سرینگر:جموں کشمیر کے مشہور ومعروف روزنامہ رائزینگ کشمیر کے مدیر شجاعت بخاری پر گزشتہ روز دہشت گردانہ حملے کا شکار ہونا پڑا اور اپنی جان گنوانی پڑی ۔اس حملے سے متعلق آج پولس نے بڑا انکشاف کیا ہے۔کشمیر کے آئی جی پی نے کہا کہ ہمارے پاس پختہ ثبوت ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شجاعت بخاری کے قتل کی سازش پاکستان میں رچی گئی تھی۔اس کے پیچھے دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کا ہاتھا ہے۔آئی جی پی کشمیر ایس پی پانی نے پریس کانفرنس میں چار ملزمان کی تصویر جاری کرتے ہوئے بتایا کہ یہ چاروں لشکر کے جنگجو ہیں ۔اس سے پہلے جرنسلٹ کے قتل کے بعد سامنے آئی سی سی ٹی وی فوٹج ان میں سے تین ایک موٹرسائیکل پر سوار نظر آرہے ہیں ۔چوتھا ملزم جیل سے فرار ناوید جٹ ہے جو پہلے بھی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شامل رہا ہے۔آئی جی پی نے کہا کہ ان چاروں ملزمان میں ماسٹر مائنڈ سجاد گل ہے جو کہ سری نگر کا ہے لیکن اس وقت پاکستان میں ہے۔سجاد گل اس سے پہلے نئی دہلی اور سیر نگر میں دہشت گردانہ واقعات میں پکڑا گیا تھا ۔۲۰۱۷ میں وہ پاکستان بھاگ گیا ،اس کیلئے لوک آوٹ نوٹس جاری کیا گیا ہے۔سجاد نے ہی سجاعت بخاری کے قتل سے پہلے سوشل میڈیا پر شیئر ہورہے بلاگ اور پوسٹ تیار کیے تھے۔پولس کے مطابق کچھ میسج کے علاوہ ایک ٹوئٹر اکاونٹ سے بھی مسلسل ایک جیسے میسج شیئر کیے جارہے تھے۔اور جانچ میں پتہ چلا کہ انہیں پاکستان سے ہینڈل کیا جارہا تھا۔سجاد کے علاوہ دیگر ملزمان میں لشکر طیبہ کے رکن سجاد احمد ملک،مظفر احمد اور پولس کسٹڈی سے فرار ناوید جٹ بھی شامل ہے۔پولس ان تمام کو تلاش کر رہی ہے اور آگے کی کارروائی جاری ہے۔

Facebook Comments

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here