ساگر تیمی

 

 مغرب کی نماز کے بعد کا وقت تھا ، ایک پتہ بھی نہیں ہل رہا تھا ، نماز بعد کئی لوگ تالاب کے  کنارے بیٹھ گئے تھے کہ وہاں کچھ راحت محسوس ہوگی لیکن گرمی ایسی تھی کہ کہیں چین نہ پڑتا تھا ۔  خبیب بھی نماز بعد وہیں بیٹھ گیا تھا تبھی اس کے دوست صابر نے کہا :

یار خبیب بھائی ! ایک تو یہ شدت کی گرمی ہے ، اوپر سے آپ کے محلے والے ماحول گرما ئے ہوئے ہیں ۔

خبیب : میں کچھ سمجھا نہیں ؟ ہمارے محلے والوں نے کیا کیا ؟

صابر : ارے یار ! آج پھر نتھو چچا کی پنچایت ہے ، وہی ساس نند بھوجائی کا مسئلہ ہے ۔

خبیب : اچھا ! مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا !!

صابر : لو ، کس دنیا میں رہتے ہیں حضور کہ پتہ نہیں ، جناب عالی ! پچھلے تین مہینوں میں یہ تیسری پنچايت ہے ۔

خبیب ! تو پھر پہلی دو پنچایتوں میں کیا ہوا ؟ مسئلہ حل نہيں ہوا ؟

صابر : نہیں ہوا ، تبھی تو تیسری بار بیٹھنا پڑ ے گا سب کو ۔ویسے یہ سب پنچایت کرنے والے بھی گدہے ہی ہیں ۔ جڑ میں کوئی جاتا نہیں اور مسئلہ جوں کا توں باقی رہ جاتا ہے ۔

خبیب : مسئلے کی جڑ کیا ہے ؟

صابر : بھائی مسئلے کی جڑ آپ کو پنچایت کے بعد بتاؤں گا ۔۔۔۔

  کچھ دیر بعد گاؤں کے مکھیا ، سرپنچ اور بقیہ بہت سے لوگ جمع ہوگئے ۔ بہو کی طرف سے اس کے بھائی نے خلاصہ کیا کہ کس طرح اس کی بہن پر ظلم ہوتا ہے ، کھانا وہ بناتی ہے اور اسےہی ٹھیک سے کھانے کو نہيں ملتا ، اس کے بچوں کو کسی کا پیار نہیں ملتا  اور دن بھر نوکر کی مانند اس سے کام کرایا جاتا ہے ۔ پھر اوپر سے طعن و تشنیع الگ سے ہوتی ہے ، کبھی ساس گالی دیتی ہے تو کبھی نندیں پریشان کرتی ہيں اور جہاں تک شوہر کی بات ہے تو وہ ماں بہن کے چنگل میں اس طرح پھنسا ہوا ہے کہ وہ کچھ کرنہيں پاتا ۔۔۔۔۔۔

اس خلاصے پر ابھی پنچایت کی طرف سے کوئی رد عمل نہيں آیا تھا ، اس سے پہلے بوڑھے نتھو نے اپنی بات رکھنی شروع کردی اور یہ الزام رکھا کہ میرے گھر کو بدنام کیا جارہا ہے ، سچی بات یہ ہے کہ میری بہو کو کوئی تکلیف نہیں دی جاتی ، میری بیوی اور بیٹیاں سب اچھی خواتین ہیں ۔ بار بار اس طرح سے پنچایت بلاکر بدنام کرنے کی سازش رچی جارہی ہے لیکن ہم ایسی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ مجھے بتایا جائے کہ کس گھر میں اس قسم کا مسئلہ نہیں ہوتا ۔۔۔۔

  اب کہ مکھیا جی سے رہا نہیں گیا اور انہوں نے نتھو چچا کو ڈانٹتے ہوئے کہا : سب گھر میں ہوتا ہے لیکن بات پنچایت تک نہیں آتی ، آپ معاملہ اپنے گھر میں نہيں حل کرپاتے اس لیے پنچایت تک آتی ہے ، آپ ایک کمزور مرد ہیں ۔۔۔

مکھیا جی کی بات پر ایک طرف قہقہے چھٹے تو دوسری طرف چہ می گوئیاں ہوئیں ۔ کچھ دیر بعد پھر بحث شروع ہوئی اور پھر وہی فیصلہ جو ہونا تھا وہ ہوا ۔ سر پنچ جی نے نتھو چچا کو سمجھایا کہ گھر میں سب لوگ پیار محبت سے رہیں ، ایک دوسرے کا احترام کریں اور جائزحق ایک دوسرے کو دیں ۔ انہوں  نے وارننگ دی کہ آئندہ اگر پنچایت کو پریشان کیا گیا تو اچھی بات نہيں ہوگی ۔

  خبیب نے صابر کو پکڑا کہ اب تو ماشاءاللہ سمجھا دیا گیا ۔ بتاؤ جڑ کہاں ہے ؟

صابر :  خبیب بھائی ، ہمیں تو پہلے سےہی پتہ تھا کہ پنچایت میں یہی ہوگا ۔

خبیب : اچھا ! وہ کیسے ؟

صابر : اس سے پہلے کچھ اور ہوا تھا کیا ؟

خبیب : خیر ! آپ ہی سمجھائیے کہ مسئلے کی جڑ کیا ہے ؟

صابر : بات سیدھی سی ہے ۔ نتھو چچا کی تین بیٹیاں ہیں اور ما شاءاللہ تینوں کی شادی ہوگئی ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تینوں اپنی اپنی سسرال رہتیں لیکن ایسا ہے نہیں ۔ ان میں سے دو یہیں ڈیرا ڈالے رہتی ہیں ۔ گھر کا کوئی کام کرتی نہیں ہیں ، مست البیلی مہارانی کی طرح کھاتی ہیں اور گھر پرحکومت چلاتی ہیں ۔ بہو بے چاری کھانا بناتی ہے تو کھانے میں عیب نکالتی ہیں اور ماں کو اکسا اکسا کر لڑائیاں کرواتی ہیں ۔ خود طعنے دیتی ہیں اوریوں اس بے چاری بہو کا جینا دوبھر دو جاتا ہے ۔ ماں باپ کا عالم یہ ہے کہ ساری خدمت تو بہو کرتی ہے اور سارا لاڈ پیار پوتوں اور پوتیوں  کی بجائے نواسوں اور نواسیوں پر نچھاور کرتے ہیں ۔ وہ بے چاری عورت کوئی فرشتہ تو ہے نہیں  ، برداشت کرتی ہے کرتی ہے لیکن پھر حد سے پار ہو جاتا ہے ، انسان ہی تو ہے ، کبھی کچھ زبان سے نکل جاتا ہے اور یوں یہ سب اس پر پل پڑتے ہیں ۔ نتھو چچا کو اس بات کا احسا س بھی ہے لیکن وہ بھی کچھ کر نہیں پاتے ہیں ۔بیٹیاں بڑی منہ زور ہیں اور بیوی پر تو ان کا بس ایسے بھی نہيں چلتا ۔

خبیب : اگر ایسا ہے تو انہيں کوشش کرنی چاہیے کہ بیٹیاں اپنی اپنی سسرال بسے ، سارا مسئلہ ہی حل ہو جائے گا ۔

صابر : مسئلے کا واقعی حل تو یہی ہے لیکن یہ بات کیاآپ نتھو چچا کو سمجھا سکیں گے ؟

   دوسرے دن  خبیب نے عصر کی نماز کے بعد نتھو چچا سے باضابطہ ملاقات کی اور باتوں باتوں میں رات کی پنچایت کا ذکر چھیڑ ا ۔ انہوں نے وہی باتیں دہرائیں جو انہوں نے پنچایت میں کہی تھیں  لیکن خبیب کو تو مسئلے کی حقیقت معلوم تھی ۔ اس نے اطمینان سے ان کی بات سنی ضرور لیکن ان سے کہا :

چچا ! بات یہ ہے کہ اس طرح تو پنچایت پر پنچایت ہوتی رہے گی اورگھر کی بدنامی ہوتی رہے گی ۔ مسئلے کا حل تو تب ہوگا جب ہم مسئلے کی جڑ تک پہنچیں گے ۔

نتھو چچا : بابو ! آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ؟

خبیب : بات یہ ہے چچا کہ جب ہماری بہنوں کی الحمد للہ شادی ہوچکی ہیں تو انہیں اپنی سسرال میں رہنا چاہیے ۔ شادی شدہ لڑکی جب میکے میں زیاد ہ دنوں تک رہتی ہے تو مسائل پیدا ہوتے ہی ہیں ۔ دیکھیے اس کا کئی نقصان ہوتا ہے ۔ بیٹیوں کو گھر بسانے کا جو موقع ملنا چاہیے وہ نہیں مل پاتا ۔ ان کےبچوں کو دادا دادی کا جو پیار ملنا چاہیے وہ نہيں مل پاتا اور عام طور سے نانیہال میں زياد ہ ہی توجہ ملتی ہے اس لیے وہ بالعموم خراب بھی ہو جاتے ہیں اور اس پر سے گھر میں موجود بہو اور ا س کے بچوں میں حسد اور احساس کمتری کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور یوں سارا چین جاتا رہتا ہے اور گھر جنت نظیر ہونے کی بجائے جہنم کا نمونہ پیش کرنے لگتا ہے ۔

نتھو چچا : بابو ! آپ صحیح کہتے ہیں ۔ میں بھی اس حق میں نہیں ہوں کہ بیٹیاں یہاں رہیں لیکن آپ کی چچی نہیں مانتیں وہ الٹے مجھے کوسنے لگتی ہیں کہ ایک تو جہاں تہاں بیٹیوں کی شادی کردی اور ایک یہ چاہتے ہو کہ میری بیٹاں وہاں رہ کر مر کھپ جائیں ۔ بیٹیاں بھی آپ کی چچی کی طرفدار ہیں ، اس لیے میں چاہ کر بھی کچھ نہیں کرپاتا ۔

خبیب : آپ نے کبھی اپنے داماد لوگوں سے ذکر نہيں کیا ؟

نتھو چچا : زن مرید ہیں سب ۔ وہ بھی کمبخت اسی میں خوش ہیں اور ہمارا گھر برباد ہوتا جارہا ہے ۔ بابو ! آپ ہی کبھی چچی سے بات کرکے دیکھتے ۔۔۔

خبیب : جی چچا ! میں ضرو ر بات کروں گااور آپ کے بیٹے کو بھی سمجھاؤں گا

نتھو چچا : ارے بابو ! اب تک تو گھر اسی لیے بچا ہوا ہے کہ اس نے اپنی سمجھداری نہیں چھوڑی ۔ اسے کچھ مت کہیے گا ۔

 لیکن  جب خبیب نے صابر سے پوری تفصیل بیان کی تو صابر نے اسے سختی سے منع کیا اور کہا : اگر اپنی عزت عزيز ہے تو اس بھیڑ کے چھتے میں ہاتھ مت لگانا ۔ نتھو چچا کی عورت بہت عجیب عور ت ہے ، سارا محلہ سر پر اٹھالے گی اور آپ کو وہ وہ سننا پڑے گا جو آپ نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا ۔ ا س لیے اس چیپٹر کو یہیں کلوز کیجیے اور چادر تان کر گھر میں آرام کیجیے جو ہونا ہوگا ہوکر رہے گا ۔ خبیب وہاں سےاپنے گھر آیا تو اسے نتھو چچا کی بے بسی پرترس ضرور آیا لیکن وہ سمجھ رہا تھا کہ جب تک مسئلے کی جڑ ختم نہیں ہوگی مسئلہ ختم نہیں ہوگا ۔۔۔

Facebook Comments

7 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here