودی عرب امریکا سے اسلحہ مفت میں نہیں لیتا بلکہ اپنے پیسوں سے خریدتا ہے۔

امریکی ٹی وی چینل ‘بلومبرگ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محمد بن سلمان نے کہا کہ 2021ء تک سعودی عرب کی تیل کمپنی ‘ارامکو’ کے اثاثے ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔بتادیں کہ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے حوالے سے ایک متنازع بیان سامنے آیا جس میں انہوں‌ نے دعویٰ کیا تھا کہ سعودی عرب کی بادشاہت ان کے دم سے قائم ہے اور امریکہ اپنا ہاتھ کھینچ لے تو سعودی بادشاہت دو ہفتے بھی نہ نکال سکے۔ اسی حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں سعودی ولی عہد نے کہا کہ سعودی عرب اور امریکہ کے باہمی تعلقات برسوں پر محیط ہیں۔ سعودی عرب 1744ء یعنی امریکہ کے قیام سے بھی 30 سال پہلے موجود تھا۔انہوں‌ نے کہا کہ سابق امریکی صدر باراک اوباما 8 سال تک اقتدار پر فائز رہے اور انہوں‌ نے نہ صرف سعودی عرب بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں ہمارے ایجنڈے کے خلاف کام کیا۔ امریکا نے ہمارے ایجنڈے کے خلاف کام کیا اس کے باوجود ہم نے اپنے مفادات کا تحفظ کیا۔ نتیجتاً ہم کامیاب رہے اور امریکا ناکام ہوا۔ اس کی مثال مصر میں دیکھی جاسکتی ہے۔

Facebook Comments