افسانہ

ساگر تیمی

 

فائز کی طبیعت اب اتنی زياد ہ خراب ہوگئی  تھی کہ اسے ہر صورت میں شہر کو چھوڑ کر گھر جانا تھا ۔اس کی ماں پھٹے پرانے کپڑے میں گاؤں سے آگئی تھی کہ اپنے لال کو دیکھ سکے ۔ ماموں اور دوسرے رشتے دار بھی آگئے تھے لیکن سوال یہ بھی تھا کہ گھر جانا تو مسئلے کا حل نہيں ہے ۔ گاؤں میں فضا خوشگوار ہے تو مناسب ڈاکٹر کی کمی ہوگی ۔ اس کے ماموں نے زور دیا کہ وہ ان کے یہاں چلے اور وہاں ماہر اطباء سے ملے ، اللہ کی ذات سے یقین ہے کہ فائز ٹھیک ہو جائے گا ۔ ماموں کی شفقت اور حالات کی نزاکت دونوں اس بات کے متقاضی تھے کہ فائز تیار ہو جائے اور ہوا بھی وہی حالانکہ فائز کی بیوی زرین اس فیصلے کے حق میں نہیں تھی لیکن فائز کو بہر حال اپنی زندگی پیاری تھی ، اس لیے اسے یہ قدم اٹھانا ہی پڑا ۔

اللہ کا کرنا دیکھیے کہ ماموں کے یہاں فائز کی طبیعت سنبھلنے لگی ، ڈاکٹر نے پوری ایمانداری اور توجہ سے علاج کیا اور اس کے بڑے اچھے اثرات مرتب ہوئے  ۔ فائز ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ہی سب کچھ کرتا ۔ اس کے کھانے پینے کی پوری تفصیل ڈاکٹر نے لکھ کر دے دی تھی اور اسی کے مطابق اسے چلنا تھا ۔ اسے اپنے ماموں کی محبت و شفقت تو حاصل تھی ہی اس کے مامو زاد بھائیوں کا رویہ بھی بہت معاون اور ہمدردانہ تھا ۔ وہ سب اس کا بہت خیال رکھتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ فائز کو کوئی تکلیف نہ ہو ۔ ویسے بھی فائز اپنے رشتے داروں میں ایک مہذب اور محترم آدمی کی پہچان رکھتا تھا  لیکن آدمی تو آدمی ہی ہوتا ہے ۔ زندگی میں کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ ایسے گوشے ہوتے ہیں جہاں آدمی کمزور پڑ جاتا ہے ۔

  فائز کے پاس روز گار اچھا تھا ، لوگوں کے بیچ پہچان اچھی تھی ، اللہ نے آل و اولاد سے نوازا تھا اور سب کی تربیت اچھے ڈھنگ سے ہورہی تھی لیکن ایک معاملے میں بدنصیب واقع ہوا تھا ۔ اس کی شادی کے وقت سے ہی اس کی ماں اور اس کی بیوی کےبیچ رشتہ خوشگوار نہیں رہ پایا تھا ۔حالاں کہ اس نے اپنی طرف سے رشتے کو بہتر کرنے کی کم کوشش نہیں کی تھی لیکن اسے اس معاملے میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی تھی ۔ گھرپریوار اور رشتے کے لوگ بالعوم اس معاملے میں اسے زن مرید کے طور پر دیکھتے تھے چنانچہ جہاں اس کی اچھائیوں کا ذکر آتا تھا وہیں اس کے ساتھ یہ لاحقہ یا سابقہ ضرور جوڑ دیا جا تا تھا ۔

فائز کے مامو زاد بھائیوں میں سب تو سیدھے تھے اور اس کا احترام بجا لاتے تھے لیکن نیر احترام کرنے کے باوجود تھوڑا شوخ واقع ہوا تھا ۔ یہ موقع بھی ایسا تھا کہ دونوں کو ایک ساتھ وقت گزارنے کا اچھا موقع مل گیا تھا ۔ نیر فائز کی خدمت بھی کرتا ، اس کی دواؤں اور غذاؤں کا خاصا خیال رکھتا لیکن موقع بہ موقع کچھ نہ کچھ سوال داغ بھی دیتا ۔

ایک روز اس نے باتوں باتوں میں کہا : ویسے فائز بھائی جان جو کہیے آپ بھابی جان سے ڈرتے بہت ہیں ۔

فائز نے مسکراکر ٹالنے کی کوشش کی لیکن نیر نے طے کرلیا تھا کہ آج حقیقت منواکر ہی رہے گا ۔

نیر : بھائی جان ! مسکرانے سے کام نہیں چلے گا ۔ مانیے کہ آپ کا بھابی پر کوئی بس نہيں چلتا ۔

فائز : بابو ! ابھی آپ بچے ہیں ۔ بات یہ ہے کہ آپ کی بھابی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیر چھوڑیے اور بتائيے کہ آپ نے اب تک کہاں تک کی پڑھائی مکمل کی ہے ۔

نیر : اوہوں بھیا! ہم چھوڑنے والے نہیں ہیں ۔ آپ کو کیسے اچھا لگتا ہے کہ آپ اپنے بوڑھے باپ  ماں کو چھوڑ کر اپنے بچوں میں مست رہتے ہیں ۔ آپ کو اچھا لگتا ہے ؟

فائز :  کسے اچھا لگتا ہے ؟ کون ہے جسے ماں باپ سے محبت نہيں ہے لیکن آپ سمجھوگے نہيں ۔

نیر : واہ ! ایسا کیا ہے کہ آپ سمجھائیں گے اور میں سمجھوں گا نہیں ۔

فائز : ایسی بات ہے تو سنیے ۔ میں نے جان بوجھ کر ایک نسبۃ کمزور گھرانے میں  شادی کی کہ وہ لڑکی جب گھر آئے گی تو ماں باپ کا خیال رکھے گی اور  ہماری زندگی خوب اچھی گزرے گی لیکن سوئے اتفاق کہ امی اور زرین کے رشتے اچھے نہيں رہ پائے ۔ شروع شروع میں کوشش بھی کی اور امید بھی رکھی کہ ان شاءاللہ آہستہ آہستہ رشتہ اچھا ہوجائے گا ۔ اپنے سماج میں ساس بہو کا جھگڑا عام بات ہے ۔اس لیے کوئی بہت زيادہ پریشان ہونے کی با ت نہیں تھی ۔ میں ایک کمزور پریوار کا آدمی ۔ روزی روٹی کی تلاش میں شہر میں رہنا ہوتا ہی تھا ۔ روزگار کی پریشانی میں انسان کو یاد ہی کیا رہتا ہے ۔ گھر آتا تو یہ مسئلہ رہتا جسے سنبھالنے کی کوشش ہوتی ۔ اس بیچ چار پانچ سال کس طرح گزر گئے پتہ ہی نہ چلا ۔ اللہ کی شان کہ اسی بیچ دو تین بچے بھی ہوگئے  اور دیکھتے دیکھتے بچے اسکول جانے کے لائق بھی ہوگئے ۔ گاؤں میں ناقص تعلیمی وسائل کے پیش نظر بہتر یہی سمجھا گیا کہ بچوں کو شہر ہی لے جایا جائے ۔ کوشش بھی رہی اور کافی منت سماجت بھی کی کہ والدین بھی وہیں ساتھ رہیں لیکن وہ کسی طرح تیار نہ ہوئے ۔ ہمارے یہاں کی معاشرتی زندگی میں انسا ن کی شادی ایک مرتبہ ہی ہوتی ہے ، آپ آسانی سے طلاق بھی نہيں دے سکتے ۔ کیا کیا کورٹ کچہری ، جیل ، پولیس داروغہ ہو جاتا ہے ۔ ہمارے پاس لے دے کر ایک ہی آپشن تھا کہ آپ کی بھابی کو طلاق دے دیں لیکن بچوں کی موجودگی اور طلاق کی سنگینی دونوں اس راہ میں مانع تھی ۔ آپ کی بھابی اور ابو امی کے رشتے کبھی خوشگوار نہیں ہو پائے ۔ دونوں طرف سے معاملہ انتہا کا رہا ۔ کسی نے بھی جھکنا گوارا نہيں کیا ۔

نیر : شاید آپ نے بھابی پر کبھی سختی کی ہی نہیں ہو ۔۔

فائز : نہیں بیٹا ! ایسی بات نہیں ۔ ایک سمجھدار مر د وہ سب کچھ کرتا ہے جو وہ کرسکتا ہے اور اللہ جانتا ہے کہ میں نے کیا کیا کیا لیکن شاید کوئی کمی رہ گئی ہو کہ یہ بیل منڈھے نہ چڑھ پایا ۔میرے لیے ا س کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہ گیا کہ لوگوں کے سارے جائز ناجائز طعنے سنوں ، والدین کی  شکایتوں کو سنوں ، بیوی کی جھڑکیاں برداشت کروں اور بچوں کی تربیت اور ایک شریفانہ زندگی کے لیے سب انگيز کرتا جاؤں ۔ میں نے ایک اسٹیج پر یہ فیصلہ لیا کہ دونوں ایک دوسرے سے الگ رہیں گے تو شاید یہ ناخوشگواری خوش گواری میں تبدیل ہوجائے  اور یوں والدین گھر پر رہ گئے اور مجھے بچوں اور آپ کی بھابی کے ساتھ شہر آجانا پڑا جس میں بچوں کی تعلیم بھی بنیاد ی وجہ تھی ۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ میری ذات سے والدین کو کبھی کوئی تکلیف نہ پہنچے ، میں نے کبھی ان کی کسی بات کا جواب نہیں دیا ، حسب استطاعت ان کی خدمت اور فرمانبرداری کرتا رہا لیکن بیوی کو طلاق دینا میرے بس کا نہیں تھا اور سوائے اس کے اور کوئی حل بھی نہیں تھا ۔ اب نیر تم خود طے کرو کہ تم ہوتے میری جگہ تو کیا کرتے ؟ یار ! مولانا صاحب نے جو نکحت ، قبلت اور تزوجت کہلوایا تھا وہ اپنے سماج میں بہت مضبوط تھا اور سمجھو کہ آج تک اسی بوجھ تلے دبا ہوں ۔

 نیر : بھیا ! اس حساب سے تو سب سے زياد ہ مظلوم آپ ہی ہیں  لیکن اس کا اظہار تو کہیں نہیں ہوتا ۔

فائز : بابو ! جس طرح آپ اور دوسرے لوگ مجھے اس قسم کی باتیں کہ دیتے ہیں ، آپ کو کیا لگتا ہے کہ میں کوئی بے حس آدمی ہوں ، مجھے چوٹ نہيں لگتی ، کیا میری خواہش نہیں رہتی ہے کہ میرے والدین اور میری بیوی کے درمیان بھی دوسرےگھروں کی طرح خوش گپیاں رہتیں ، محبتوں کی پچکاریاں چھوڑی جاتیں اور بچوں کی کلکاریوں کے بیچ آپس کی الفت و محبت کے ترانے گنگنائے جاتے ؟نیر، تھوڑی دیر کے لیے تم غور کرو کہ اس طرح کی صورت حال میں تم کیا کرتے ؟  میں ایسا فرد ہوں کہ والدین سے لے کر سماج تک کو زن مرید لگوں اور بیوی کے پاس جاؤں تو اس سے بے التفاتی اور ناقدری کی شکایتیں سنوں اور تجزیہ کرنے بیٹھوں تو دل کرے کہ خودکشی کرلوں کہ سارے غم سے نجات مل جائے۔۔۔۔۔۔۔۔

نیر : بھیا! بہت معذرت خواہ ہوں ۔ اب کبھی آپ مجھ سے اس قسم کی بات نہ سنیں گے ۔ میری سمجھ میں ساری بات آگئی ۔

فائز : مسکراتے ہوئے ، آپ کی سمجھ میں بات آبھی گئی تو کیا ہوا ۔ میں بھلا آپ کی طرح کتنوں کو سمجھاتا پھروں گا اور پھر کتنے ہیں جو میرا درد سمجھ پائیں گے ۔ میں تو آپ سے اس لیے بول پایا کہ آپ پھر بھی پڑھے لکھے سجھدار ہیں ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔

نیر : ان کی با توں پر کچھ کہتا اس سے پہلے ہی اس کے والد وہاں آگئے اور نیر وہاں سےقبلت ، تزوجت اور نکحت کی گردان کرتا ہوا باہر نکل گیا ۔۔۔۔

Facebook Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here